خدا نہ کرے کہ وہ وقت آئے۔۔۔! 03-4-2012

kal-ki-baatبے حسی ملک پراپنی پوری توانائیوں ` جولانیوں اوربدمستیوں کے ساتھ حکمران ہے۔ وہ شاعر بڑا تھا جس نے کہا تھا کہ ” خواہشیں سمیٹ کر سارے جہان کی ` جوکچھ نہ بن سکا تو میرا دل بنا دیا۔ “ مگر اس سے بڑا شاعر وہ ہوگا جو موجودہ ” دورِ خرابی “ کے گزر جانے کے بعد کہے گا ۔” بے حسیاں سمیٹ کر سارے جہان کی جو کچھ نہ بن سکا تو حاکم ِپاکستان بنا دیا۔“
میں یہاں کسی ایک فرد کی بات نہیں کررہا ۔ اگرچہ روایات افراد سے ہی جنم لیا کرتی ہیں ` اور افراد ہی پاکستان پر حکمران ہیں ` مگر بات یہاں رویّوں کی ہے جن سے روایات جنم لیتی ہیں۔ ایسی روایات جنہیں اختیار کرکے اچھے بھلے آدمی ” بے حسی “ کے چلتے پھرتے شاہکار نظر آنے لگتے ہیں۔ اگر یہ بے حسی نہیں تو پھر اور کیا ہے کہ ایک آدمی ایک طیارے میں سوار ہو کر اسلام آباد سے اُڑے ` ایسی جگہ جائے جہاں شاید اسے جانا تھا۔ مگر وہاں جاکر اسے خیال آئے کہ کیوں نہ لندن کی بھی سیر کرآﺅں۔ چنانچہ وہ اس جہاز میں لندن چلا جائے۔ وہاںلاکھوں کی رقم اپنے جہاز کے لینڈنگ رائٹس وغیرہ کے لئے خرچ کرے۔ جب وہ واپس آئے تو اسے خیال ہی نہ ہو کہ وہ عوام کے ادا کردہ ٹیکسوں میں سے کروڑوں بڑی بے دردی کے ساتھ پھونک آیا ہے۔ ؟ بے حسی کے اس مظاہرے میںوہ اکیلا نہیں ۔ ایک دوسرے آدمی کو چین جانا ہے اور اس کے لئے وہ اپنے ہمراہ 6درجن مصاجین کی فوج ظفر موج ساتھ لے کر جاتا ہے۔ دونوں کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ جس ملک کے وہ حکمران ہیں اس کے عوام تنگدستی اور مصائب ومسائل کے ہاتھوں مجبور ہو کر سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں۔
بے حسی کب تک یوںہمارے ملک کی تقدیرسے کھیلتی رہے گی۔؟ کب تک ہمارے روساءاور امراءاپنی شاہانہ زندگی کی نمائش کے ذریعے عوام کی مفلوک الحالی کا مذاق اڑاتے رہیں گے۔؟
اگر وہ وقت آگیا جب بے بس عوام کا طیش بپھر کر گاڑیاں توڑنے کے ساتھ ساتھ گاڑیوں میں سوار لوگوں کو بھی ” توڑنا “ شروع کردے گا تو کیا ہوگا۔؟
اگر اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لئے کوئی مداخلت نہ ہوئی تو یہاں جو ” طبقاتی جنگ “ شروع ہوگی وہ بہت کچھ جلا کر خاک کردے گی۔
خدا نہ کرے کہ وہ وقت آئے۔
مگر اس وقت کو ٹالنے کے لئے ضرور ی ہے کہ ہم من حیث القوم اٹھیں اور ” بے حسی “ کے عفریت کو چاروں شانے چِت کرکے اس کی گردن پر چھُری پھیر دیں۔۔۔

Scroll To Top