القاعدہ کی انفرادی دہشتگرد کارروائیاں اور مسافروں پر حملے قران و سنت سے انحراف اور ناکامی کا کھلا ثبوت ہیں

  • سید ثاقب علی شاہ

رواں سال انسداد دہشت گردی کی منظم کاروائیوں کے نتیجے میں دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے متعدد رہنما جاں بحق ہوئے جبکہ اس تنظیم کے کئی سرکردہ لوگ گرفتار کیئے گئے اور باقی بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔القاعدہ پر واقع ہونے والی اس ناگہانی صورتحال میں ان کے دہشت گردانہ نظریات کے خلاف عالم اسلام کے تمام جید علماء اکرام کے متفقہ فتوے نے انھیں اس بات پر مجبور کر دیا کہ اپنی دہشت گرد کاروائیوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے کےلیے لوگوں کو گمراہ کرکے انفرادی اور خود ساختہ حملوں پر ا±کسائیں۔ افغانستان میں موجود القاعدہ کے محفوظ ٹھکانوں کی تباہی کے بعد ایمن الظواہری کو اس بات کا احساس ہو گیا کہ دوبارہ سے تربیتی کیمپس اور مرکزی نظامت کو بحال کرنا ناممکن ہے۔لہذا ظواہری نے اپنے حامیوں کے لیے درجنوں وڈیوز اور ا?ڈیوز پر مبنی پیغامات کو سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے کثرت سے پھیلانا شروع کیا ہے۔ ان پیغامات میں نئے بھرتی ہونے والے لوگوں کو القاعدہ کے جھنڈے تلے انفرادی حیثیت میں کردار ادا کرنے کی ترکیب بنائی گئی ہے۔ اس پروپیگنڈے سے القاعدہ کے متعدد نوجوانوں کو عراق ، سعودی عربیہ،مصر ، شام،اردن ،مراکش ،سپین اور برطانیہ میں خودکش اور روایتی بم دھماکوں کےلیے حوصلہ افزائی کر کے ان کا استحصال کیا گیاہے۔
تمام عالم اسلام میں القاعدہ کے دہشت گردانہ نظریات کی نفی کی گئی ہے اور اس کے رہنماو¿ں کو دہشت گردی کے فروغ کےلیے جہاد کے اسلامی نظریے کے استعمال پر شدید مذمت کا سامنا ہے۔تمام علماء اکرام نے متفقہ طور پر یہ فتویٰ جاری کیا کہ جہاد کے اعلان کرنے کا استحقاق صرف اور صرف اسلامی ریاست کو حاصل ہے جبکہ کسی گروہ یا فرد کا انفرادی حیثیت میں ایسا اقدام قطعاً حرام ہے۔اس کے علاوہ تمام مکاتب فکر کے فاضل علمائ اکرام نے تمام دہشت گرد تنظیموں کے خودکش حملوں ، معصوم بچوں، عورتوں کے قتل اور لوگوں کی جائیدادوں کو نقصان پہنچانے کی ہمیشہ سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔مگر القاعدہ، داعش،ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد تنظیموں نے ہمیشہ مسلمان نوجوانوں کو دہشت گرد کاروائیوں ، غیرقانونی اقدامات ،جرائم اور تشدد کے لیے استعمال کیا ہے۔انفراد ی دہشت گرد کاروائیاں ،مسافروں اور ریل گاڑیوں پر دہشت گرد حملے انسانی ح±رمت اور مسافروں کے ساتھ برتاو¿ کی اسلامی تعلیمات کے بلکل برعکس ہیں۔
موجود ہ حالات میں یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ جب علماء اکرام نے یہ بات ثابت کر دی کہ اسلامی فقہ کے مطابق جہاد کا استحقاق صرف اور صرف ریاست کو حاصل ہے تو پھر کوئی فرد انفرادی حیثیت میں پ±ر تشدد کاروائیوں ،خودکش حملوں اور انفرادی جہاد کا جواز کیسے پیش کر سکتاہے؟ القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں یہ چاہتی ہیں کہ ہر کوئی اپنے علم، مقاصد اور ذاتی تعصبات کے قطع نظر سوچے سمجھےبغیردہشت گرد کاروائیاں کرئے جو کہ سراسر غیر اسلامی اور مجرمانہ نوعیت کی سوچ ہے۔ ان دہشت گرد تنظیموں کی انفرادی کاروائیوں کا نشانہ بننے والے اکثریتی معصوم بچے اور عورتیں ہیں جنھیں یہ بھی معلوم نہیں کہ انھیں کس جرم کی پاداش میں جان سے ہاتھ دھونا پڑاہے۔ اسلام نے کسی بھی معصوم کی جان لینے کو سختی سے منع کیا ہے۔ تمام مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کو اس حقیقت کا واضح علم ہونا چاہیے کہ نبی اکرم نے فرمایا،"ایک انسانی زندگی کی ح±رمت کعبہ کی حرمت پر مقدم ہے"۔ تاہم دہشت گرد حملے جہاد نہیں اور انفرادی دہشت گرد کاروائی تو دہشت گردی کی بد ترین قسم ہے۔
