نواز شریف کی پارٹی صدارت کے خلاف عبوری حکم نامہ جاری

  • الیکشن ایکٹ 2017 آئین کی دفعہ 203 سے متصادم ہے، پرانے قانون میں نااہلی کی سزا تاحیات ہے
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق نااہل وزیر اعظم نواز شریف کو الیکشن ایکٹ اور دوبارہ پارٹی صدر بننے پر نوٹس جاری کردیا

نوازشریفاسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ نے نااہل وزیر اعظم نواز شریف کو مسلم لیگ ن کا دوبارہ صدر بنانے اور الیکشن ایکٹ کےخلاف عبوری حکم نامہ جاری کردیا۔تفصیلات کے مطابق نا اہل نواز شریف کی ن لیگ کی سربراہی اور الیکشن ایکٹ کی آڑ میں فرد واحد کی بادشاہی، اسلام آباد ئیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے عبوری حکم نامہ جاری کر دیا، حکم نامے کی میڈیا ذرائع نے حاصل کرلی ہے۔حکم نامے میں کہا گیا ہے الیکشن ایکٹ 2017 آئین کی دفعہ 203 سے متصادم ہے، آئین کے آرٹیکل 62 کے مطابق دفعہ 232 الیکشن ایکٹ خلاف دستور ہے۔ نااہلی کی سزا ترمیم شدہ آئین سے متصادم ہے پرانے قانون میں نااہلی کی سزا تاحیات ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق نااہل وزیر اعظم نواز شریف کو الیکشن ایکٹ اور دوبارہ پارٹی صدر بننے پر نوٹس جاری کردیا۔عدالت نے سیکرٹری قانون، اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن، سیکرٹری کابینہ ڈویڑن، چیف الیکشن کمشنر، سیکرٹری الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کئے ہیں جبکہ عدالتی معاونت کے لئے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کو پارٹی صدر بنانے کیخلاف اسلام آبادہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی، درخواست میں مو¿قف اختیار کیا گیا تھا کہ پارٹی صدارت اور رجسٹریشن کیخلاف درخواستیں روکی جائیں، الیکشن ایکٹ203،232 پرعملدرآمد رٹ فیصلے کا انتظار کیا جائے۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ نوازشریف کوپارٹی صدارت سےفیصلہ آنےتک روکاجائے، الیکشن ایکٹ2017قومی مفاد کے برعکس اورآئین سے متصادم ہے۔واضح رہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے انتخابی اصلاحات بل 2017ءکی منظوری اور صدارتی انتخاب اور پارٹی آئین میں ترمیم کے بعد مسلم لیگ ن نے نواز شریف کو دوبارہ پارٹی کا صدر منتخب کرلیا تھا۔بل کی شق 203 میں کہا گیا ہے کہ ہر پاکستانی شہری کسی بھی سیاسی جماعت کی رکنیت اور عہدہ حاصل کرسکتا ہے بلکہ اس کا صدر بھی بن سکتا ہے۔خیال رہے مسلم لیگ ن کے صدر منتخب ہونے کے بعد نواز شریف اہلیہ کی عیادت کیلئے لندن روانہ ہوگئے تھے۔واضح رہے کہ پاناما کیس کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیا تھا، جس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مسلم لیگ ن کو ہدایات جاری کی تھیں? کہ وہ نوازشریف کی جگہ نئے پارٹی سربراہ کا انتخاب کرے۔

Scroll To Top