ابلیسیت کی پہچان ۔۔۔ تکبر تکبر کا انجام ۔۔۔ زندانِ لعنت

aaj-ki-bat-logo


جب ظالم مظلوم بنتا ہے تو آدمی سوچے بغیر نہیں رہتا کہ خدائے بزرگ و برتر کِس کِس انداز میں اپنے قادرِ مطلق ہونے کی نشانیاں ہمارے سامنے لاتا ہے۔
مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی عار نہیں کہ 1990ءکے بعد میری پوری زندگی میاں نوازشریف کے ساتھ حا لتِ جنگ میں گزری ہے۔ یہاں میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس دشمنی کی وجہ میاں نوازشریف کا کوئی اقدام یارو یہ نہیں تھا۔ میری اپنی سو چ تھی۔ مجھے یہ احساس 1990ءسے بھی پہلے ہوگیا تھا کہ اگر وطن ِ عزیز میں ” اقتدار“ میاں نوازشریف کی جھولی میں جاگرا تو یہاں کے عوام` عوام نہیں رہیں گے ` اشیائے صرف کی مانند قابلِ استعمال ہجوم کا درجہ اختیار کرلیں گے۔ میں ایک عرصے سے میاں صاحب کو جانتا تھا۔ 1979ءمیں وہ تحریک استقلال کی نیشنل ورکنگ کمیٹی میں میرے ساتھ تھے۔ مجھے ایک ایسا ڈنر بھی یاد ہے جس کے میزبان میاں صاحب تھے۔ جگہ اِن کا ماڈل ٹاﺅن والا گھر تھا۔ مہمان خصوصی تحریک استقلال کے سربراہ ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان تھے۔ شرکاءمیں تحریک استقلال کی نیشنل ورکنگ کمیٹی کے ارکان تھے۔ مجھے وہاں عبدالحفیظ کا ردار کی موجودگی بھی یاد ہے ` چوہدری اعتزاز احسن کی موجودگی بھی یاد ہے ` محمود قصوری مرحوم کی موجودگی بھی یا د ہے ` خورشید محمود قصوری کی موجودگی بھی یاد ہے۔ اور بھی بہت سارے معروف لوگوں کی موجودگی بھی یاد ہے۔ وہ ” بلند آواز “ تلخ کلامی بھی یاد ہے جو محمود قصوری اور ان کے بیٹے خورشید محمود قصوری کے درمیان ہوئی تھی جس میں بیچ بچاﺅ میاں نوازشریف کو کرنا پڑا تھا۔
یہ داستان 38برسوں پر محیط ہے۔ 1981ءمیں جب میں نے میڈاس کی بنیاد رکھی تو افتتاحی تقریب کی صدارت میاں نوازشریف نے کی تھی۔ مہمان خصوصی مرکزی وزیراطلاعات راجہ ظفر الحق تھے۔ مجھے یاد ہے کہ راجہ صاحب اِس بات پر بدظن ہوئے تھے کہ ایک ” یوں ہی سے نظر آنے والے لڑکے “ کو ان کے برابر اہمیت دی گئی تھی۔ تب میاں صاحب اگرچہ پنجاب کے وزیر خزانہ تھے لیکن لگتے ” یوں ہی سے نظر آنے والے نوجوان “ تھے۔
کوئی نہیں جانتا تھا کہ ” یوں ہی سا“ نظر آنے والا یہ نوجوان نہ صرف یہ کہ ملک کا وزیراعظم بنے گا اور بار بار بنے گا` بلکہ یہ بھی کہ اس کے اردگرد ملک کی سیاست گھوما کرے گی۔
