نئے چیرمین نیب کے لیے بڑے چیلنجز ہں

zaheer-babar-logo
جسٹس ریٹائر جاوید اقبال کی بطور چیرمین نیب تقریری پر ایک سے زائد آرا موجودہیں مگرا س میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ موجودہ حالات میں ان پر نئی زمہ داری کئی لحاظ سے چیلنج ہے۔سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کی پانامہ لیکس کے مقدمہ میں پانچ رکنی بینچ کے متفقہ فیصلہ کے نتیجے میں نااہلی کے پاس حکمران جماعت احتساب کے عمل کو جس انداز میں غیر شفاف قرار دے رہی اس سے حالات کی سنگینی کا باخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ تازہ پیش رفت میں احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم پاکستان اور ان کے بچوں پرفرد جرم عائد کرنے کے لیے 13اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے ۔
وطن عزیز میں نیب کے متعلق کسی طورپر ایسے مثبت رائے نہیںپائی جاتی ۔ پاکستان کے باشعور شہریوں کا ٰخیال ہے کہ قومی احستاب بیورو عملا ایسے ادارے کی شکل اختیار کرچکا جس کا کام طاقتور طبقات کے جرائم پر پردہ ڈالنا ہے۔ یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ تادم تحریر مبینہ طور پر کسی بھی طاقتور بدعنوان شخص کے خلاف قانون پر اس انداز میں عمل نہیں ہوا جو اطمنیان بخش کہلائے ۔خود سپریم کورٹ پانامہ لیکس کے مقدمہ کی سماعت کے دوران کئی مرتبہ قومی احتساب بیورو پر بارے اپنی ناپسندیگی کا اظہار کرچکی۔سوال یہ ہے کہ آخر جسٹس ریٹائر جاوید اقبال اس ادارے کی ساکھ اور کارکردگی بہتر بنانے میںکس طرح کامیاب ہوں گے۔ بلاشبہ شریف خاندان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کا منطقی انجام تک پہنچنا نئے چیرمین کے لیے بڑا چیلنج ہوگا۔یاد رہے کہ متحرک میڈیا اور پاکستان کے سب سے طاقتور سیاسی خاندان کے خلاف عدالتی کاروائی کسی طور پر نیب کا کردار پس منظر میں نہیں جانے دیگا۔
قبل ازیں جسٹس ریٹائر جاوید اقبال کئی اہم زمہ داریاں نبھا چکے۔ مثلا القائدہ سربراہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد سے گرفتاری کے معاملے کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی سربراہی جسٹس جاوید اقبال کے حصہ میں آئی جس کی رپورٹ حکومت نے تاحال جاری نہیں کی۔ بتایا جاتا ہے کہ جسٹس جاوید اقبال اپنے فرائض کی ادائیگی باخوبی کرنا جانتے ہیں۔ مثلا ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ تیار کرتے وقت اس وقت کے انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ کو بیان ریکارڈ کروانے کے لیے طلب کیا تو انھوں نے انکار کر دیا جس پر کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائر جاوید اقبال نے پیغام بھیجا کہ خود پیش ہوں گے یا بندے بھیج کر بلوایا جائے؟۔ اس پر
انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ اگلی پیشی پر موجود تھے۔
دراصل جسٹس ریٹائر جاوید اقبال اپنے ساتھیوں میں ایک دیانت دار فرد کی پہچان رکھتے ہیں جو سرکاری خزانے کو اتنی احتیاط سے خرچ کرتے ہیں کہ ایبٹ آباد کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے انھوں نے نا صرف یہ کہ تنخواہ لینے سے انکار کیا بلکہ کمیشن کے اجلاس میں شرکت کے لیے غیر ضروری پروٹوکول اور گاڑیاں استعمال کرنے سے گریز کیا ۔ خیال یہی ہے جسٹس جاوید اقبال بظاہر عمر رسیدہ ہونے کے باوجود ذہنی اور جسمانی صلاحیت بہت سوں سے بہتر ہے۔ مثلا ایبٹ آباد کمیشن کے کئی کئی گھنٹے جاری رہنے والے اجلاسوں کے بعد جب بہت سے لوگ تھکے قدموں سے گھروں کی راہ لیتے، جسٹس جاوید کی ڈیوٹی پر تازہ دم اسٹاف بلوایا جاتا۔
جسٹس جاوید اقبال لاپتہ افراد کے بارے میں بھی کام کرتے رہے اس ضمن میں انھوں نے کئی افراد کو بازیاب کروایا جبکہ کئی مسلسل لاپتہ رہے۔ نئے چیرمین نیب کو پی سی او کا حلف لینے پر سابق صدر پرویز مشرف نے سنہ 2000 میں بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا لیکن دو نومبر 2007 میں انھوں نے پرویز مشرف کی ایمرجنسی کو قبول کرنے سے انکار کیا اور گھر پر نظر بند رہے۔
جسٹس ریٹائر جاوید اقبال تاریخ کے موڈ پر نیب کے چیرمین بنائے گے جبکہ ان کے ماتحت ادارے میں تین مرتبہ وزرات عظمی کے منصب پر فائز رہنے والی شخصیت کا پورا خاندان احتساب کے عمل سے گزر رہا ہے۔ کہنے کو تو آئینی تقاضے کے سببب حکومت اور اپوزیشن کی مشاورت کے نتیجے میں جسٹس جاوید اقبال کی تقریری عمل میں آئی مگر مذکورہ معاملے کی اہمیت اس سے کئی گنا بڑھ کر ہے۔ اس میں شک نہیں کہ نیب نے پاکستانیوں کی اکثریت کو اس کا یقین دلانا ہے کہ مملکت خداداد پاکستان کا قانون محض کمزور افراد کے لیے نہیں۔ جسٹس جاوید اقبال ملک کی سب سے بڑی عدالت سے ریٹائر ہوئے ہیں لہذا وہ نظام عدل کے مسائل اور وسائل دونوں سے باخوبی آگاہ ہیں۔ بدلے ہوئے پاکستان میں عوام کی اکثریت بھرپور احتساب کا مطالبہ کررہی تو دوسری جانب علاقائی اور عالمی سطح پر مسلسل بدلے ہوئے حالات متقاضی ہیں کہ پاکستان میںسیاسی استحکام کو فروغ حاصل ہو۔
پاکستان تحریک انصاف طاقتور سیاسی شخصیات کے مطالبہ پر بدستور قائم ہیں۔ بعض حوالوں سے عمران خان اس پر معترض ہیں کہ چیرمین نیب کی تقریری کے معاملے میں ان سے مشاورت نہیں کی گی۔ چیرمین تحریک انصاف طویل عرصہ سے موقف رکھتے ہیں کہ پی ایم ایل این اور پی پی پی کے درمیان خاموش مفاہمت موجود ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف کسی طور پر بدعنوانی کے مقدمات کو منطقی انجام تک نہیں پہنچائے جائیں گے ۔ پانامہ لیکس میں سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کی نااہلی بھی بظاہر عمران خان کی بھرپور سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں عمل میں آئی۔ قومی تاریخ سے شناسا کسی بھی شخص کے لیے آنے والے دنوں میں غیر جانبدار اور شفاف احتساب کے عمل پریقین کرنا آسان نہیں مگر اب پانامہ لیکس کے مقدمہ کی شکل میں جس طرح قانون اپنا راستہ بنا رہا اسے بھی ہرگز فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

Scroll To Top