گالی گلوچ کور کا نیا کمانڈر

aaj-ki-bat-logo

جب سے احسن اقبال نے وزارت داخلہ کا قلمدان طلال چوہدری کے ساتھ مل کر سنبھالا ہے ان کی گفتگو میں اچانک بے پناہ ” شائستگی “ آگئی ہے۔۔۔ اتنی زیادہ ” شائستگی“ کہ دانیال عزیز ` حنیف عباسی اور خود طلال چوہدری کی ” خوش گفتاری “ ماند پڑ گئی ہے۔۔۔
ویسے اصل مقابلہ احسن اقبال صاحب کا اپنے نائب طلال چوہدری سے ہی ہے۔۔۔ کیوں کہ جو بات طلال چوہدری میں ہے وہ کسی اور میں کہاں۔۔۔؟
گزشتہ روز احسن اقبال نے عمران خان کو جن ”القاب“ سے نوازا ان پر بہترین تبصرہ محترمہ شیری رحمان نے ایک پروگرام میں کیا۔۔۔
” میں موصوف کو مہذب اور بھلا مانس شخص سمجھتی تھی لیکن وہ بھی اندر سے ویسے ہی ” انڈے“ نکلے ہیں جیسے انڈوں کا آملیٹ مریم صاحبہ کو مرغوب ہے۔۔۔“
مریم سے شیری صاحبہ کی مراد مریم اورنگزیب نہیں مریم نواز ہے۔۔۔ سنا یہ گیا ہے کہ مریم صاحبہ کو کوئی شخص اگر غلطی سے مریم صفدر کہہ دے تو ان کا ہاضمہ بھی خراب ہوجاتا ہے اور موڈ بھی آف ہوجاتا ۔۔۔ انہیں ایسے شخص کی زوجہ کہلانا پسند نہیں ۔۔۔ ورنہ وہ اپنی کفالت کے خانے میں ابا حضور کی بجائے کیپٹن صفدر کا نام دیتیں۔۔۔ اگرچہ مریم صاحبہ کی اولاد کے والد محترم صفدر صاحب ہی ہیں ` وہ نہیں چاہتیں کہ یہ راز ہر روز لوگوں پر آشکار ہ ہوتا رہے۔۔۔ ویسے صفدر صاحب کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ پندرہ سو درہم ماہانہ پر کرائے کے شوہر رہے ہیں۔۔۔ اب بھی انہیں یہ وظیفہ ملتاہے یا نہیں کوئی نہیں جانتا۔۔۔
بہرحال بات احسن اقبال کی ہورہی تھی ۔۔۔ وہ پوری کوشش کررہے ہیں کہ انہیں ایسے ” القاب “ مہیا کردیئے جائیں یا میسر آجائیں جنہیں عمران خان کے ساتھ منسوب کرکے مریم صاحبہ سے مناسب داد وصول کرسکیں۔۔۔۔
بات صرف یہ نہیں کہ داد مریم صاحبہ دیتی ہیں خود میاں صاحب کی طبیعت بھی با غ باغ ہوجاتی ہے جب کوئی شخص خالص ” طلالی “ زبان میں عمران خان کو شریف خاندان کی پسندیدہ گالیوں سے نوازتا ہے۔۔۔
خبر یہ ہے کہ اگر فوج اور عدلیہ پر گالی گلوچ کے بم برسانے کی پالیسی ترک کی گئی یا اس میں نرمی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تو ہر نئی گالی کے نشانے پر عمران خان ہوا کریں گے۔۔۔
پہلے اس ضمن میں خلعتِ فاخرہ پر نظریں دانیال عزیز ` حنیف عباسی ` عابد شیر علی اور طلال چوہدری وغیرہ کی جمی ہوتی تھیں۔۔۔ اب چوہدری احسن اقبال نے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو ” امیدوارِ اول“ کے طور پر کھڑا کردیا ہے۔۔۔
لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ کافی وقت گوالمنڈی ` لوہاری اور بھاٹی وغیرہ کی گلیوں میں گزارنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔۔۔

Scroll To Top