1984ءمیں جب میاں صاحب نے غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لیا تو انہوں نے اپنی ” تشہیری ضروریات“ کے لئے میرے ہی دفتر کا رخ کیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے رسماًان کا تعارف اپنے ” کریٹیو“ ڈائریکٹر پروفیسر شعیب ہاشمی سے کرایا تو شعیب ہاشمی نے بڑے برجستہ انداز میں کہا۔ ” ہاں ہاں میں اسے جانتا ہوں۔ میرا شاگرد تھا۔ بڑا ہی نالائق ۔۔۔۔“
میں اس برجستگی پر پریشان ہوگیا تھا مگر میاں صاحب نے برُا نہیں منایا تھا۔ شعیب ہاشمی نے بھی فوراً ہی وضاحت کردی تھی۔ ” وہ تو پرانی بات ہوگئی۔ اب تو وزیر بن چکے ہیں ۔ ماشاءاللہ“۔
مجھے یاد ہے کہ اُن ہی دنوں ایک میٹنگ کے دوران میں نے میاں صاحب سے مذاقاً کہا تھا۔ ” ایڈورٹائزنگ اس قدر موثر ہتھیار ہے کہ اگر آپ دس کروڑ خرچ کریں تو ہم آپ کو وزیراعظم بنوا سکتے ہیں۔“ شعیب ہاشمی اپنے مخصوص انداز میں بول پڑے تھے ” ہاں ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے اِس ملک میں۔۔۔“
میاں صاحب اس موقع پر بولے تھے۔ ” وزیراعظم تو میں بنوں گا ہی اکبر صاحب۔۔۔“
سات برس بعد ایک صبح مجھے شعیب ہاشمی کا فون آیا۔۔۔
” تمہاری زبان کالی ہے وہ وزیراعظم بن گیا ہے۔۔۔“
کہنا میں یہ چاہ رہا ہوں کہ میں میاں صاحب کو قریب سے جاننے لگا تھا۔ اور تاریخ پڑھنے کے شوق نے میرے اندر جو شعور پیدا کیا تھا وہ مجھ سے کہہ رہا تھا۔۔۔” اِس شخص سے دور رہو۔ یہ ایک تاجر ہے۔ یہ تمہیں خرید لے گا۔“
میں بکنا نہیں چاہتا تھا۔ میں محترمہ بےنظیر بھٹو کے کیمپ میں چلا گیا۔
پھر میں نے دیکھا کہ ” یوں ہی سا “ نظر آنے والا ” نوجوان “ وزیرعظم بننے کے بعد کتنی تیزی کے ساتھ ”شوقِ شہنشاہی“ میں گرفتار ہوا۔شوقِ شہنشاہی جب شوقِ جستجوئے مال حرام کے ساتھ ملا تو ایک نئے نوازشریف نے جنم لیا جسے ” روایاتِ فرعونیت“ کا چلتا پھرتا اشتہار کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔
مریم نوازشریف اپنے والد کا نقشِ ثانی لگتی ہیں۔ ان کے طور طریقے دیکھ کر نجانے کیوں مجھے ہندہ بنت عتبہ (زوجہ ءابوسفیان)یاد آجاتی ہے۔ اسے بھی ” تکبر اور عناد“ کے مرّکب نے ہڑپ کرلیا تھا۔ وہی کچھ مریم نواز کے ساتھ ہوا ہے۔
چند ہی روز قبل وہ ” شمشیر برہنہ“ کو لہرا لہرا کر کہہ رہی تھیں۔ ” ہماری بدخواہی میں سازشوں کا جال بچھانے والو۔ لوگ دیکھیں گے کہ تمہارے سر کیسے قلم ہوتے ہیں!
26اکتوبر2017ءوالی مریم نواز اس ہندہ کی مانند تھی جس سے ابوسفیانؓ نے کہا تھا۔ ” وہ آرہا ہے ۔ اتنے بڑے لشکر کے ساتھ کہ جو سر بھی اکڑے گا کٹ جائے گا۔“
کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ شعر کس کا ہے ؟
تکبّرعزازیل راخوار کرد
بہ زندانِ لعنت گرفتار کرد
(تکبر نے شیطان کو ذلیل کرکے رکھ دیا وہ لعنت کے قید خانے میں رہنے پر مجبو رہے)

Scroll To Top