آمدن سے زائد اثاثہ ریفرنس، اسحاق ڈار کی8گھنٹے طویل پیشی

  • احتساب عدالت میں اسحاق ڈار کے بینک اکاو¿نٹس کی تفصیلات جمع، ایک اور گواہ طلب‘ سماعت 16اکتوبر تک ملتوی
  • عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات اور اصل کاپی میں فرق ہے‘ جسٹس بشیر احمد کے ریمارکس

اسحاق ڈار احتساب عدالت میں پیش کل فرد جرم عائد ہو گی

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وزیر خزانہ کے خزانوں میں ہوشرہا اضافے کی کھوج لگانے کیلئے احتساب عدالت میں آٹھ گھنٹے طویل سماعت ہوئی۔ استغاثہ کے دو گواہوں کے بیانات قلمبند کئے گئے۔ ایک گواہ نے وزیر خزانہ کے پانچ اکاو¿نٹس کی تفصیل پیش کی تو دوسرا سرمایہ کاری کا کچہ چھٹہ کھولنے میں مصروف رہا۔ طویل سماعت نے اسحاق ڈار اور وزرا کو اونگھنے پر مجبور کردیا۔وزیر خزانہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام، چوتھی پیشی طویل ترین ثابت ہوئی اور8 گھنٹےتک جاری رہی۔نیب کے گواہ بینک ملازم طارق جاوید نے 9 بینک اکاو¿نٹس کی تفصیلات جمع کرائیں۔انھوں نےبتایا کہ پہلا اکاو¿نٹ تبسم اسحاق ڈار جبکہ دیگر 8 اکاونٹس کمپنیوں کے نام پر کھولے گئے۔بینک کے حکم پر نیب لاہور میں اکاو¿نٹ کی تصدیق شدہ کاپیاں فراہم کیں۔قومی سرمایہ کاری ٹرسٹ کے مینجر شاہد عزیز نے بیان میں بتایاکہ اسحاق ڈار نے دو ہزار پندرہ میں بارہ کروڑ روپے کی اسلامی سرمایہ کاری کی۔جنوری دو ہزار سترہ میں اپنی رقم واپس لے لی۔ مجموعی طور پر انہیں ساڑھے پندرہ کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی جو دستاویزات پیش کیں وہ خود تیارکیں نہ ان پر ان کے دستخط ہیں۔اسحاق ڈار کے وکیل نے گواہ کی دستاویزت پر اعتراضات کر دیئےاور کہاکہ اصل دستاویز میں بعدازاں تبدیلی کی گئی،یہ بہت بڑا فراڈ ہے۔جج محمد بشیر نے بھی کہاکہ عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات اور اصل کاپی میں فرق ہے۔طویل سماعت کے باعث ملزم اسحاق ڈار سمیت وزرا اونگھنے لگے۔وزرا کبھی وکلا اور کبھی گھڑی کو گھورتے رہے۔اسحاق ڈار دوران سماعت تسبیح پر ذکر میں مصروف رہے۔عدالت نے سماعت پیر تک ملتوی کرتے ہوئے استغاثہ کے ایک اور گواہ کوطلب کرلیا۔ اسلام آباد (این این آئی)احتساب عدالت میں اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت کے دوران نیب نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے 5 بینک اکاو¿نٹس کی تفصیلات پیش کردیں۔جمعرات کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے آمدن سے زائد اثاثے رکھنے سے متعلق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف نیب کی جانب سے دائر ریفرنس کی سماعت کی۔نیب نے شاہد عزیز اور طارق جاوید کو بطور گواہ پیش کیے جن پر اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث نے جرح کی، شاہد عزیز قومی سرمایہ کاری ٹرسٹ اسلام آباد کے ملازم ہیں جب کہ طارق جاوید لاہور کے نجی بینک میں افسر ہیں۔دوران سماعت استغاثہ کے گواہ طارق جاوید نے اسحاق ڈار کی دو کمپنیوں اور اہلیہ تبسم اسحاق ڈار سمیت 5 بینک اکاو¿نٹس کی تفصیلات عدالت میں پیش کیں۔نیب کے گواہ نے عدالت کو بتایا کہ پہلا بینک اکاو¿نٹ تبسم اسحاق ڈار، دوسرا ہجویری مضاربہ اور تیسرا ہجویری ہولڈنگ پرائیویٹ کے نام پر کھولا گیا جبکہ ہجویری مضاربہ کے اکاو¿نٹس عبدالرشید، نعیم محبوب اور ندیم بیگ آپریٹ کررہے تھے۔گواہ طارق جاوید نے بتایا کہ اسحاق ڈار کی کمپنی ہجویری مضاربہ کی جون 1995 سے جنوری 2001 کی بینک اسٹیٹمنٹ بھی جمع کرائی ہے ، بینک کے حکم پر نیب لاہور میں اکاو¿نٹ کی تصدیق شدہ کاپیاں فراہم کیں۔اس موقع پر اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ گواہ کی دستاویز پر اعتراض ہے، عدالت میں تصدیق شدہ دستاویزات نہیں دی گئیں، کچھ صفحات غائب ہیں، کچھ پر نمبر موجود نہیں اور ترتیب بھی آو¿ٹ ہے، ایسی دستاویزات تو کوئی بھی تیار کر سکتا ہے۔اس موقع پر معزز جج محمد بشیر نے ریمارکس دیے کہ ایسی بات نہیں یہ بینک کی دستاویزات ہیں، تصدیق شدہ کاپی منگوانے کا حکم دے دیتے ہیں۔نیب پراسیکیوٹر عمران شفیق نے کہا کہ گواہ کی شہادت کو ابتدائی شہادت کے طور پر لیا جائے جبکہ وکیل صفائی کا اعتراض درست نہیں، یہ عدالت کا کام ہے کہ وہ شہادت کو بنیاد شہادت تسلیم کرے۔اسحاق ڈار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ہم نے عدالت عظمیٰ میں بھی کہا تھا اس طرح کیس دو دن میں ختم ہوسکتا ہے ،الیکٹرانک ٹرانزکشن ایکٹ 2000 کی شق 12 کا حوالہ ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث نے نیب کی جانب سے پیش کردہ گواہ شاہد عزیز پر جرح مکمل کرلی تاہم دوسرے گواہ طارق جاوید پر جرح مکمل نہ ہوسکی۔ احتساب عدالت نے اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت 16 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے نیب کے گواہ طارق جاوید کو آئندہ سماعت پر دوبارہ طلب کرلیا۔

Scroll To Top