تحقیق کریں کیا ہنگامے کا مقصد کارروائی پر اثرانداز ہونا تھا؟ احتساب عدالت کا حکم

  •  ہنگامہ آرائی اس وقت کی گئی جب مریم نواز اور کیپٹن صفدر پر فرد جرم عائد ہونا تھی،احتساب عدالت نے معاملے پر خدشات ظاہر کر دیئے‘تحریری حکم نامہ جاری
  • عدالت نے سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پولیس کو تحقیقات کر کے ذمہ داروں کیخلاف کاروائی کا حکم دے دیا‘احتساب عدالت کے باہرانسپکٹرکو تھپڑمارنے کا مقدمہ درج

shc-baldiatown-jit-report_2-10-2015_174638_l

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) احتساب عدالت اسلام آباد میں ہنگامہ آرائی کامعاملہ پر عدالت نےاپنا تفصیلی فیصلے جاری کردیا ہے ، جس میں سیکریٹری داخلہ کو واقعے کی تحقیقات کا حکم جبکہ آئی جی پولیس اسلام آباد سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں ہنگامہ آرائی واقعے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیاگیاہے، جس میں عدالت نے پولیس اور وکلا کے درمیان ہونے والے تصادم پر شدید تحفظات اور خدشات ظاہر کئے ہیں۔عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو تحقیقات کا حکم دیتے کہا کہ ہے ہنگامہ آرائی اس وقت کی گئی جب مریم نواز اور کیپٹن صفدر پر فرد جرم عائد ہونا تھی۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تحقیق کریں کہ ہنگامہ آرائی کا مقصد عدالتی کاروائی پر اثر انداز ہونا تو نہیں تھا ، اس سلسلے میں آئی جی اسلام آباد معاملے کی مکمل چھان بین کر کے عدالت کو کارروائی سے آگاہ کریں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز احتساب عدالت میں وکلاءکے ہنگامے کے باعث نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے خلاف فرد جرم عائد نہیں ہوسکی تھی ، جس کے باعث عدالت نے کیس کی سماعت انیس اکتوبر تک ملتوی کردی تھی۔نیب پراسیکیوشن ٹیم نے (ن) لیگی وکلا کی احتساب عدالت میں ہنگامی آرائی کو نیب ٹیم پر حملے کی کوشش قرار دیتے ہوئے رپورٹ ہیڈ کوارٹر بھجوادی تھی دوسری جانب احتساب عدالت نے آئی جی کو واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا تھا۔جبکہ مریم نواز نے احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر وکلا اور پولیس کے درمیان ہونے والے تصادم کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے وزارت داخلہ سے تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

Scroll To Top