یک جماعتی نظام نے کثیر الجماعتی جمہوریت کو شکست کیوں اور کیسے دی ہے ؟

aaj-ki-bat-logoملکی سیاست ایک دلچسپ اور عجیب و غریب منظرنامہ پیش کررہی ہے۔۔۔ مسلم لیگ (ن)کے اندر اختیار اور بقاءکی کشمکش شروع ہوچکی ہے۔۔۔ میاں نوازشریف کرپشن کے الزامات میں سزا پانے کے انجام سے بچنے کے لئے فوج اورعدلیہ کو للکار رہے ہیں ` اِس امید پر کہ فوج کے اندر شدید ردعمل پیدا ہوگا اور اس کے نتیجے میں )بقول مریم نواز صاحبہ( 1999ءکی تاریخ دہرائی جائے گی جو میاں صاحب کو دنیا بھر میں یہ واویلا کرنے کا موقع فراہم کرے گی کہ کرپشن وغیرہ کے سارے الزامات فوج نے انہیں گھر بھیجنے اور اقتدار پر قابض ہونے کے لئے گھڑے تھے ۔۔۔ میاں صاحب نے امریکہ کو یہ باور کرانے کی کوششیں ابھی تک ترک نہیں کیں کہ اس خطے میں بدامنی کی وجہ اور پاک بھارت دوستی کے راستے میں رکاوٹ پاک فوج ہے جس کی قوت کو بے اثر بنائے بغیر امریکہ اپنے اہداف اس خطے میں حاصل نہیں کرسکتا۔۔۔جہاں تک پاکستان پیپلزپارٹی کا تعلق ہے وہ پنجاب اور کے پی کے سے فارغ ہونے کے بعد ” سندھ“ میں بھی ایسے چیلنجوں کا سامنا کررہی ہے جن میں مضمر خطرات کے بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دی جاسکتی۔۔۔ زرداری صاحب کی ” مفاہمانہ “ یا ” مفاد پرستانہ “ سیاست پی پی پی کی نظریاتی جڑوں کو دیمک کی طرح چاٹ چکی ہے اور اب لکھی ہوئی تقریریں گلا پھاڑ پھاڑ کر پڑھنے سے مرحومہ بے نظیر بھٹو کے صاحبزادے بلاول دم توڑتے جسم میں جان پیدا نہیں کرسکتے ۔۔۔
تحریک انصاف کرپشن کے خلاف اپنی تاریخی مہم میں بہت بڑی کامیابیاں حاصل کرنے کے بعد ایک طرف ” عدالتی عمل“ کے نتائج کا انتظار کررہی ہے اور دوسری طرف پارلیمانی نظام کے مروجہ اصولوں کے مطابق مختلف انتخابی حلقوں میں ” مضبوط“ امیدواروں کی جستجو میں مصروف ہے۔۔۔ میں اِس ضمن میں یہاں یہی کہوں گا کہ تحریک انصاف کاسارا طلسم عمران خان کی کرشماتی شخصیت کے اردگردگھومتا ہے۔۔۔ اگرچہ عمران خان کی تقاریر سے یہ واضح اشارئے کثرت کے ساتھ ملتے ہیں کہ وہ پاکستان کو اکیسویں صدی کی ریاستِ مدینہ بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں لیکن جس نظام کے اندر وہ اپنے لئے اقتدار کا دروازہ کھولنے کی جدوجہد کررہے ہیں وہ نظام سرے سے ریاستِ مدینہ کی ضد ہے۔۔۔
میں یہاںاس بحث کا ذکر کروں گا جو نظریاتی سیاست اور انتخابی سیاست کے حوالے سے ہوتی رہتی ہے۔۔۔ اس بحث میں کثیرالجماعتی نظام پر مبنی پارلیمانی جمہوریت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔۔۔
اس جمہوریت کے پرچم تلے ابھرنے اور طاقتور بننے والی شخصیات میں میاں نوازشریف ` آصف علی زرداری ` مولانا فضل الرحمن ` الطاف حسین اوراسفند یار ولی خان جیسے روایتی سیاستدانوں کے علاوہ تبدیلی کی آواز بننے والے عمران خان بھی شامل ہیں میں یہاں اُس مشہور بیان کا حوالہ دوں گا جو تاریخ دان نیال فرگوسن نے اُس موقع پر دیا تھا جب چین کو باضابطہ طور پر دنیا کی دوسری بڑی معیشت قرار دیا گیا تھا۔۔۔
” دو دہائیاں قبل ہم چین کی غربت اور اس پر مسلط جابرانہ فکری اور سیاسی مطلق العنانی کا مذاق اڑایا کرتے تھے ۔۔۔ آج یک جماعتی نظام کا عملبردارچین اُن مغربی طاقتوں سے للکار للکار کر کہہ رہا ہے کہ آپ کی کثیر الجماعتی جمہوریت ہمارے یک جماعتی سوشلزم سے ہارچکی ہے۔۔۔ میرے خیال میں ہمیں اپنی جمہوریت میں دبی ہوئی کمزورویوں کو تلاش کرکے چین کی ابھرتی طاقت کا مقابلہ کرنے کا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔۔۔“
اب میں وہ بات کہنا چاہوں گا جس کے لئے میں نے یہ ساری تمہید باندھی ہے۔۔۔
ہمیں بھی سوچنا ہوگا کہ کیا ریاستِ مدینہ میں کثیر الجماعتی نظام رائج تھا؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ریاستِ مدینہ جس سوچ کی پیداوار تھی وہ سوچ آج ہمیں ایک مختلف شکل میں چین کے یک جماعتی نظام کے اندر نظر آتی ہے۔۔۔
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہمیں یک جماعتی نظام ہی اختیار کرناچاہئے۔۔۔ میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ نام نہاد Electables (انتخابات میں کامیاب ہونے کے وسائل رکھنے والے امیدوار) کے رحم و کرم پر چلنے والی جمہوریت کو عمران خان جیسا کرشمہ ساز پرفارمر بھی ” تبدیلی کا ایندھن “ نہیں بنا سکے گا۔۔۔
میرے ذہن میں ون نیشن موومنٹ (One Nation Movement)یا ” ایک قوم تحریک“ کا خیال اسی لئے آیا تھا۔۔۔
یہ ایک ایسی سوچ ہے جس کا وقت آچکا ہے ۔۔۔ اس سوچ کو آگے بڑھانا میرے نزدیک پاکستان کو ریاستِ مدینہ کے راستے پر ڈالنے کا اولین تقاضہ ہے۔۔۔

Scroll To Top