ہر دامن پاک' ہرنام بے داغ 30-3-2012

kal-ki-baatعدم ثبوت کی بناءپر وفاقی وزیر سید خورشید شاہ کے خلاف نیب نے کارروائی ختم کردی ہے۔ یہ کارروائی کرپشن اور ناجائز اثاثے رکھنے کی بناءپر شروع ہوئی تھی۔
یہ پہلی کارروائی نہیںجو نیب یا قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں نے کرپشن وغیرہ جیسے الزامات میںختم کی ہے۔ اس سے پہلے بھی یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔
کیا اس بات کا مطلب یہ لیا جائے کہ پاکستان میں کرپشن بالکل نہیںہوتی۔ ؟ جن پر کرپشن کے الزامات لگتے ہیں اول تو وہ کسی کارروائی کی زد میں آتے ہی نہیں ' اگر آتے بھی ہیں تو عدم ثبوت کی بناءپر پاک صاف قرار دے دیئے جاتے ہیں۔ پھر یا تو کرپشن بالکل ہو ہی نہیں رہی اور نہ ہی کبھی ہوئی ہے۔ یا پھر کرپشن کرنے والے زمین کی مخلوق نہیں ' وہ کرپشن کرنے کے لئے زمین پر آتے ہیں اور لوٹ مار کا بازار گرم کرنے کے بعد غائب ہوجاتے ہیں۔
گزشتہ 22برس کے دوران کرپشن کے ایسے ایسے سنگین الزامات لگے ہیں کہ پڑھ اور سن کردل دہل جاتا ہے۔ مگر ہنوز کسی ملزم کو مجرم قرار نہیں دیا جاسکا۔
کہا جاتا ہے کہ غیر ملکی بنکوں میں دو سو ارب ڈالر کا ایسا سرمایہ چھپا ہوا ہے جس کا تعلق اصل میں پاکستان سے ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اعداد وشمار میں مبالغے سے کام لیا گیا ہو اور یہ چھپا ہوا سرمایہ ایک سو ارب ڈالر ہو یاپچاس ساٹھ ارب ڈالر ہو ۔ مگر دونوں صورتوں میں ایک بات طے شدہ ہے کہ اگر یہ سرمایہ یہاں سے لُوٹ کرباہر نہ لے جایا جاتا تو آج پاکستان پر قرضوں کا کوئی بوجھ نہ ہوتا۔
ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے اور لُوٹ مار کے نظام سے ” فیض“ پانے والے تمام لوگ سب یہی کہتے ہیں کہ ثبوت کی عدم موجودگی میں ہر دامن پاک اور ہرنام بے داغ ہے۔
اب تو ہمیں خداوند کریم سے دعا یہی کرنی چاہئے کہ جن ڈاکوﺅں کو اس نے ہماری ” خدمت“ کرنے پر چھوڑ رکھا ہے انہیں اس بات کا پابند تو کردے کہ کچھ ثبوت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ” رہنمائی “ کے لئے ” کھلے “ چھوڑ دیا کریں۔

Scroll To Top