”بچنا ہے تو بچ جائیں بھائی جان اب بھی وقت ہے!“

aaj-ki-bat-logo
شریف برادران میں ایک قدر مشترک بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ دونوں آج کل اپنی قابلیت علمیت اور انقلابیت کا ثبوت اشعار پڑھ کر دے رہے ہیں۔ ایک معروف شاعر کا کوئی معروف شعر پڑھنے میں کوئی ہرج نہیں۔ مثلاً یہ کہ ” خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے۔ خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے۔“ یا پھر یہ کہ ” اے طائرِ لاہوتی اس رزق سے موت اچھی۔۔۔ جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی۔“ اتفاق سے میں نے مثال دینے کے لئے دونوں اشعار علامہ اقبالؒ کے لکھ دیئے ہیں۔
میاں نواز شریف کو عرفان صدیقی صاحب جو اشعار لکھ کر دیا کرتے ہیں وہ کسی معروف شاعر کے نہیں ہوا کرتے۔ چونکہ شاعر کا نام نہیں بتایا جاتا اس لئے گماں یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ خود میاں صاحب پر وارد ہوا ہے۔ اس ضمن میں ضروری یہ ہے کہ میاں صاحب کو صحیح تلفّظ کے ساتھ اچھی طرح یاد کرایا جائے۔ اکثر میاں صاحب کو کاغذ پر بھی نظر ڈالنی پڑتی ہے۔ اگر کاغذ پر نظر ڈالنا لازمی ہو تو ”زیر “ اور ”زبر“ ضرور تحریر ہوتا کہ کچھ ” اور“ نہ پڑھا جائے۔
شہباز شریف بہر حال زیر و زبر یا پیش کو سنبھال لیا کرتے ہیں۔ اور انہیں فلمی گانوں سے زیادہ شعر و شاعری کا شوق ہے۔ میں نے ایک صاحب کو یہ کہتے سنا ہے کہ اگر جالب دورِ ایوب میں انقلابی شاعری سے لہو گرما کرنہ جا چکے ہوتے تو قوی امکان ہے کہ میاں شہباز شریف خادمِ اعلیٰ کی بجائے شاعرِاعلیٰ ہوتے۔
میں نے اتنی لمبی تمہید میاں شہباز شریف کی ”صلاحیت ِمستقبل شناسی“ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے باندھ ڈالی ہے۔ انہوں نے اورنج ٹرین کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر ملک میں ”اورنج انقلاب “ نہ آیا تو پھر ”خونی انقلاب“ آئے گا۔
اورنج انقلاب اُن کے خیال میں اورنج ٹرین کے منصوبے کی کامیاب تکمیل سے آجائے گا۔
چنانچہ جو لوگ خونی انقلاب سے بچنا چاہتے ہیں وہ لاہور میں اورنج ٹرین کے منصوبے کو پایہءتکمیل تک پہنچوانے میں فعال کردار ادا کریں۔
اگر بات خونی انقلاب تک پہنچی تو چھوٹے میاں صاحب نے بطور خاص زین العابدین بن علی حسنی مبارک اور کرنل قذافی اور ان کے خاندانوں کے انجام کا ذکر کیا۔
کہیں وہ اپنے بڑے بھائی سے یہ تو نہیں کہہ رہے کہ اگر نشانِ عبرت بننے سے بچنا ہے تو اورنج ٹرین کے منصوبے کو مکمل کرنے میں میری مدد کریں۔؟
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو بات چھوٹے میاں صاحب بڑے میاں صاحب کو کھل نہ کہہ سکتے ہوں وہ انہوں نے اورنج انقلاب کے پیچھے چھپ کر کہہ دی ہو۔
” بچنا ہے تو تو بچ جائیں بھائی جان۔ اب بھی وقت ہے۔“

Scroll To Top