خودکش حملوں کے ذریعے بزرگان ِدین کے مزارات کی بے حرمتی دہشت گردوں کا ایک سنگین گناہ ہے

  • افتخار حسین

قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے،"اور اللہ اگر ایک کی طاقت کے ذریعے دوسرے کو روکے نہ رکھتا تو ضرور ڈھا دی جاتی خانقاہیں ،گرجا گھر،یہودی معابد اور مسجدیں جن میں اللہ کا بکثرت نام لیا جاتا ہےاور بے شک اللہ ضرور مدد فرمادے گااس کی جو اس کے دین کی مدد کرے گا،بیشک ضرور اللہ قدرت والا غالب ہے"(سورة الحج،آیت نمبر ۴۰)۔قرآن مجید کی یہ ا?یت ہرمذہب اور فرقے کی عبادت گاہوں اور خانقاہوں کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہےاورظاہر کرتی ہے کہ اللہ کریم اپنی قدرت اور رحمت کے ذریعےسے مذہبی جنگوں اور انتہا پسندی کو روکےہوئے ہیں۔برصغیرکے صوفی بزرگانِ دین قرا?ن مجیدکی مذکورہ ا?یت کی جیتی جاگتی تصویر تھےجنھوں نےبرصغیر میں اسلام کی اشاعت کےلیےبہت اہم کردار ادا کیا۔گزشتہ ایک دھائی میں دہشت گرد تنظیموں نے پاکستان میں موجود مختلف بزرگانِ دین کی درگاہوں اورمزارات پر متعدد دہشتگرد حملے کر کے ناصرف ان علماء اور بزرگانِ دین کے تقدس کو پامال کیا بلکہ اسلام دشمنی کا بھی ک±ھلا ثبوت دیا۔ مسلم دنیا کے نامور روحانی پیشوا حضرت علی ہجویری،بابا فرید اور لعل شہباز قلندر جو لاکھوں ہندوں کے قبول اسلام کا ذریعہ بنے،ان کے مزارات بھی ان دہشت گردوں کے نشانےپر رہے۔اسلامی تعلیمات کے مطابق عام مسلمانوں کی قبروں کا تقدس بھی لازم ہے مگر بد قسمتی سے طالبان ، داعش اور القاعدہ نے ان قابل احترام صوفی بزرگان دین کی خانقاہوں پر ۷۰ سے زائددہشتگرد حملے کیے۔ان دہشت گرد حملوں میں خودکش بمبار استعمال کیے گئےجس میں دہشت گرد وں نے کئی معصوم مسلمانوں کو شہید کیا۔
ان دہشت گرد تنظیموں میں سرِفہرست تحریک طالبان پاکستان ہے جس نے ۲۰۰۷ سے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ساتھ ساتھ مسجدوں ، عبادت کرنیوالے نمازیوں اور بازاروں میں عام شہریوں پر دہشت گرد حملوں کا ا?غاز کیا۔یہ دہشت گرد اس کے بعد مزید تباہی اور انتشار پھیلانے کے لیےالقاعدہ اور داعش کی ایماءپر صوفی بزرگان دین کے مزارات پر سنگدلانہ اور بہیمانہ حملوں کی مہم کوجاری رکھے ہوئے ہیں۔زہد، ریاضت اور عبادت سے منسلک درگاہوں کی ثقافت کا سلسلہ کئی سو سال سے برصغیر میں موجود ہے۔یہ صوفی بزرگانِ دین آٹھویں صدی میں عراق ، ایران اور وسط ایشیا سے بڑی تعداد میں برصغیر آئےاور علماء کرام کے ساتھ علاقے میں اسلام پھیلانے اور سماجی بہبود میں پیش پیش رہے۔یہاں اس بات کا ذکر کرنا بجا ہوگا کہ سلافی مکتبہ فکر کے امام شیخ ابنِ تیمیہ عالم اسلام کے بہت بڑے صوفی بزرگ شیخ عبدالقادر گیلانی کے بہت بڑے مداح تھےاور انھوں نے اپنی کتابوں میں ان کا ذکر محبت اور احترام سے کیا ہے لہذا القاعدہ اور داعش ان صوفی بزرگانِ دین کے مزارات پر خودکش حملے کر کےاپنے ہی امام کی تعلیمات سے انحراف کر رہے ہیں۔
