دو نالائق امراءجو پاکستان کی سیاست پر قابض ہیں۔۔۔

aaj-ki-bat-logo

جب ہم حکومتی وزراءکی اپنی زبانی یہ اعتراف سنتے ہیں کہ پاکستان زبوں حالی اور معاشی تنزل کی طرف بڑھ رہا ہے تو دل بیٹھ جاتا ہے ۔۔۔ اس زبوں حالی اور تنزل کی جو وجہ فاضل وزراءبیان فرماتے ہیں وہ یہ ہے کہ حکومت کی باگ ڈور میاں نوازشریف کے ہاتھوں میں نہیں۔۔۔ یہ بات خواجہ سعد رفیق اور طلال چوہدری نے کھل کر کہی ہے۔۔۔ اس بات کا ایک مطلب یہ نکلتا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے بس کی بات نہیں کہ وہ ملک کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرسکیں اور گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالنے کے لئے مناسب فیصلے اور اقدامات کرسکیں۔۔۔
اپنی ہی حکومت پر وزراءکا عدم اعتماد یا بداعتمادی کا یہ اظہار ریاست کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کئے بغیر نہیں رہتا۔۔۔
یہ سب کچھ اس طرح کب تک چلے گا۔۔۔؟
کیا اتنی بڑی سیاسی جماعت ” قحط الرجال“ کا اس حد تک شکار ہے کہ ایک میاں نوازشریف کے بغیر وہ مکمل طور پر بے دست و پا اور غیر موثر ہو کر رہ گئی ہے۔۔۔
اگر شاہد خاقان عباسی اور میاں نوازشریف کے درمیان قابلیت اور استعداد کا ر کا موازنہ کیا جائے تو ناقابلِ یقین فرق نظر آئے گا۔۔۔ جوشخص تین مرتبہ ہمارا وزیراعظم رہا ہے وہ کسی کی مدد کے بغیر ایسے سوالات کا جواب دینے کی بھی صلاحیت یا لیاقت نہیں رکھتا جو آٹھویں ` نویں جماعت کے طلباءکی بھی فہم سے باہر نہیں ہوتے۔۔۔
یہ باتیں میں صرف اس حقیقت کی نشاندہی کرنے کے لئے لکھ رہا ہوں کہ جمہوریت کے نام پر دو نالائق اصحاب اور ان کے خاندانوں نے اس ملک کی سیاست اور اس کے جماعتی نظام کو اپنا یرغمال بنا رکھا ہے۔۔۔ اور یہ سب کچھ پیسے کی طاقت اور شاطرانہ جوڑ توڑ کے ذریعے ہوا ہے۔۔۔
یہ دو نالائق اصحاب کون ہیں ؟ اس سوال کا جواب میں قارئین پر چھوڑتا ہوں۔۔۔ پہچان ان کی یہ ہے کہ انہوں نے اقتدار پر قابض ہو کر او ر جمہوری نظام کو اپنے مقاصد کے سانچے میں ڈھال کر اس ملک کی دولت اپنے دونوں ہاتھوں سے لوٹی ہے۔۔۔
آج یہ اصحاب براہ راست تو اقتدار پر قابض نہیں لیکن عملی طور پر ملک پر ابھی تک اُن کا ہی سکہ چلتا ہے۔۔۔
شاہد خاقان عباسی خود کو حقیقی وزیراعظم نہیں سمجھتے اور اعلانیہ طورپر اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اصل وزیراعظم آج بھی میاں نوازشریف ہیں۔۔۔
اِس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوسکتی ہے کہ وہ شخص ابھی تک وزیر خزانہ ہے جس پر ” خزانہ چوری “ کے الزامات میں مقدمات چل رہے ہیں۔۔۔
ہمارے وہ ادارے جن کے سربراہان ہمیں ایک روشن مستقبل کی نوید سناتے رہتے ہیں وہ کب ” حکومتی ڈھانچے “ کو ” عضوِ معطل“ سے ایک ” فعال حقیقت“ بنانے کے کام میں اپنا آئینی اور اخلاقی کردار ادا کریں گے ۔۔۔؟

Scroll To Top