نان سٹیٹ ایکٹرز سکیورٹی ترجیحات کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں: آرمی چیف

  • یقین دلاتا ہوں انشاءاللہ کراچی پرامن رہے گے، شہر کراچی میں دشمن نے حالات خراب کر کے معاشی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی مگر سیکیورٹی فورسز نے اس حکمتِ عملی کو ناکام بنا دیا،جنرل قمر جاوید باجود
  • نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی جامع کوششیں ضروری ہیں،نیشنل ایکشن پلان پر بروقت عمل ہوا تواثر براہ راست سیاسی و معاشی استحکام کی صورت میں آئے گا،ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کو شکست دی گئی،سیمینار سے خطاب

قمر جاوید باجوہ

کراچی (این این آئی) چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو اس وقت اسٹریٹیجک چیلنجز کا سامنا ہے، نان اسٹیٹ ایکٹرز ہماری سکیورٹی ترجیحات کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں، جب دشمن پاکستان کو بند کرنا چاہتا ہے تو وہ کراچی کو بند کر دیتا ہے۔شہر کراچی میں دشمن نے حالات خراب کر کے معاشی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی مگر سیکیورٹی فورسز نے اس حکمتِ عملی کو ناکام بنا دیا، یقین دلاتا ہوں انشا اللہ کراچی پر امن رہے گا۔ نیشنل ایکشن پلان پر بروقت عمل ہوا تواثر براہ راست سیاسی و معاشی استحکام کی صورت میں آئے گا۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کو شکست دی گئی ہے۔ صورت حال مستحکم ہے مگر کہیں کہیں خطرات باقی ہیں، ہم اپنی نوجوان نسل کی بڑی تعداد کو کم آپشنز کے ساتھ نہیں چھوڑ سکتے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے بدھ کو کراچی میں آئی ایس پی آر کے زیراہتمام معیشت اور سلامتی سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ معیشت کا تعلق تمام شعبہ ہائے زندگی سے ہے کیونکہ یہ معیار زند گی کی عکاس ہوتی ہے، مضبوط معیشتوں کو ہمیشہ جارحیت کا سامنا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2 دہائیوں سے مختلف عالمی نظریات میں تبدیلی آئی ہے، روس کے پاس ہتھیاروں کی کمی نہیں تھی مگر کمزور معیشت نے اسے توڑ دیا کیونکہ سیکیورٹی اور معیشت کا باہمی تعلق ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ مسائل کو خطرہ بننے سے پہلے ختم کرنا ہوگا کیونکہ اگر ان معاملات پر قابو نہ پایا جائے تو صورتحال خراب سے خراب تر ہو جاتی ہے،سیکیورٹی بہتر اور معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد کیا جس سے دیرپااثرات مرتب ہوئے۔ چیف آف اسٹاف نے کہا کہ کراچی میں دیرپا امن ہماری اولین ترجیح ہے جس کے لیے سخت محنت اور اقدامات اور مزید جاری ہیں، دیرپا ترقی کے لیے امن و امان کا ہونا بہت ضروری ہے، کراچی کے عوام کا تعاون پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ ہے جس کو دیکھ کر کہتا کر یقین دلاتا ہوں کہ انشا اللہ کراچی پرامن رہے گا۔سی پیک پر بات کرتے ہوئے سپہ سالار نے کہا کہ سی پیک سے خطے میں دیرپا اثرات مرتب ہوں گے، پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے پاک فوج چینی دوستوں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کررہی ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ شروع سے ہی پاکستان کو کئی بحرانوں کا سامنا رہا، ہم دنیا کے سب سےزیادہ غیر مستحکم خطے میں رہتے ہیں۔ تاریخی بوجھ اور منفی مقابلے نے خطے کو اسیر بنا رکھا ہے، مشرق میں جارحیت پر آمادہ بھارت اور مغرب میں غیر مستحکم افغانستان ہے، ہم مغربی سرحد کو فوجی،معاشی اور سفارتی اقدامات کے ذریعے محفوظ بنا رہے ہیں، ہم نے فاٹا میں جو کیا اور بلوچستان میں جو شروع کیا وہ سیکیورٹی بہتر کرنے کی زبردست مثال ہے۔سربراہ پاک فوج نے کہا کہ ملک میں داخلی سلامتی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کو شکست دی گئی ہے۔ صورت حال مستحکم ہے مگر کہیں کہیں خطرات باقی ہیں، ہم اپنی نوجوان نسل کی بڑی تعداد کو کم آپشنز کے ساتھ نہیں چھوڑ سکتے، مدارس اصلاحات بھی بہت اہم ہیں، مدارس کو اپنے طلبا کو معاشرے کا مفید رکن بنانا ہوگا، ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ مدارس کے طلبا زندگی کی دوڑ میں کسی سے پیچھے نہ رہیں،آرمی چیف نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی جامع کوششیں ضروری ہیں، نیشنل ایکشن پلان پر بروقت عمل ہوا تواثر براہ راست سیاسی و معاشی استحکام کی صورت میں آئے گا، آج کے دور میں سیکیورٹی ایک وسیع موضوع ہے، سلامتی اور معیشت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ روس کے پاس ہتھیار کم نہ تھے لیکن کمزور معیشت کے سبب ٹوٹا۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سخت محنت سے سیکیورٹی صورتحال بہتر ہوئی، حالیہ محرم گزشتہ برسوں کے مقابلے میں پرامن ترین رہا، اس سال ملک میں کھیلوں اور کلچر کے میگا ایونٹس منعقد ہوئے، بوہری برادری نے بہتر سیکیورٹی کی تصدیق کی اور اپنے سالانہ اجتماع کے لیئے پاکستان کو چنا۔ یقین دلاتا ہوں کراچی محفوظ رہے گا۔سربراہ پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ سی پیک کے منصوبے مکمل ہو رہے ہیں، ان کامیابیوں کے باوجود ابھی لمبا سفر طے کرنا ہے، ملکی معیشت ملے جلے اشارے دے رہی ہے، شرح نمو اوپر جا رہی ہے مگر قرضے بھی آسمان سے باتیں کر رہے ہیں، انفراسٹرکچر اور توانائی بہتر ہو رہی ہے مگر کرنٹ اکانٹ بیلنس حق میں نہیں، ہمیں اگر کشکول توڑنا ہے تو ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں اضافہ کرنا ہو گا۔ پاکستان بھر میں عام آدمی کو ازسر نو یقین دلانا ہو گا کہ ریاست کی جانب سے یکساں برتاہو گا۔

Scroll To Top