اگر ریاست کے خلاف کوئی جرم ہوا ہے تو انتقام لینا ریاست کا حق ہی نہیں فرض بھی ہے۔۔۔

aaj-ki-bat-logo

انتقام کا لفظ میاں نوازشریف ` ان کی صاحبزادی مریم نواز اور ان کے جاں نثار نون لیگیوں کو از بر کرا دیا گیا ہے۔۔۔ یہ لفظ عرصہ ءدراز سے ہر وہ شخص اپنے دفاع کے طور پر استعمال کرتا چلا آرہا ہے جسے اپنے کسی عمل(یا اعمال)کے نتیجے میں ریاست کی قانونی گرفت کا سامنا کرنا پڑا ہو۔۔۔
نیب کے ریفرنسز کے سلسلے میں عدالت کے سامنے پیش ہونے کے لئے پاکستان روانگی کے وقت ہی مریم نواز نے یہ کہنا شروع کردیا کہ یہ احتساب نہیں ` انتقام ہے ۔۔۔ جب وہ اپنے شوہر کے ہمراہ اسلام آباد پہنچیں تو کیپٹن (ر)صفدر کو نیب نے احتساب عدالت کے احکامات کے مطابق اپنی تحویل میں لے لیا۔۔۔اس پر ان کے صاحبزادے جنید نے فوراً بیان داغ دیا کہ یہ انتقام ہے۔۔۔ ان کے نانا میاں نوازشریف بھی پیچھے نہ رہے اور بول پڑے کہ یہ انتقامی کارروائی ہے۔۔۔ وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق شریف خاندان سے جنون کی حد تک عشق کرنے کی بناءپر زیادہ جذباتی ہو کر کہہ رہے ہیں کہ ملک و قوم کی خدمت عبادت سمجھ کر کرنے والوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں بند کرو ورنہ اگر ہمالیہ نہ بھی رویا تو جاتی امراءکو ڈھانپنے والا آسمان ضرور روئے گا۔۔۔
میں اِس ضمن میں یہ سوچے بغیر نہیں رہ پا رہا کہ دنیا میں کون سا ایسا ملزم ہوگا جو اپنے خلاف ہونے والی قانونی کارروائی کے بارے میں ” انتقامی انتقامی “ کا واویلا نہیں کرے گا۔۔۔اس لئے اگر میاں نوازشریف مریم نواز اور ان کے حامیوں کے منہ پر انتقام کا لفظ چڑھ گیاہے تو اچبھنے کی کوئی بات نہیں۔۔۔
اگر کہیں جرم ہوتا ہے تو اس کا ارتکاب کرنے والا بھی کہیں نہ کہیں ضرور موجود ہوتا ہے۔۔۔ قانون کا حرکت میں آنا بھی ایک فطری بات ہے۔۔۔ کسی نہ کسی پر الزام لگنا یا کسی کا ملزم قرار پانا بھی بعید از قیاس نہیں۔۔۔ جو شخص بھی ملزم نامزد ہوتا ہے وہ اپنے خلاف عائد کئے جانے والے الزام کو ” انتقام“ یا ” جھوٹ “ قرار دے کر مسترد کئے بغیرنہیں رہتا۔۔۔
اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ملزم پر لگنے والا الزام درست نہ ہو۔۔۔ مگر اس امکان سے بھی نظریں نہیں چرائی جاسکتیں کہ الزام درست ہو۔۔۔
جہاں تک ” انتقام“ کی اصطلاح کا تعلق ہے اس کا اطلاق اس سزا کے معنوں میں بھی ہوتا ہے جو کسی کو اس کے جرم کی پاداش میں ملے۔۔۔
ایک لحاظ سے اللہ تعالیٰ بھی انتقام لیتا ہے ` ان لوگوں اور قوموں سے جو اس کے احکامات کی پامالی میں حد سے بڑھ جاتے ہیں۔۔۔
معاشرہ بھی انتقام لیتا ہے ` ان لوگوں سے جو اس میں نفاق جرم اورفساد کے بیج بوتے ہیں۔۔۔
ریاست بھی انتقام لیتی ہے ` ان لوگوں سے جو اس کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور اس کے مفادات کو نقصان پہنچاتے ہیں یہ جو ریفرنسز شریف خاندان کے خلاف درج ہوئے ہیں اور جن کی وجہ سے میاں نوازشریف ان کے بچوں او ر ان کے داماد کو عدالتی کارروائی کا سامنا ہے انہیں سمجھنا ضروری ہے۔۔۔
سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے تو مدعی ریاستِ پاکستان ہے اور ملزمان شریف خاندان کے افراد ہیں۔۔۔
گویا شریف خاندان اور خواجہ سعد رفیق وغیرہ وغیرہ کا فرمانا یہ ہے کہ ریاست پاکستان ملزمان سے انتقام لے رہی ہے۔۔۔ جہاں تک خواجہ سعد رفیق (یا ان کے دیگر ہم نواﺅں)کا تعلق ہے وہ حکومت کا حصہ ہیں۔۔۔ گویا حکومت ریاست پر یہ الزام لگا رہی ہے کہ وہ انتقامی کارروائیوں میں مصروف ہے۔۔۔ سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریاست کون چلا رہا ہے ؟ کیا ”کاروبارِ ریاست“حکومت کے ہاتھوں میں نہیں۔۔۔؟ اگر ہے تو پھر خواجہ سعد رفیق صاحب اور ان کے ہم نواﺅں کو چاہئے کہ ریاست کے خلاف جنگ لڑنے سے پہلے وہ حکومت سے کنارہ کش ہوجائیں۔۔۔
اگر ریاست کے خلاف کوئی جرم ہوا ہے تو انتقام لینا ریاست کا حق ہی نہیں فرض بھی ہے۔۔۔

Scroll To Top