فاٹا کو حق دینے میں مذید تاخیر نہ کی جائے

zaheer-babar-logo

فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد میں مسلسل ہونےو الی تاخیر کے خلاف خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی جماعتوں نے اسلام آباد میں بھرپور احتجاج کیا۔خیبر پختونخوا سے قافلوں کی صورت میں وفاقی درالحکومت پہنچنے والے مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد سے مارچ شروع کیا اور رکاوٹیں توڑتے ہوئے ڈی چوک تک جا پہنچے جہاں انھوں نے پرامن دھرنا دیا۔ریلی میں قبائلی عمائدین کے علاوہ جماعت اسلامی، پاکستان پیپلز پارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی ، پاکستان تحریک انصاف اور قومی وطن پارٹی کے قائدین نے بھی شرکت کی۔
بظاہر اس میں دو آراءنہیں کہ قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنا فاٹا کے عوام کا فیصلہ ہے اب عوام کے مطالبات کو جلد سے جلد منظور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے مگردرحقیقت فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد کے حوالے سے مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہورہی۔ یقینا قبائلی علاقوں کے مسائل ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کے بعد ہی حل ہو سکتے ہیں ۔ ستر سالوں سے نظر انداز ہونے والے اس علاقے کے مسائل بے شمار ہیں اور نوعیت بھی مختلف ہے مثلا فاٹا میں انصاف، صحت اور تعلیم جیسے مسائل پرابتدائی طور پر بھی کچھ نہیں کیا گیا۔
افغانستان کے ساتھ سرحد پر واقع ہونے اور افغانستان کے اندرونی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر قبائلی پٹی کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوچکا ۔ چاہیے تو یہ تھا کہ فاٹا کے وہ مسائل جو آسانی سے حل ہو سکتے ہیں، اب تک حل ہو چکے ہوتے تاکہ یہاں پر احساسِ محرومی میں اضافہ نہ ہو مگر باجوہ ایسا نہ ہوسکا۔ کسے شک ہے کہ صحت، تعلیم اور سستا انصاف اہل فاٹا کے بنیادی آئینی حقوق ہیں مگر انھیں مسلسل نظر انداز کیا جارہا ۔یقینا حکومت اگر چاہے تو قلیل مدت میں یہ تینوں حقوق قبائلیوں کو باآسانی دے سکتی ہے ۔
وفاقی حکومت کو نہیں بھولنا چاہے کہ فاٹا میں سیکورٹی فورسز کی بھرپور کاروائیوں کے نتیجے میں قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر ضرور ہوا مگر ان کامیابیوں کو دپریا بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی حکومتیں اپنا کردار ادا کریں۔ علاقائی اور عالمی سطح پر بدلے ہوئے حالات کے تناظر میں لازم ہے کہ اہل فاٹا کے جائز مطالبات فوری طور پر حل کیے جائیں۔ اگر یہ سچ ہے کہ جنگ سے تباہ حال اس علاقے کو فوری طور پر صوبہ کا درجہ نہیں دیا جاسکتا تو خبیر پختوانخواہ میں ضم کرنے کے لیے کسی طور پر دیر نہیںکرنی چاہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ ملک میں جمہوری نظام کسی نہ کس شکل میں رائج ہے تو اس موقعہ کا بھرپور طور پر فائدہ اٹھانا چاہے۔اہم یہ ہے فاٹا کو خبیر پختوانخواہ میںضم کرنے کے حوالے سے ملک کی نمایاں سیاسی جماعتیں جدوجہد کررہی ہیں جن میں پاکستان تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی، جمیت علماءاسلام ف اور پاکستان پیپلزپارٹی نمایاں ہیں۔
مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی جیسے سیاست دانوں کی رائے اپنی جگہ مگر اس سے کسی کو انکار نہیں کہ قبائلی علاقوں کے مسائل حل کرنے کے لیے فوری اقدمات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ فاٹا میں بنیادی حکومتوں کے نظام سے ابتدا کرنا ہوگی۔ لوکل باڈی سسٹم کا بڑا فائدہ یہ ہوسکتا ہے کہ قبائلی عوام کو ووٹ دینے کا حق ملے۔ اپنے اپنے علاقے سے زمہ دار لوگ منتخب ہونے کی صورت میں مسائل کے حل کے لیے تیزی سے اقدمات اٹھائے جاسکتے ہیں۔ دراصل اہل فاٹا کو شریک اقتدار کرکے ہی ان کی مشکلات میں بڑی حد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔
یاد رکھا جائے کہ فاٹا تاحال علاقائی اور عالمی طاقتوں کی نظروں سے اوجھل نہیںہوا۔یہ سمجھا جارہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں اب بھی ایسے مطلوب افراد موجود ہیں جو خطے میں ایک بار پھر امن وامان کی صورت حال خراب کرسکتے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ کی جانب سے قبائلی علاقے میں ہونے والا ڈرون حملے بھی اس بات کا اشارہ ہے کہ انکل سام مسقبل قریب میں ایسی مذید کاروائیوں سے باز نہیں رہنے والا۔
فاٹا میں امن اور ترقی کا سارا بوجھ پاک فوج پر ڈال دینا کسی طور پر درست نہیں۔ لازم ہے کہ اس کے لیے حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں ہی اپنے اخلاص کا ثبوت دینے کے لیے آگے بڑھیں۔ قبائلی علاقوں کی تعمیر وترقی کو قومی جذبہ کے تحت آگے بڑھانا ہے اس کے لےے صرف اور صرف سیاست چمکانا کسی طور پر درست نہیں۔یہ افسوس کی بات ہے کہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود فاٹا کے علاقوں کو عملا عام پاکستانی کا درجہ نہیں دیا جارہا۔ وجوہات کچھ بھی ہوںمگر سچ یہی ہے کہ جمہوری وغیر جمہوری حکومتیں آتی جاتی رہیں مگر عملااہل فاٹا کی داد رسی کی کوئی ٹھوس کوشش نہ کی جاسکی۔ پاکستان تیزی سے بدل رہا ہے۔ عام شہری ان بنیادی حقوق سے آگہی حاصل کررہا جو طویل عرصہ سے اسے نہیں دئیے جارہا ۔ اس پس منظر میں فاٹا کے تعلیم یافتہ نوجوان بھی اپنے مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہیں، وہ ان ہی قومی اداروں اور شخصیات کے مدعا ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں ان کے مقدمہ کو آگے بڑھا رہے۔ یاد رکھاجائے کہ آج نہیں تو کل اہل فاٹا کو ان کا حق مل کر رہیگا مگر وہ لوگ جو انھیں منزل سے دور رکھنے کے لیے کوشاں ہیں مسقبل کے فاٹا میںان کی ہرگز پذائری نہیں ہونے والی۔ اہل فاٹا کو اپنے آئینی حق کے لیے جدوجہد جاری رکھنا ہوگی۔ اس ضمن میں دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات اہمیت حاصل کرچکے جن میں ان ہی قوتوں کی کامیابی کا امکان ہے جو قبائلی علاقوں میں رہنے والوں کو فوری طور پر ان کا جائز مقام دلانے کے حق میں ہیں۔

Scroll To Top