گمشدہ افراد کا معاملہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا

zaheer-babar-logoوطن عزیز میں لاپتہ افراد کا معاملہ خاصا الجھا ہوا مانا جاتا ہے۔ اس ضمن میںاہم یہ ہے کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے اب تک جو تنظمیں بھی سامنے آئیں ان کی جانب سے جاری کیے گے اعداد وشمار میں تضادات بڑی حد تک نمایاں رہے۔ کہنے کو ہزاروں شہری ”غائب “ کردئے گے مگر عملا ایسا نہیں ہوا۔ مذکورہ معاملہ کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اسے بین الاقوامی میڈیا میں بھرپورانداز میں اٹھایا جاتا ہے تاکہ پاکستان کو بدنام کیا جاسکے یعنی ان تمام مرد وخواتین کی خبر علاقائی اور عالمی صحافتی اداروں میں خوب پذائری حاصل کرتی ہے جو لاپتہ افراد بارے دہائی دیتے رہتے ہیں۔ اس پس منظر میں لاپتہ افراد بارے قائم کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرجاوید اقبال کا کہنا اہمیت کا حامل ہے کہ ملک بھر بالخصوص بلوچستان میں لاپتہ افراد کے اعداد و شمار بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے۔ان کے بعقول 'شہریوں کے لاپتہ ہونے کا دعوی کرنے والے کوئی فہرست پیش نہیں کر سکے مذید یہ کہ ماما قدیر کا پچیس ہزار افراد کے لاپتہ ہونے کا دعوی جھوٹ پر مبنی تھا۔
ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے بدھ کو ہونے والے اجلاس میں لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائر جاوید اقبال نے کہا کہ شہریوں کو بغیر کسی قانون کے حراست میں رکھنا ناقابل برداشت ہے۔“
یقینا دنیا کے کسی بھی مہذب معاشرے میں اس کا تصور ہی نہیںکیا جاسکتا کہ کسی بھی شخص کو بنا ضروری قانونی کاروائی کے غائب کردیا جائے۔ ایسا اقدام جمہوری ملکوں میں اس لیے بھی مشکل ہے کہ وہاں قانون کی حاکمیت کا تصور راسخ ہوچکا۔ عدالتیں آزاد ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پورے طور پر قانون پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ملک بھر میں لاپتہ افراد کا معاملہ سب سے زیادہ بلوچستان میں اٹھایاگیا۔ کہا گیا کہ دراصل قانون نافذ کرنے والے ادارے ان گشمدگیوں میں بالواسطہ یا بلاواسطہ طور ملوث ہیں۔ ادھر یہ دعوی بھی کیا جاتارہا کہ لاپتہ افراد کے معاملے میں سرکاری اداروں سے کہیں بڑھ کر صوبے کے قبائلی کی باہم دشمنیاں کارفرما ہیں۔
یقینا لاپتہ افراد کی تعداد سے متعلق فہرستوں کی حیثیت متنازع ہے۔ کمیشن نے 'جس طرح اپنا کام کیا اس پر اعتراض تو کیا جاسکتا ہے مگر اس بارے ہونے والی پیش رفت کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگرچہ کمیشن نے گذشتہ چھ سالوں میں ابھی تک کوئی 'ابتدائی رپورٹ پیش نہیں کی مگر امید کی جانی چاہے یہ اعتراض جلد دور کیا جائیگا۔
گمشدہ افراد کے بارے ہونے والے اجلاس میں جسٹس ریٹائر جاوید اقبال نے غیر مہبم الفاظ میں کہا کہ جب تک ثبوت نہ ہو حساس ادارے کے خلاف کاروائی نہیں کی جاسکتی۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کوئی ملکی ایجنسی ایسی نہیں جو کمیٹی میں پیش نہ ہوئی ہو۔“
ادھر لاپتہ افراد کے حوالے سے ایک تجویز یہ بھی ہے کہ اس ضمن میں قائم عارضی سینٹرز میں موجود افراد سے متعلق اعداد و شمار ظاہر کیے جائیں۔ یقینا یہ بات درست ہے کہ جب تک لاپتہ افراد بارے کمیشن کو اتنا بااختیار نہیں بنایا جائیگا حقیقی طورپر بہتر ظاہر ہونا ممکن نہیں۔ دراصل ہیومن رائٹس کونسل کے بعقول لاپتہ افراد کے 723 کیسز ہیں، جن میں سے 508 ڈسپوز آف کیے گئے، اور 218 چل رہے ہیں۔ مذید یہ 29 مقدمات نوے کی دہائی کے ہیں جو سِیل ہو چکے واضح رہے کہ افغان شہری بھی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل ہیں جبکہ بلوچستان سے صرف 15 کیسز لاپتہ افراد کے ہیں۔
معاملے کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے چیرمین نیب بنے والے جسٹس ریٹائر جاوید اقبال نے کہا کہ وہ فی الحال لاپتہ افراد کمیشن کی سربراہی نہیں چھوڑ رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کمیشن میں تین سال بہت محنت کی ہے اس کی رپورٹ حتمی مرحلے میں ہے چنانچہ اس رپورٹ کو انجام تک پہنچا کر ہی کمیشن کی سربراہی چھوڑوں گا۔اسامہ بن لادن کمیشن سے متعلق پوچھے گئے سوال پر چیئرمین نیب نے کہا کہ انھوں نے ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کے حوالے سے کہا کہ وہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ یہ رپورٹ پبلک کی جائے، اب حکام جانیں۔“
دنیا کے کسی بھی ترقی پذیر ملک کی طرح مملکت خداداد پاکستان کے مسائل بے شمار ہیں اگر چہ آئین میں شہریوں کے حقوق وفرائض سے لے کر سرکاری اداروں کی زمہ داریوں تک کا تعین کیا گیا مگر اس پر مکمل طور پر عمل درآمد ہونا تا حال خواب ہے۔ خوش آئند ہے کہ ملک میں ایسے افراد اور تنظمیں موجود ہیں جو اصلاح احوال کے لیے سالوں سے کوشاں ہیں۔ متحرک پرنٹ والیکڑانک کے علاوہ سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استمال ریاست کے ہر ستون کو اس کی حدود و قیود کی یاد دہانی کروا رہا۔ آج کے ہر ترقی یافتہ ملک کی تاریخ اس حقیقت سچائی کی گواہی دے رہی کہ آئین اور قانون کی بالادستی کا خواب کسی طور پر آسانی سے شرمندہ تعبیر نہیں ہوا۔
مملکت خداداد پاکستان کا محل وقوع ایک طرف کسی نعمت سے کم نہیں تو دوسری جانب اس کے نتیجے میں بطور قوم ہماری زمہ داریاں بڑھ چکیں ، سچ ہے کہ آج کئی علاقائی اور عالمی طاقتیں پاکستان پر مسلسل نظریں جمائے ہوئے ہیں، سی پیک کے اعلان نے سونے پر سہاگے کا کام کیا ۔ بھارت سمیت کئی ملکوں کی خفیہ ایجنسیاں پاکستان میں اپنا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں مگر اس سب کے باوجود ہم نے ملک کو آئینی اور جمہوری ریاست بنانا ہے تو دوسرا اسے ہر قسم کی مشکلات و آزمائشوں سے دور رکھنے کا فرض بھی ادا کرنا ہے۔

Scroll To Top