کیا یہ نجات کی دہائی ہوگی ؟ 7-4-2012

kal-ki-baat

مختلف ادوار میں لکھے گئے اپنے انگریزی مضامین کا ایک مجموعہ میں نے گزشتہ دہائی کے اختتام پر شائع کیا تھا جس کا عنوان تھا۔
The Lost Decades
(گمشدہ دہائیاں)
جب سے پاکستان قائم ہوا ہے ہم دہائی کے بعد دہائی گم کرتے چلے جارہے ہیں۔ یہاں گم کرنے سے مراد ضائع کرنا ہے۔ وقت ایک ایسی چیز ہے جو گم ہوجائے ` ضائع ہوجائے یا گز ر جائے تو واپس نہیں آتا۔
ہم نے من الحیث القوم سب سے پہلے 1950ءکی دہائی ضائع کی۔ یہ دور محلاتی سازشوں اور بار بار بنتی اور گرتی حکومتوں کا دور تھا۔ اس دور کے چند وزرائے اعظم کے نام ملاحظہ فرمائیں۔پہلے لیاقت علی خان ` پھر خواجہ ناظم الدین ` محمد علی بوگرہ ` چوہدری محمد علی ` حسین شہید سہروردی ` آئی آئی چندریگر اور فیروز خا ن نون ۔
حقیقی معنوں میں اقتدار اس دور میں غلام محمد اور سکندر مرزا کے ہاتھوں میں رہا۔ اکتوبر1958ءمیں جو مارشل لاءلگا اس کے نتیجے میں فیلڈ مارشل ایوب خان برسراقتدار آگئے اور امید یہ بندھی کہ شاید 1960ءکی دہائی ضائع ہونے سے بچ جائے۔ جب دہائی کے آخر میں ذوالفقار علی بھٹو اور ایئر مارشل اصغر خان کی قیاد ت میں ” دور ایوب “ کو ختم کرنے کی تحریک چلی تو قوم کا متفقہ فیصلہ تھا کہ یہ دہائی بھی ضائع ہوگئی۔ آج اگر ہم پلٹ کر دیکھیں تو یہ ستم ظریف تاثر قائم ہوئے بغیر نہیں رہتا کہ اب تک کی تاریخ میں شاید وہی ہماری بہترین دہائی تھی۔
1970ءکی دہائی کا آغاز سقوط ڈھاکہ کے ساتھ ہوا اور اس کا اختتام ایک اور مارشل لاءاور پاکستان کے موجودہ آئین کے خالق کی پھانسی کے ساتھ ہوا۔
1980ءکی دہائی افغان جہاد لڑنے میں گزر گئی۔
1990ءکی دہائی میاں نوازشریف اور محترمہ بےنظیر بھٹو کے درمیان لڑی جانے والی جنگ اقتدار اور کرپشن کے کلچر کے روز افزوں فروغ میں گزر گئی۔
2000ءکی دہائی شروع ہوئی تو خیال تھاکہ شاید گڈ گورنس کا نعرہ لگا کر اقتدار پر قبضہ کرنے والے جنرل پرویز مشرف اس دہائی کو ضائع ہونے سے بچا لیں گے۔ مگر موصوف نے ملک و قوم کو ایک ایسی تباہ کن جنگ میں جھونک دیا جس کے نتائج سے صحیح سالم نکلنے میں ہمیں بڑا وقت لگے گا۔ جب یہ دہائی ختم ہوئی تو پاکستان اپنی تاریخ کی بدترین حکمرانی کے خوفناک نتائج کا سامنا کررہا تھا۔
آج کا پاکستان اپنی نئی دہائی کے دوسرے سال میں ہے۔ اسے اگر گزشتہ دہائی کا لرزا دینے والا تسلسل کہا جائے تو نا درست نہیں ہوگا۔ یوں لگتا ہے کہ قائداعظم ؒ کی وفات کے بعد کسی بدروح نے ہمیں بددعا دی تھی کہ اپنی ہر دہائی میں ہم ایک نئی تباہی کا سامنا کریں۔ یہ احساس مجھے بھٹو مرحوم کی 33ویں برسی کے موقع پر کی جانے والی تقاریر سن کر بہت ہی زیادہ شدت کے ساتھ ہوا۔
مگر میں جانتا ہوں کہ بدروحیں اگر ہوتی بھی ہوں گی تو ان کی بددعائیں کوئی اثر نہیں رکھ سکتیں۔ یہ اور بات ہے کہ یہ بدروحیں ہمارے گناہوں کی پاداش میں ہمارے حکمرانوں کا روپ دھار کر ہماری تقدیر اپنے ہاتھوں میں لے لیں۔
کیا ہم اپنی جاری دہائی میں اپنی تقدیر اور اپنے ملک کی تقدیر کو ان بدروحوں کے شکنجے سے آزاد کراپائیں گے ؟
کیا ہم اپنی جاری دہائی کو اپنی گزشتہ گمشدہ دہائیوں جیسے اختتام سے بچا پائیں گے۔۔۔؟
کیا اس دہائی کے اختتام پر مورخّوں کے پاس یہ فیصلہ صادر کرنے کا مضبوط جواز موجود ہوگا کہ جناحؒ اور اقبال ؒ کا پاکستان بالآخر معرضِ وجود میں آچکا ہے ؟

Scroll To Top