حملہ آور نے کارکردگی کا پول کھول دیا

zaheer-babar-logoکراچی میں نامعلوم ملزم کی جانب سے چاقو کے وار کرکے زخمی ہونے والی خواتین کی تعداد اب بارہ ہوگی ہے مگر کئی روز سے جاری اس خونی کھیل کو روکنے میںانتظامیہ تاحال کامیاب نہیں ہوسکی۔ یاد رہے کہ روشنیوںسے منسوب کراچی کے حالات بہتر ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ شہر قائد کہلانے والا دیس قتل وغارت گری کی پوری تاریخ رکھتا ہے۔ ملک کے پہلے درالحکومت میں ایسا بھی ہوا کہ ایک ہی دن میں درجنوں لوگ ٹارگٹ کلنگ میںمار دیے گے مگر قاتل نامعلوم ٹھرے۔ کراچی کئی دہائیوں تک آگ وخون کے دریا میں غوطہ زن رہا مگر افسوس کہ شہریوں کی جان ومال کے زمہ دار افراد ذاتی و گروہی مصلحتوں کے اسیر رہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور بھی اہل کراچی کی مشکلات کم نہ کرسکے اور عملا یہ شہر کشت وخون کا منظر پیش کرتا رہا۔قبل ازیں سابق صدر پرویز مشرف بھی اہل کراچی کے زخموں پر مرہم نہ رکھ سکے ۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری معزولی کے دنوں میں جب کراچی پہنچے تو ایم کیوایم نے جلاو گھیراو کرتے ہوئے درجنوں معصوم افراد کو موت کی نیند سلادیا مگر سابق صدر اسلام آباد میں یہ کہتے ہوئے نظر آئے کہ ”آج کراچی میں طاقت کا مظاہرہ کیا گیا “۔
دراصل پرویز مشرف کے دور میں ایم کیوایم کو جس طرح کھلی چھٹی دی گی اس نے بڑی حد تک شہر کا امن ناممکن بنا کر رکھ دیا۔ بظاہر سابق پرویز مشرف اور پی پی پی دور کو کراچی کے تاریک ادوار میں ہی شمار کیا جاتا ہے۔ مسلم لیگ ن نے برسراقتدار آتے ہی کراچی کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے کوشش کی۔ اس ضمن میں سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی ذاتی کوششوں کو نہیں بھلایا جاسکتا ۔ سابق سپہ سالار نے میاں نوازشریف کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کراچی میں ریجنرز کے ٹارگٹیڈ آپریشن کی اجازت دیں چنانچہ وفاقی حکومت نے پی پی پی کی صوبائی حکومت کی ناراضیگی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے شہر قائد میں اس آپریشن کی اجازت دی ڈالی ۔ یقینا دنیا کے بڑے شہروں میں سے ایک کہلانے والے کراچی میں قیام امن کے لیے ابھی بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے مگر شہر میں سالوں سے چلے آنے والی اس غیر یقینی صورت حال کا خاتمہ بڑی حدتک ہوچکا جس نے درحقیقت اس دیس کے باسیوں کو یرغمال بنا رکھا تھا۔
بانی ایم کیوایم نے گذشتہ سال اگست میں اپنی جماعت کے بھوک ہڑتالی کیمپ میںجس طرح پاکستان مخالف نعرے لگائے وہ ان کی سیاسی زندگی کا تاریک ترین دن ثابت ہوا۔ اس پر عدالت کی جانب سے ملک کے پرنٹ و الیکڑانک میڈیا کو اس بات کا پابند کیاگیا کہ وہ کسی صورت برطانوی شہریت کے حامل بانی ایم کیوایم کا کسی قسم کا بیان یا تحریر نشر نہ کرے۔ عدالتی احکامات کی روشنی میں حکومت کی جانب سے اقدمات اٹھانے کی دیر تھی کہ کراچی میں حالات بہتری کی جانب بڑھنے شروع ہوگے۔ ادھر اکادکا لوگوں کو چھوڈ کر ساری کی ساری ایم کیوایم نے ڈاکڑفاروق ستار کی سربراہی قبول کرتے ہوئے الطاف حیسن سے اعلانیہ لاتعلقی کا اعلان کردیا۔
درج بالا پیش رفت اور ریجنرزوپولیس کے ٹارگٹیڈ آپریشن کے نتیجے میں اہل کراچی بڑی حد تک پرسکون ہیں، اگرچہ خواتین کے پرس وموبائیل چھینے کے واقعات کراچی میں سالوں سے جاری ہیں مگر مذہبی ، لسانی وسیاسی دہشت گردی میں بڑی حد تک کمی واقعہ ہوچکی۔ اسے اہل سندھ کی بدقسمتی ہی کہنا چاہے کہ ان کے سروں پر پی پی پی کی شکل میں ایسی سیاسی جماعت برسراقتدار ہے جو کسی صورت خود کو بہتر بنانے کو تیار نہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی المناک موت کے بعد سابق صدر زرداری نے جس انداز میں پارٹی کو چلارہے وہ اب تک تباہ کن ثابت ہورہا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کا المیہ یہ ہے کہ وہ ناکامیوں سے سیکھنے کو تیار نہیں۔ وفاق کی نمائندہ سیاسی جماعت محض اندرون سندھ تک محدود ہوچکی مگر پارٹی قیادت ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں۔
تی خواتین پر چاقو کے وار کرنے والے شخص کا تاحال گرفتار نہ ہونا ایک بار پھر صوبے کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھا رہا۔ سوال یہ ہے کہ شہر میںخوف وہراس پیدا کرنے والے شخص ایک ہے یا منعظم گروہ اس کا پتہ لگانا سیکورٹی فورسزکی زمہ داری ہے۔ امن وامان بحال کرنے کے لیے درجنوں اداروں کی موجودگی کے باوجود خواتین پر حملے نہ رکنا دراصل بدترین ناکامی ظاہر کررہا۔ زمہ دار اداروں کو سمجھ لینا چاہے کہ دراصل اس واقعہ سے شہ پاکر مذید جرائم پیشہ افراد بھی متحرک ہوسکتے ہیں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے حملہ آور کو نفسیاتی مریض قرار دینا مسلہ کا حل نہیں۔ یہ سوال یقینا اہم ہے کہ مبینہ نفسیاتی مریض محض خواتین کو ہی کیوںنشانہ بنا رہا۔
ایک خیال یہ ہے کہ کراچی میں تاحال قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مثالی تعاون کو فروغ نہیں دیا جاسکا۔ کوارڈنیش کی کمی ہی ہے جو کئی دن گزرنے کے باوجود ملزم تاحال آزاد ہے۔ ارباب اختیار کو سمجھ لینا چاہے کہ پاکستان بدل چکا ۔ اب مسائل کو نظر انداز کرنے کی بجائے انھیں حل کرنے میں ہی عافیت ہے۔درجنوں ٹی وی چنیلز روزانہ کی بنیاد پر حملے آورسے متعلق خبریں نشر کررہے مگر کوئی پیش رفت نہیں ہورہی۔ سمجھ لینا چاہے کہ حملہ آور کی گرفتاری میں مسلسل ہوتی تاخیر کسی بھی صورت صوبائی انتظامیہ کی نیک نامی کا باعث نہیں بن رہی۔

Scroll To Top