مانیٹرنگ خود کروں گا، نیب کیسز کا ہر صورت نتیجہ نکلے گا، چیئر مین نیب

  • احتساب سب کیلئے یکساں ہوگا، پانامہ کیس میں خامیاں دور کرینگے، شریف خاندان کیخلاف مقدمات میرٹ پر چلیں گے، خود نگرانی کروں گا : جسٹس (ر) جاوید اقبال
  • نیب کے تمام امور پر تفصیلی بریفنگ لوں گا اورکوئی معاملہ التواءکا شکار نہیں بننے دونگا،لاپتہ افراد کمیشن کی حتمی رپورٹ آخری مراحل میں ہے میڈیا سے گفتگو

nabنیب

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)قومی احتساب بیورو (نیب ) کے نئے چیئرمین جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال عہدہ سنبھالتے ہی انسانی حقوق کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کےلئے پارلیمنٹ ہاو¿س پہنچ گئے جہاں انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں اس عزم کا اظہار کیا کہ نیب کیسز کا ہر صورت نتیجہ نکلے گا . ایبٹ آباد کمیشن کا بھی نتیجہ نکلا. تمام بڑے کیسز کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے. کوئی معاملہ التوا کا شکار نہیں بننے دونگا.لاپتہ افراد کمیشن کی حتمی رپورٹ آخری مراحل میں ہے . رپورٹ جمع کرانے کے بعد کمیشن کی سربراہی چھوڑ دونگا. انسانی حقوق کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کےلئے پارلیمنٹ ہاو¿س پہنچنے پرمیڈیا سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے نئے چیئرمین نیب جاوید اقبال جو لاپتہ افراد کمیشن کے بھی سربراہ ہیں نے کہا کہ فی الحال وہ لاپتہ افراد کمیشن کی سربراہی نہیں چھوڑ رہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ایبٹ آباد کمیشن کی تحقیقات کا نتیجہ نکلا . اسی طرح نیب کیسز کا بھی نتیجہ نکلے گا۔ تمام بڑے کیسز کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے.انشاءاللہ تمام کام خوش اسلوبی سے ہوں گے۔ انہوں نے لاپتہ افراد کے حوالے سے کہاکہ لاپتہ افراد کمیشن کی حتمی رپورٹ آخری مراحل میں ہے اور میں رپورٹ جمع کرانے کے بعد کمیشن کی سربراہی چھوڑ دونگا۔ جاوید اقبال نے کہاکہ چیلنجز سے نمٹنا ان کے لئے کوئی نئی بات نہیں۔انہوں نے کہاکہ میں نیب کے تمام امور پر تفصیلی بریفنگ لوں گا اورکوئی معاملہ التواءکا شکار نہیں بننے دونگا۔ قومی احتساب بیورو کے نئے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ان سے ایسی توقعات وابستہ کی جائیں جو قانون کے مطابق ہوں،خود پراسیکیوشن کی مانیٹرنگ کروں گا اور محکمے میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے گا،زیر التوا مقدمات کو فوری منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق جو بھی کام ہوا وہ خود کریں گے اور کسی کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔نیب چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا کہ جب وہ سپریم کورٹ کے جج تھے تو انہوں نے کہا تھا ”انصاف سب کے لیے“ اور اب وہ یہ کہتے ہیں ”احتساب سب کے لیے۔۔ انہوں نے کہا کہ کچھ سیاسی جماعتوں نے در پردہ تحفظات کا اظہار کیا ہے لیکن وہ یقین دلاتے ہیں کہ نیب میں تمام کارروائی قانون کے مطابق ہوگی۔نیب چیئرمین کے مطابق انہوں نے ایبٹ آباد کمیشن کے معاملے پر بھی اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائی اور اس کی حتمی رپورٹ حکومت کو بھجوا دی تھی تاہم اس رپورٹ کو منظر عام پر لانا حکومت کی صوابدید ہے۔ا نہوںنے کہا کہ نیب میں زیر التوا مقدمات کو بھی فوری منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔جسٹس (ر)جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ ان کے کردار پر آج تک کوئی انگلی نہیں اٹھی اور اگر ایسی نوبت آئی تو وہ نیب کے چیئرمین اور لوگوں کی جبری گمشدگی کے لیے بنائے گئے کمیشن کی سربراہی سے بھی مستعفی ہو جائیں گے۔انہوںنے کہا میں نے زندگی میں بہت دبا ﺅبرداشت کیا ہے۔ سابق فوجی صدر پرویز شرف کے دور میں مجھ پر سب سے زیادہ دبا ﺅتھا اور میں ان ججز میں شامل تھے جنہوںنے سابق فوجی صدر کے تین نومبر 2007 کے اقدام کو اسی روز غیر قانونی قرار دیا تھا۔

Scroll To Top