صوفی درگاہوں پر بدترین دہشت گرد حملوں میں یکم جولائی۲۰۱۰ کو داتا دربار لاہور پر دو دہشتگردوں کا حملہ ہے جس میں ۴۲ افراد شہید اور ۱۷۲زخمی ہوئے۔۸ اکتوبر ۲۰۱۰ کوکراچی کے علاقے کلفٹن میں ان دہشتگردوں نے عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر دو بم دھماکے کیے جس سے ۸ لوگ شہید اور ۶۵ زخمی ہوئے۔اسی طرح پاکستان کی اہم صوفی درگاہوں میں سے پاک پتن میں بابا فرید کا مزار ہےجو۲۶ اکتوبر ۲۰۱۰کو دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنا اور اس میں ۶ افرادشہید اور ۱۲ زخمی ہوئے۔۳ اپریل ۲۰۱۱ کو ایک اور ممتاز صوفی بزرگ احمد سلطان جو سخی سرور کے نام سے مشہور ہیں،دوخودکش حملہ آوروں نے ڈیرہ غازی خان میں ان کی درگاہ پربھی حملہ کیا جس میں ۵۱ لوگ شہید اور ۱۰۰ سے زائد زخمی ہوئے۔ اسی طرح ان دہشت گردوں نے ۱۲ نومبر ۲۰۱۰کو شاہ نورانی کے مزار پر خودکش حملہ کرکے ۶۰ عام لوگوں کو شہید اور ۱۰۰ سےزائد لوگوں کو زخمی کیا۔
لعل شہباز قلندرکے لقب سے مشہور سید عثمان مروندی تیرہویں صدی کے بزرگ تھے جو سارے جنوبی ایشیا میں مشہور ہیں ، افغانستان ،بھارت اور بنگلہ دیش سے ہر سال لوگ ان کے مزار پر حاضری دیتے ہیں۔لعل شہباز بھی دوسرے بزرگوں کی طرح اسلام کی تحمل اور روادارانہ تعلیمات پر یقین رکھنے والے تھے جو دہشت گردوں کی سوچ کے بلکل بر عکس ہے۔ اسی ضمن میں۱۶ فروری ۲۰۱۷ کو داعش سے تعلق رکھنے والے ایک خودکش بمبار نے لعل شہباز قلندر کے مزار پر خودکش حملہ کر کےخود کو بھائی چارے اور رواداری کے سنگین مخالف ہونے کاواضح ثبوت دیا۔ صدیوں سے جنوبی ایشیاکے متعدد علاقے ان بزرگان دین کی تعلیمات کی وجہ سے مذہبی رواداری اور ثقافتی ہم ا?ہنگی کا مرکز ہیں جہاں نا صرف مختلف فرقوں کے لوگ ساتھ رہتے ہیں بلکہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی سماجی معاملات میں اشتراک رکھتے ہیں۔صوفی بزرگان دین کی صوفیانہ تعلیمات کی تبلیغ نےان علاقوں کی سماجی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
تحریک طالبان ، داعش ، القاعدہ و دیگر دہشت گرد تنظیمیں صوفی اسلام کے سخت خلاف ہیں جو ان کےشدت پسندانہ دہشتگرد نظریات کی نفی کرتے ہیں۔یہ دہشت گرد تنظیمیں عراق و شام میں بھی مزارات اورمسجدوں پر خود کش حملے کرتے ہیں۔یہ دہشتگرد کثیر الثقافت معاشرے کے سخت مخالف ہیں جس کی وجہ سے یہ مزارات ، مسجدوں اور دیگر مقامات پر خودکش حملے کرتے ہیں جو ان کے نزدیک غیر اسلامی ہیں۔ ان مزارات اور صوفی بزرگان دین کے پیروکاروں پر حملوں کی ایک وجہ نظریاتی بھی ہے کیونکہ صوفی اسلام رواداری اور بھائی چارے کا درس دیتا ہےجو دہشتگردوں کے شدت پسندانہ بیانے کے برعکس اور دہشتگرد نظریات کےلیےایک بڑا خطرہ ہے۔ان دہشت گرد تنظیموں کو شکست دینے کے لیے فوجی آپریشنزکے ساتھ اسلام کی اصل تعلیمات کو فروغ دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ایک سچا مسلمان کبھی بھی مزارات یا مسجدوں میں خودکش دھماکے کرنے کو جہاد تصور نہیں کرسکتاجس میں محض بے گناہ جانوں کا ضیائع ہوتا ہے۔
دہشتگرد تنظیمیں اسلامی تعلیمات کے حقیقی پیروکاروں پر دہشت گرد حملے کرتے ہیں تاکہ لوگ ان کے شدت پسندانہ نظریے سے خوفزدہ ہوجائیں۔مزارات و دیگر عبادت گاہوں پر حملے واضح کرتے ہیں کہ طالبان،داعش و دیگر دہشت گرد تنظیمیں اپنے تجویز کردہ شدت پسندانہ نظریات کے علاوہ کسی قسم کے مسلمانوں کو برداشت نہیں کرتے۔یہ دہشت گرد جو مقدس مقامات پر حملے کرتے اور عام مسلمانوں کو شہید کرتے ہیں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور یہ دنیا میں اسلام کی بدنامی کا باعث اور تمام فساد کی جڑ ہیں۔پاکستان کی ساری عوام دہشتگردوں کے شدت پسندانہ نظریات کو مسترد کرتےہیں اور آپریشن "ردالفساد" میں ان کا قلع قمع کرنے کے لیے متحد ہیں۔

Scroll To Top