بڑے آدمیوں کی کمزوریاں بھی بڑی ہوا کرتی ہیں !

aaj-ki-bat-logo


اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت دو انتہاﺅں کا ملغوبہ یا امتزاج تھی۔ان کی ایک خوبی ایسی تھی جس سے انکار ان کے بدترین دشمن بھی نہیں کرسکتے تھے اور نہ ہی کرسکتے ہیں۔ انہیں قدرت نے غیر معمولی ذہانت سے نوازا تھا اور ان کا مطالعہ بڑا وسیع اور بڑا گہرا تھا۔ حُب الوطنی اور اپنی قومی شناخت پر فخر کرنے کے معاملے میں ان پر کوئی بھی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ اگرانہوں نے کبھی مالی کرپشن کی ہوتی تو 1977ءکی انتخابی مہم میں الزامات کی صورت اختیار کرکے سامنے ضرور آتی۔ ایسانہیں ہوا۔ پھران کی شخصیت کے منفی پہلو کیا تھے ؟ اس سوال کا جواب دینے کے لئے ایک کالم کافی نہیں ` کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔ دو کتابیں تو میں بھی لکھ چکا ہوں۔ایک کا عنوان تھا۔ جھوٹ کا پیغمبر۔ یہ کتاب 1977ءمیں پی این اے یعنی پاکستان قومی اتحاد کی تاریخ ساز تحریک کے دوران شائع ہوئی اور اس کے کئی ایڈیشن چند ہی ماہ میں فروخت ہوگئے۔ جب بھٹو مرحوم کو احمد رضا قصوری کے والد کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تو میں نے اس کتاب کو ہمیشہ کے لئے دفن کردیا۔ اپنے سابق ہیرو کے خلاف میرا سارا غصہ ایکدم افسوس اور احساسِ زیاں میں ڈھل گیا۔ میرے لئے اس نتیجے پر پہنچنا مشکل نہ تھا کہ بھٹو کو سزا پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا عزم پالنے کے جرم میں ملی تھی۔ یہ تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ جس شخص کے ذریعے انہیں یہ سزا دی گئی خود اس شخص کو بھی ایسے ہی ایک جُرم کی پاداش میں اس دنیا سے بھیج دیا گیا۔

بھٹو پر میری دوسری کتاب انگریزی میں تھی۔
He Was Not Hanged
اتفاق سے میری دونوں کتابیں محترمہ بے نظیر بھٹو نے پڑھی تھیں۔ وہ اُردو نہیں پڑھ سکتی تھیں اس لئے ” جھوٹ کا پیغمبر “ انہوں نے انگریزی میں مختصر ترجمہ کرا کے پڑھی۔ اس کتاب کا عنوان ہی بتاتا ہے کہ اس کے مندرجات کیسے تھے۔ محترمہ کو پڑھ کر دکھ ضرور ہوا ہوگا لیکن انہوں نے مجھ سے یہ اعتراف کیا کہ ” ایسی کتاب ایک ایسا شخص ہی لکھ سکتا ہے جو میرے والد سے بے پناہ عقیدت رکھتا تھا۔“
اور یہ ایک حقیقت بھی ہے۔
میں نے 1960ءکی دہائی میں اپنی زندگی کے تمام بڑے فیصلے بھٹو کی شخصیت کے سحر میں گرفتار رہ کر کئے۔
وہ سحر سقوطِ مشرقی پاکستان کے اس زخم نے توڑ دیا جو میری روح کو لگا۔
آج جب میں پلٹ کر پانچ دہائیوں پر مشتمل اپنے سیاسی سفر پر نگاہ ڈالتا ہوں تو مجھے اپنے ایک بیورو کریٹ دوست کا ایک جملہ یاد آتا ہے جو اس نے جھوٹ کا پیغمبر پڑھ کر مجھ سے ایک گفتگو میں کہا تھا۔
Great men have great faults.
(بڑے آدمیوں کی خامیاں بھی بڑی ہوا کرتی ہیں)
مطلب اس بات کا یہ ہے کہ ہمیں بڑی خامیوں سے مبرا کوئی بڑا لیڈر دنیائے رنگ و بو میں نہیں مل سکتا۔ محمد علی جناح ؒ جیسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوا کرتے ہیں۔
چنانچہ ہمیں چاہئے کہ 4اپریل1979ءکو تختہ دار پر پہنچائے جانے والے شخص کی صرف ” بڑائی “ کو ہم اپنی یادوں میں محفوظ رکھیں۔
اگر دیکھا جائے تو 1980ءکی دہائی تک کے تمام لیڈران لیڈروں سے کہیں زیادہ قد آور تھے جو ہمیں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران نصیب ہوئے ہیں۔
1980ءتک سے پہلے والے لیڈروں کے نامہءاعمال میں کچھ ایسے ” کام “ بھی تھے جو اگر نہ ہوئے ہوتے تو آج ہمارے مقدر میں ویسی قیادت نہ لکھی جاتی جیسی اللہ تعالیٰ نے ہمارے اجتماعی گناہوں کی پاداش میں ہم پر مسلط کر رکھی ہے۔۔۔۔
(یہ کالم 4اپریل2012ءکو بھی شائع ہوا تھا)

Scroll To Top