۔۔۔تو ہمارا انجام بڑا دردناک ہوگا! پانچ برس قبل کا سچ آج بھی سچ ہے

aaj-ki-bat-logo

دنیا کو تجارت کی منڈی کے علاوہ اور کچھ نہ سمجھنے والوں کی نظر میں پاکستان کی بقاءاور ترقی کا راستہ بس صرف یہی ہے کہ مزید وقت ضائع کئے بغیر ” اسلام آباد“ اپنے بازو پھیلا کر دیوانہ وار آگے بڑھے اور جاکر والہانہ انداز میں نئی دہلی کے ساتھ چمٹ جائے۔

پاکستان کا ایک میڈیا زار ایک عرصے سے اس راستے پر گامزن ہے۔ آشا اسے امن کی نہیںاپنی روز افزوں تجارت کوپھیلانے کے لئے پاکستان سے پانچ گنا بڑی منڈی کی ہے۔
ا س راستے پر میاں نوازشریف بھی اسی روز سے گامزن ہیں جس روز بی جے پی کے نیتا اٹل بہاری واجپائی امن کی آشا لئے لاہور تشریف لائے تھے۔ میاں صاحب کی جڑیں بھی تو دنیائے تجارت میں ہی ہیں اور بہت دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔
یہ راستہ جناب آصف علی زرداری کو بھی بے حد مرغوب ہے کیوں کہ ان کے لئے بھی زندگی ” جستجوئے زر “ کے سوا اور کچھ نہیں۔
اس راستے میں کئی دہائیوں تک ایک رکاوٹ کھڑی رہی۔ اس رکاوٹ کا نام مسئلہ کشمیر تھا امن کے متلاشیوں کی سمجھ میں نہیں آرہا تھاکہ اس رکاوٹ کو کیسے ہٹایا جائے۔ اب طریقہ دریافت ہوگیا ہے۔ پاکستان کے عوام کو سمجھا یا جائے کہ آخر چین نے بھی تو ” تائیوان“ کو Holdپر رکھا ہوا ہے۔ جس طرح ہانگ کانگ کو چین کی جھولی میں گرنا پڑا ` اسی طرح تائیوان بھی اس صدی کی کسی نہ کسی دہائی میں خود بخود چین کی جھولی میں آگرے گا۔
کاش کہ کشمیربھی تائیوان کی طرح آزاد ہوتا۔۔۔!
کاش کہ کشمیر کو پاکستان کے بانی نے پاکستان کی شہ رگ قرار نہ دیا ہوتا!
کاش کہ پاکستان کی زندگی کا انحصار ان پانیوں پر نہ ہوتا جن کاکنٹرول سنٹر کشمیر ہے!
ابنِ خلدون نے سچ کہا تھا کہ قوموں کی تقدیر اگر نفع ونقصان کی بنیاد پر زندگی کے فیصلے کرنے والے تاجروں کے ہاتھوں میں چلی جائے تو دور سے کوئی نہ کوئی چنگیز خان انہیں غلامی کی زنجیریں پہنانے کے لئے ضرور نمودار ہوتا ہے۔
مگر ہم تو خود ہی اپنے لئے زنجیریں بنا رہے ہیں۔ اور نجم سیٹھی جیسے مفّکر ہمیں سمجھا رہے ہیں کہ اگر یہ زنجیریں ہم نے خوداپنے قدموں میں نہ ڈالیں تو ہمارا انجام بڑا درد ناک ہوگا!
(یہ کالم اس سے پہلے 5اپریل 2012ءکو بھی شائع ہوا تھا۔۔۔)

Scroll To Top