حال ہی میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے اہلکاروں کےلیے میگزین "انسپائر" کی خصوصی اشاعت کی گئی جس کی داعش نے بھر پور انداز میں تائید کر کے اسے مزید فروغ دیا۔اس اشاعت میں خصوصی طورپر گاڑیوں کے استعمال سے انفرادی دہشت گردحملے اور ریل گاڑیوں کو ممکنہ طور پر تباہ کن دہشت گردانہ کاروائیوں کےلیے نشانہ بنانے پر ا±کسایا گیا ہے۔اس نوعیت کی دہشت گرد کاروائیوں کی حالیہ لہر میں داعش کے راہنماو?ں کی متعدد اپیلیں شامل ہیں جس میں اپنے حامیوں سے برملا یہ استدعا کی گئی ہے کہ وہ انفرادی حیثیت میں کوئی بھی حربہ استعمال کرکے عام معصوم شہریوں کو قتل کریں۔یہ دہشت گرد تنظیمیں ایسے انفرادی حملوں کی ذمہ داری فوری طور پر قبول کرتی ہیں۔القاعدہ اور داعش کی ایسے حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد حملے کے متعلق حکمت عملی یا عمل درآمد پر کوئی تفصیل نہیں ہوتی جبکہ یہ اسے پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کرتےہیں۔موجودہ دور میں یہ دہشت گرد تنظیمیں باقاعدہ رہنماو¿ں کے بغیر کیے جانے والے انفرادی جہاد کے جھوٹے نظریے کو فروغ دے کر مشرق وسطیٰ اور یورپ میں خوف پھیلانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔
یہ تمام دہشت گرد گروہ لوگوں کو ایک متحدہ پلیٹ فارم پر اکھٹا کرنے اور متفقہ نظریے پر قائل کرنے میں مسلسل ناکام ہو رہے ہیں تاہم انھوں نے عام شہریوں کو بہکا کر استعمال کرنے کی مہم شروع کی جو آسانی سے ان کے جال میں پھنس جاتےہیں۔داعش اور القاعدہ کا وسیع پیمانے پر دہشت گرد کاروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا مقصد ایک دوسرے کے خلاف ترجیح حاصل کرنا بھی ہے تاکہ دہشت گرد تنظیموں میں زیادہ بڑی اور بااثر تنظیم ثابت ہو سکیں۔یہی وجہ ہے کہ اکثرایک ہی دہشت گرد کاروائی کی ذمہ داری مختلف تنظیمیں قبول کر رہی ہوتی ہیں۔ایسی انفرادی کاروائیوں کے فروغ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ درحقیقت ان کی تنظیم انتہائی کمزور ہے جو صرف جھوٹے اصولوں پر پروپیگنڈا کر کے افراتفری اور دہشت گردی کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
نتیجتاً القاعدہ ، داعش اور دیگر تنظیموں کا انفرادی حملوں پر ا±کسانا اور یورپ میں موجود ریل گاڑیوں کو نشانہ بنانا اسلامی تعلیمات کے برعکس ہے۔ یہ دہشت گرد مسافروں پر حملے کرتے ہیں۔قرآن حکیم میں واضح طور پر بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نےقوم شعیب کو شاہراوں پر چلنے والے مسافروں کو نقصان پہنچانے کی پاداش میں تباہ کر دیا تھا۔ریل گاڑیوں پر سوار مسافروں کو نشانہ بنانا اصل میں حضرت شعیب کی بدقسمت قوم کی پیروی کرنےکے مترداف ہے۔اس کے علاوہ قرآن پاک مسافروں کو سہولیات فراہم کرنے کی تلقین کرتا ہے اور نبی اکرم کی حدیث کے مطابق مسافروں کے راستے سے پتھر اور کانٹے ہٹانا بھی باعث اجر ہے۔جس کے پاس ذرا بھی دین اسلام کا علم ہو وہ القاعدہ اور داعش کے ایسے اقدامات کی بھرپور مذمت کرے گا جو مسافروں کےلیے تکلیف کا باعث بنے۔تاہم مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کو دہشت گرد تنظیموں کے ایسے نظریات کو یکسر مسترد کرنا چاہیے جو قرآن و سنت کی تعلیمات کے برعکس ہیں۔ ایسے شدت پسندانہ نظریات اور دہشت گردی کو فروغ دیناناتو دینی اعتبار سے جائز ہے اور نا ہی اخلاقی اعتبار سے قابلِ قبول عمل ہے۔

Scroll To Top