” ہلالِ حیاو حجاب “ 10-04-2012

kal-ki-baat

بات آج میں اپنے ملک کے ” فکری رہنماﺅں“ کے قد کاٹھ کی کرناچاہتا ہوں ۔ یعنی وہ ” فرزندانِ تقدیر“ جن کے ہاتھ میں خدا نے قوتِ تخلیق سے مالا مال قلم دے رکھا ہے اور مگر جن کی ” اقلیم ِضمیر “ میں اندھیرا اس طویل سرنگ جیسا ہوتا ہے جو ظلمت کی ایک رات کو ظلمت کی دوسری رات سے ملاتی ہو۔ میں ان فکری رہنماﺅں کی بات نہیں کررہا جو اس تعریف کے دائرے میں نہیں آتے۔ میرا موضوع وہ ” فکری رہنما “ ہیںجو سوچ کی سوداگری میں ساری عمرگزار دیتے ہیں اور جن کی پہچان میں ایک ایسے پیشہ ور قلمکار کے تعارف سے کراﺅں گا جس کے بارے میںایک صاحبِ نظر نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ اس کا نام گینز بک آف ریکارڈز میں لکھا جانا چاہئے کہ گناہوں کی اس دُنیا کا کوئی شرعی وغیر شرعی عیب ایسا نہیں جو اس” باکمال “ قلمار کے خاکی وجود میں بسیرا نہیں کرتا۔

اپنی کامیابیوں کے سفر میں اس ” باکمال قلمکار “ نے دو مرتبہ پڑاﺅ اس ” خطہءزمین“ پر بھی ڈالا جسے میں اپنی قلمرو سمجھتا ہوں ۔ اور اُس کے اسی پڑاﺅ کے دوران مجھ پر ” کرائے کی قلمکاری “ کے اسرار و رموز آشکار ہوئے اور میں نے جانا کہ کمال حاصل کرنے کے لئے قلم اور کردار کا ساتھ ضروری نہیں ۔ ضروری اگر ہے تو ایک فیاض خریدار کا ہونا ضر وری ہے۔ جیسے مولانا کوثر نیازی محروم تھے ` جیسے میاں نوازشریف`چوہدری پرویز الٰہی اور جناب آصف علی زرداری ہیں۔
ہر کمال کو ” اعتراف “ کی سند سے نوازا جاناچاہئے۔ اور نوازنے کا فن صرف نوازشریف کو نہیں زرداری صاحب کو بھی آتا ہے۔ سند کا غذی ہو یا تمغے کی صورت میں ہو یا اس کی شناخت” ہلال “ سے منسوب کی گئی` بقول وزیراعلیٰ بلوچستان سند بہرحال سند ہوتی ہے۔ اور تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے۔
یہ تقدیر تو اس قوم کی ہے کہ اس کے فکری رہنماﺅں کی فہرست میں ریما ` میرا اور وینا ملک میں سے کسی کابھی نام کسی بھی وقت شامل ہوسکتا ہے۔
اب تو کوئی بات ناممکنات میں نہیں رہی ۔ ہم کسی بھی روز پڑھ سکتے ہیں کہ جناب بال ٹھاکر ے کو نشانِ پاکستان دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اُن کی اُن خدمات کے اعترا ف میں جو انہوں نے قرآنی تعلیمات کو فروغ دینے میں انجام دی ہیں!
اور کترینہ کیف کی خدمات کے اعتراف کے لئے ایک نیا ایوارڈ تخلیق کیا جائے گا جس کا نام ہوگا ” ہلال حیا و حجاب “ ۔
(ان فکری رہنماﺅں سے معذرت کے ساتھ جو میرے اس کالم کا موضوع نہیں)

Scroll To Top