معلومات کا تبادلہ نتیجہ خیز ثابت ہوسکتاہے

zaheer-babar-logo

پاکستان کا طویل عرصہ سے یہ موقف رہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان امریکہ اور افغانستان میں روابط کو بہتر بنایا جائے۔ پاکستان نے ہر موقعہ پر ایسے الزامات کو مسترد کیا کہ افغانستان میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ برسرپیکار کسی بھی گروہ کے ساتھ اس کے روابط ہیں۔ دراصل امریکہ اور کابل حکومت سالوں سے پاکستان پر کھلے عام یہ الزام عائد کرتی رہی کہ حقانی نیٹ ورک اور طالبان شوری پاکستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں مذید کہ اس حوالے سے انھیں مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ پاکستان نے اپنے اخلاص کا تازہ ثبوت اس غیر ملکی خاندان کو دہشت گردوں سے قید سے آزاد کروا کردیا جو سالوں سے ان کی قید میں تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے علاقے میں کارروائی کے دوران پانچ غیر ملکی مغوی افراد کو بازیاب کروا لیا ۔بازیاب کروائے گئے افراد میں ایک کینیڈیئن شہری،ان کی امریکی بیوی اور تین بچے شامل ہیں۔بیان کے مطابق اغوا ہونے والے افراد کو 2012 میں افغانستان میں اغوا کیا گیا۔ امریکی حکام نے 11 اکتوبر کو پاکستان فوج کو خفیہ اطلاع فراہم کی کہ مذکورہ افراد کو کرم ایجنسی کی سرحد کے ذریعے پاکستان منتقل کیا جا رہا ہے۔ امریکی خفیہ ادارے ایک عرصے سے ان کی تلاش میں تھے۔آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی خفیہ اطلاعات قابلِ عمل تھیں لہذا آپریشن کامیاب رہا اور تمام مغوی بحفاظت بازیاب کروا لیے گئے۔ بتایا گیا ہے کہ اغوا کا یہ واقعہ جب پیش آیا تو غیر ملکی خاتوں کیٹلن کولمین حاملہ تھیں اور قید میں ان کے اس بچے کے علاوہ دو دیگر بچے بھی پیدا ہوئے ۔آئی ایس پی آر کے مطابق اس کامیاب آپریشن سے ظاہر ہوتا ہے کہ خفیہ معلومات کا بروقت تبادلہ کس قدر اہم ہے اور یہ کہ پاکستان مشترکہ دشمن کے خلاف دونوں ممالک کی افواج کے تعاون سے جنگ جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔“
دنیا کی اکلوتی سپرپاور ہونے کے دعویدار امریکہ کو یہ سمجھ لینا چاہے کہ اگر حقیقی معنوں میں اس نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کامیابی حاصل کرنی ہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ پاکستان کے ساتھ ٹھوس معلومات کے ایسے تبادلے کو فروغ دیا جائے جو حقیقی معنوں میںنتیجہ خیز ہو۔یہ حقیقت اب پورے طور پر نمایاں ہوچکی کہ دنیا کو اس وقت جس قسم کی انتہاپسندی درپیش ہے اس میں ریاستوں کے درمیان معلومات کے تبادلہ کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ دراصل اچھے اور برے جنگجو گروہوں کے درمیان تفریق روا رکھنے سے جاری جنگ میں ٹھوس نتائج کا حصول کسی طور پر ممکن نہیں رہا۔
حال ہی میں وزیرخارجہ خواجہ آصف کی جانب سے یہ جانب سے یہ تجویز سامنے آئی کہ پاکستان اور امریکہ سرحدی علاقوں میںمشترکہ آپریشن کریں“۔ دراصل مذکورہ تجویز کسی لحاظ سے قابل عمل نہیں درحقیقت کوئی بھی خود مختار ملک اپنی سرحدوں میں مشترکہ آپریشن کی اجازت نہیں دے سکتا اور نہ ہی پیش کش کرسکتا۔ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے امریکا میں اپنے تین روزہ دورے کے دوران اعلی امریکی حکام کو پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ آپریشنز کرنے کی جو پیش کش کی اس پر ملک کے مختلف حلقوں کی جانب سے اعتراضات اٹھائے گے۔ پاکستان تحریک انصاف نے بھی رواں ہفتے قومی اسمبلی میں موقف اختیار کیا کہ خواجہ آصف کی مذکورہ تجویز ملک کی خودمختاری کےخلاف ہے۔
ماہرین کے بعقول اگر کسی اور طاقت کو اپنے ملک میں آپریشن کرنے کے لیے بلایا جائیگا اس سے ملک کا مزاق اڑاے گا۔ مذید یہ کہ عالمی سطح پر یہ پیغام جائیگا کہ شائدپاکستان کی سیکورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کاروائی رکھنے کی اہلیت کی حامل نہیں لہذا اگر اس قسم کی کوئی تجویز موجود ہے تو ایسا آپریشن افغانستان میں کیا جانا چاہیے۔
پاکستان میں دہشت گردوں کی مبینہ موجودگی کا الزام لگانے والے تاحال کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکے۔ اس کے برعکس افغانستان میں پاکستان کے پاس بھی ایسے ٹھوس شواہد ہیں کہ دہشت گرد افغانستان سے دن کی روشنی میں کارروائیاں کررہے ہیں مگر انھیں روکنے والا کوئی نہیں۔خواجہ آصف کی جانب سے اپنا گھر درست کرنے کی باتوں کو ابھی اسی لیے پسند نہیںکیا گیا کہ سمجھا گیا کہ شائد وزیر خارجہ شائد شائد بشیتر مسائل کا زمہ دار کسی نہ کسی شکل میں پاکستان کو قرار دے رہے ہیں۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ پاکستان کو فوری طور پر اپنی ان کامیابیوں کی بھرپور طور پر تشہیر کرنے کی ضرورت ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اب تک پاکستان نے حاصل کیں۔ سچ یہ ہے کہ ضرب عضب اور ردالفساد کے زریعہ ملک کے کونے میں ان شرپسندوںکا خاتمہ کیا گیاجو قیام امن کی راہ میں رکاوٹ سمجھے گے۔ پاکستان کو اقوام عالم کو یہ باور کروانا ہوگا کہ افغانستان میں امریکہ اور دیگر غیر ملکی افواج امن لانے میںناکام ثابت ہوئیں مگر پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود انتہاپسندی کے خاتمہ میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔
خواجہ آصف کی بنیادی زمہ داری ہے کہ وہ دباو میں آئے بغیر پاکستان کا موقف پوری قوت سے پیش کریں۔ خارجہ پالیسی کے حوالے سے قومی اداروں میں مکمل اتفاق رائے وقت کی ضرورت ہے۔ عالمی برداری میں پاکستان کے موقف کو اسی وقت خاطر خواہ پذائری حاصل ہوسکتی ہے جب تمام سٹیک ہولڈرز ایک ہی صفحہ پر ہوں ۔ دشمن کو کسی طور پر ایسا موقعہ نہیں دینا چاہے کہ وہ ہمارے اختلاف سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔

۔

ا

Scroll To Top