یہ لوگ کون ہیں اور کیوں ہماری شامتِ اعمال کی صورت بنے ہوئے ہیں؟

aj-ki-baat-new

یہ لوگ کائنات کے کس سیارے سے اس قوم کی شامتِ اعمال کی صورت بن کر کرہءارض کے اس خطے پر اترے ہیں جسے پاکستان کہتے ہیں ؟

یہ جب کوئی بڑا جرم کرتے ہیں تو ان کی قدر و منزلت اور جاہ وجلال میں کمال کا اضافہ ہو جاتا ہے اور وہ درجنون قیمتی گاڑیوں کے قافلے کے ” امیر“ بن کر عدالتوں کا رخ کرتے ہیں جہاں حکومتِ وقت کے وزراءان کے استقبال کے لئے موجود ہوتے ہیں۔ میں صرف نوازشریف کی بات نہیں کررہا ۔ وہ تو اپنی علیل بیوی کو اللہ کے حوالے کرکے اللہ کی پسندیدہ سرزمین پر آئے اور اپنے آئندہ کے اعمال پر ” ہدایات غیبی“ لے کر شاید واپس لندن چلے گئے۔اگر وہ 26اکتوبر2017ءکو عدالت میں پیش ہونے کا فیصلہ کرتے تو قومی خزانے کے حلق سے کچھ چیخیں او ر بلند ہوتیں۔
آپ میں سے وہ ” اہلِ کرم“ جو شریف خاندان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں ` یہ کہیں گے کہ شہزادی ءعالی مقام مریم نواز درجنوں گاڑیوں کا جو قافلہ لے کر جاتی امراءسے نکلیں اس کا قومی خزانے سے کیا تعلق؟ کچھ یہ بھی کہیں گے کہ اگر لاہور کا ہوائی اڈہ عام آدمیوں کے لئے ممنوعہ علاقہ قرار دے دیاگیا تو اسے شاہی خاندان کا استحقاق سمجھ کر قبول کیا جانا چاہئے۔ او ر اگر مریم نواز صاحبہ خصوصی پرواز سے اسلام آباد پہنچیں اور وہاں سے قیمتی گاڑیوں کے ایک نئے قافلے کے ساتھ شاہانہ وقار کے ساتھ عدالت روانہ ہوئیں تو کوئی کیوں رشک وحسد کی آگ میں جلے کہ یہ سب کچھ تو انہیں اللہ نے عطاکر رکھا ہے ۔؟ یہ تو منشائے الٰہی ہے کہ یہ لوگ جب ملزموں کے کٹہرے میں بھی کھڑے ہوںتو اِس شان سے کھڑے ہوں کہ ان کے رعب و دبدے میں کوئی کمی واقع نہ ہو۔۔۔
یہ کس سیارے کی مخلوق ہے جس کے ایک ایک خاندان کو پالنے پر اس ملک کے غریب عوام کو کروڑوں نہیں اربوں خرچ کرنے پڑتے ہیں۔؟ یہ تو ”پینا ڈول “کی ایک گولی بھی اپنی جیب سے نہیں خریدتے۔ اس کے لئے بھی قومی خزانے کا منہ کھولنا پڑتا ہے۔
میری آج کی بات پریشان خیالات پر مشتمل ہے۔ گزشتہ رات میں نے رانا ثناءاللہ کی ایک اور بازاری گفتگو سنی جس میں شاہی محل کے اس دربان نے فرمایا کہ ” اگر ریحام خان نے منہ کھولا یا عائشہ گلالئی کا فون کھل کر سامنے آگیا تو بنی گالہ میں قیام کرنے والے بوڑھے خان کی ساری ” جواں سال“ بدکرداریاں لوگوں کے سامنے آجائیں گی۔ پھر اسے کہیں منہ چھپانے کو جگہ نہیں ملے گی۔
کیا عمران خان کو واقعی خوفزدہ رہنا چاہئے کہ نون لیگ کے پاس یہ جو دو ہتھیار ہیں انہیں وہ کسی بھی وقت زیادہ مہلک انداز میں استعمال کرسکتے ہیں۔؟
رانا ثناءاللہ اور طلال چوہدری وغیرہ سمیت سارے لیگی زعماءجانتے ہیں کہ عمران خان پر اس قسم کے وار کوئی اثر نہیں کرتے۔ جواب میں میاں نوازشریف سے یہ بھی نہیں پوچھا جائے گا کہ ان کی زندگی میں کب کب کہاں کہاں کون کون سی طاہرہ سید یا کِم بیکر وارد ہوئی اور اُن کے اِس ” شوقِ رندانہ“ کے پیچھے کون سازہد اور کون سا تقویٰ کارفرما تھا۔۔۔؟
عوام کو اب صرف یہ جاننے میں دلچسپی ہے کہ جس شاہی خاندان کے ”شوقِ جستجوئے مالِ حرام“ نے وطنِ عزیز پر اربوں کھربوں کے قرضوں کا بوجھ ڈالا ہے وہ زنداں کی دیواروں کے پیچھے پہنچائے جاتے ہیں یا نہیں ۔ وہ جو اس شاہی خاندان کے دربان ہیں ان کے لئے کھلے عام 100 دروں کی بارش ہی کافی ہے۔۔۔۔

Scroll To Top