کہیں یہ خاموشی قبرستان کے سناٹے میں نہ بدل جائے!

aaj-ki-bat-logo

جن لوگوں نے عدالتِ عظمیٰ کے تاریخی فیصلے کے بعد یہ امید باندھ لی تھی کہ پاکستان بالآخر لوٹ مار مکروفریب، خودغرضی و بدیانتی فسق و فجور اور کذب ودھاندلی کی قوتوں سے اپنی جان چھڑانے والا ہے اب وہ پتھرائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہے ہیں کہ اقتدار پر قبضہ نا اہل قرار پانے والے میاںنوازشریف کا تو نہیں مگر ان کے نوکروں ملازموں اور خدمت گاروں کا ہوچکا ہے۔ میاں نواز شریف کی جگہ وزیراعظم بننے والے شاہد خاقان عباسی نے نہایت عظیم الشان گاڑیوں کے ایک نہایت ہی عظیم الشان قافلے کے ساتھ نیوجتوئی پہنچ کر منتخب سامعین کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ” ملک میں واحد شخص میاں نواز شریف ہے جو پاکستان کو متحد رکھنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لئے شب و روز کام کر رہا ہے اگر میاں نواز شریف نہ ہوتا تو اِس ملک کا وجود ہی باقی نہ رہتا۔“

کچھ اسی نوعیت کا بیان میاں صاحب کے دوسرے بڑے خدمت گار چوہدری احسن اقبال نے دیا ہے جو شاہد خاقان عباسی کے وزیر داخلہ ہیں۔
یہ کھیل تماشہ کب تک چلے گا؟
اگر ملک کا نظم و نسق میاں نواز شریف کے وفادار ملازموں اور جاں نثار خدمت گاروں کے ہی سپرد کرنا تھا تو بہتر یہ ہوتا کہ وہی تخت نشین رہتے۔ کم از کم پھر ان کے اور ان کے وفاداروں کے ہاتھ فوج اور عدلیہ پر رکیک حملے کرنے کاجواز تو نہ آتا!
شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کا مطلب مجھے اب سمجھ میں آیا ہے۔
اب اقتدار ایسے درباریوں کے سپرد کر دیا گیا ہے جو میاں نواز شریف کی ذات کو ہی پاکستان سمجھتے ہیں۔
گذشتہ دنوں ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل آصف غفور نے کہا کہ”خاموشی بھی ایک اندازِ اظہار ہے۔“
بڑی خوبصورت اور معنی خیز بات ہے۔ مجھے اپنے عہد ِجوانی میں لکھے گئے ایک انگریزی افسانے کا ایک جملہ یاد آرہا ہے ۔
"Some people tell tales when they are silent"
(کچھ لوگ جب خاموش ہوتے ہیں تو داستانیں بیان کر رہے ہوتے ہیں۔)
لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ خاموشی قبرستان کے سناٹے میں بدل جائے!

Scroll To Top