میں خاموش کب تک رہ سکتا ہوں ؟ 06-04-2012

kal-ki-baat
صدر ِپاکستان جناب آصف علی زرداری کو تو شروع سے ہی اس بات کی شکایت ہے کہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ ان کے خلاف جانبدار ہے۔ اب یہ شکایت ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری کو بھی ہوچکی ہے۔ گڑھی خدا بخش میں باپ بیٹے نے خطابت کے جو جوہر دکھائے اُن پر بہت سارے تبصرے ہوچکے ہیں اس لئے میں کوئی نیا اضافہ نہیں کروں گا۔
بلاول بھٹو زرداری کو البتہ میں یہ مشورہ ضرور دوں گا کہ وہ اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹوکے افکار کا تھوڑا بہت مطالعہ ضرور کریں۔ اس کے لئے کچھ تاریخی حقائق سے واقفیت بھی ان کے لئے ضروری ہے۔ اگر وہ رہبری کے منصب پر فائز ہونا چاہتے ہیں تو محترمہ بے نظیر بھٹو کا بیٹا ہونا ان کے لئے کافی نہیں ہوگا۔ کیوں کہ وہ صرف محترمہ کے ہی نہیں زرداری صاحب کے بھی بیٹے ہیں۔
انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ جب ان کے نانا 1970ءکے عام انتخابات میں لاہور کی تمام نشستیں جیت رہے تھے تو ان کے دادا کس کیمپ میںتھے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ 5اپریل 1979ءکو ان کے ناناکی پھانسی پر جن اصحاب نے صدر ضیاءالحق کو مبارکباد کے پیغامات دیئے تھے ان میں ان کے دادا کا نام بھی تھا۔ تاریخ کے حقائق بڑے بے رحم ہوتے ہیں۔ جب سامنے آتے ہیں تو بڑوں بڑوں کے سر شرم سے جھکا سکتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ سر شرم سے جھکنے کی بجائے فخر سے بلند ہوجایا کرتے ہیں۔
جس منہ سے بلاول بھٹو زرداری نے ” شریف آف لاہور “ اور ” عمران خان آف لاہور “ کی ترکیبیں استعمال کی ہیں ` اسی منہ سے اگر وہ ” ذوالفقارعلی بھٹو آف لاہور “ کی ترکیب بھی استعمال کرلیں تو اہل پنجاب کو اس بات پر شرمندگی محسوس نہیں ہوگی کہ انہوں نے بھٹو نام پر اتنی ساری عقیدتیں نچھاور کیں۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ” جب بھٹو مرحوم کی روح دیکھتی ہوگی کہ ان کے نواسے کے نام کے ساتھ بھٹو کی شناخت کے ساتھ ساتھ زردای “ کا نام بھی چسپاں ہے تو اس پر کیا گزرتی ہوگی۔؟ پھر خیال آتا ہے کہ روحیں ایسے احساسات سے بے نیاز ہوا کرتی ہیں۔
جہاں تک محترمہ بے نظیر بھٹو کی قبر کے ٹرائل کا تعلق ہے تو میں جناب بلاول بھٹو زرداری کو یہ مشورہ ضرور دوں گا کہ وہ Way of the Worldکے مصنف ران سسکنڈ پر ہتک عزت کا دعویٰ کریں جس نے لکھا ہے کہ محترمہ اپنی شہادت سے چندروز قبل دوبئی صرف اپنے بیٹے کو اپنے خفیہ اکاﺅنٹس کے بارے میں تفصیلات بتانے کے لئے گئی تھیں۔۔۔
ایک مشورہ میں جناب بلاول بھٹو زرداری کو یہ بھی دوں گا کہ وہ قوم کو جمہوریت حق گوئی اور راست بازی کے درس دینے سے پہلے یوٹیوب سے اپنی تمام تصاویر ہٹوائیں جو پوری قوم کے لئے شرمندگی کا باعث ہیں۔۔۔
ایک مشورہ میرا چیف جسٹس صاحب کے لئے بھی ہے۔ اور وہ یہ کہ صدر زرداری کی شکایت کا ازالہ کرنے کے لئے وہ کرپشن کے خلاف اپنی جانبداری سے دستبردار ہوجائیں۔۔۔
آخر میں یہ کہوں گا کہ میں پاکستان کا بیٹا پہلے اور پنجاب کا بیٹا بعد میں ہوں۔ اور اب گالی صرف پنجاب کو نہیں پاکستان کو بھی دی جارہی ہے۔ ۔۔
میں خاموش کب تک رہ سکتا ہوں؟

Scroll To Top