پاک امریکہ شکوک وشبہات ختم کرنا ہونگے

zaheer-babar-logoوطن عزیز میں ایسے حلقوںکی کمی نہیںجو صدرٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کو پاکستان دشمنی جبکہ بھارت نوازی سے تعبیر کرتے ہیں۔ بظاہر نئے امریکی صدر افغانستان میںکھل کر پاکستان کا کردار کم کرتے ہوئے بھارت کی مداخلت بڑھانے کے حامی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے نئی افغان پالیسی میں پاکستان کو مسائل کا زمہ دار قر ار دیتے ہوئے دھونس اور دھمکی سے مطالبات تسلیم کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے یہی وجہ ہے کہ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے دورے امریکہ کے دوران امریکا کی افغانستان سے متعلق نئی پالیسی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی اصل تشویش امریکا کے نئے منصوبے میں نئی دہلی کے کردار سے متعلق ہے۔ امریکا میں پاکستان کے سفارت خانے میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کی جانب سے جنوبی ایشیا سے متعلق نئی پالیسی کے اعلان کے بعد پاک امریکا دو طرفہ تعلقات ایک نیا موڑ لے چکے ہیں۔“
(ڈیک) ریکارڈ پر ہے کہ پاکستان امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کو خطے کے حوالے سے متعدد مرتبہ اپنی تشویش کا اظہار کرچکا ۔ کئی موقعوں پر پاکستان کے زمہ دار بتا چکے کہ جنوبی ایشیاءمیں خرابی کی وجہ بھارت کی وہ پالیساں ہیں جن پر وہ گذشتہ کئی دہائیوں سے عمل کررہا۔ پاکستان نے عالمی سطح پر یہ بھی باور کروانے کی کوشش کہ بھارت پاکستان میں سیاسی ، مذہبی اور لسانی دہشت گرد تنظمیوںکو اسلحہ ، پیسہ اور تربیت فراہم کررہا۔ (ڈیک) خصوصی طور پر بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے کے حوالے سے بھارت کے اقدامات واضح ہوچکے۔امریکہ کے پالیسی ساز حلقوں کو اپنے دل دماغ سے یہ شک نکال باہر کردینا چاہے کہ پاکستان افغانستان پر حالات بہتر بنانے کے حق میں نہیں۔ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ جب تک افغانستان مستحکم نہیں ہوجاتا پاکستان کیا خطے میں کسی طور پر قیام امن کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ تاحال پاکستان کی اس تجویز کو خاطر خواہ پذائری نہیںمل سکئی کہ جنوبی ایشیاءمیں بہتری اسی وقت ممکن ہے جب امریکا، افغانستان اور پاکستان مل کر کام کریں۔
ضرب عضب ہو یا درالفساد سیکورٹی فورسز کی کاروائیوں کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ تمام غیر ریاستی عناصر کو ختم کیا جائے۔ گذشتہ کئی سالوں سے ملک بھر میں انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے بھرپور کارروائیاں جاری ہیں جن کے مثبت اثرات ظاہر ہورہے ہیں۔ ملک کی سیاسی وعسکری قیادت دونوں ہی کالعدم گروہوں کے خالف پورے عزم کے ساتھ میدان عمل میں موجود ہے۔ مثلا جنرل قمر جاوید باجوہ نے حال ہی میں افغانستان کے دورے کے موقع پر پاکستان کی جانب سے بھر پور تعاون کی پیش کش کی ۔ قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس نے اعلی افغان عہدیداروں کی شکایات کو جلد ازجلد دور کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے پاکستان کا موقف بھی پوری سنجیدگی سے پیش کیا۔ دراصل عالمی برداری کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہے کہ پاکستان کی بجائے افغانستان وہ ملک ہے جہاں کے بیشتر علاقوں میں حکومت کی رٹ موجود نہیں۔ علاقائی اور عالمی ادارے آگاہ ہیںکہ اب بھی کابل حکومت ملک کے 40 فیصد سے زائد حصہ پر اپنی حاکمیت ثابت کرنے میںناکام ہے۔پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے کئی حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گی ۔
یقینا دنیا بھر میں دہشت گردی ایک بڑے مسلہ کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اب تک دہشت گردی نے عالمی سطح پر جانی ومالی طور پر بے پناہ نقصان پہنچایا ۔ اس پس منظر میں پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔خواجہ آصف نے اس سے قبل ہونے کیے جانے والے امریکہ کے دورے میں درست طور پر کہا کہ پاکستان کی ناکامیوں پر اسے ہدف تنقید بنانے سے پہلے دیکھنا ہوگا کہ اس نے علاقائی اور عالمی سطح پر قیام امن کے فروغ کے لیے کیا اقدمات اٹھائے۔“
نائن الیون کے بعد امریکہ جس طرح افغانستان پر حملہ آور ہوا اس نے پاکستان کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کردیا۔ افغانستان پر امریکہ حملے میں پاکستان کی جانب سے کیا جانے والا تعاون تاحال اہل پاکستان کی زندگی اجیرن کیے ہوئے ہے۔ انتہاپسند گروہ پاکستان پر یہ الزام لگا رہے کہ امریکی ڈالروں کے عوض ان گروہوں کو نشانہ بنایا جارہا جو پاکستان کے نہیں امریکہ کے دشمن ہیں۔ یقینا اس مشکل صورت حال میں پاکستان کے مفادات کا تحفظ بڑا چیلنج تھا۔ سیاسی وغیر سیاسی حکومتوں نے ایسے اقدمات کیے جن سے ملک کے اندر ان کی غیر جانبداری کا بھرم قائم رہے مگر بعض صورتوں میں ایسا نہ ہوسکا۔
رواں برس 21 اگست کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں افغانستان کے لیے نئی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان پر طالبان کو مبینہ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا جو الزام عائد اس سے پاکستان کے اندر ان قوتوں کی مشکلات میں یقینا اضافہ ہوا جو پہلے سے دباو کا شکار تھیں۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان باہمی اعتماد کے رشتے کو بحال کرنا ہوگا۔ دونوں ملکوں کو شکوک وشبہات ختم کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو بدلے ہوئے حالات کے مطابق ڈھالنا ہے۔ عالمی سطح پر ہر ریاست اپنے مفادات کے حصول کے لیے سرگراں ہے۔ پاکستان اپنے لیے زیادہ سے زیادہ ریلیف چاہتا تو امریکہ کے افغانستان میں اپنے اہداف ہیں۔ سفارتکاری اسی کا نام ہے کہ باہم اختلافات ہونے کے باوجود دو ممالک اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کرنے میں کامیاب رہیں۔ مذکورہ معیارکو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی وزیر خارجہ کا دورہ امریکہ یقینا مشکل ٹارگٹ ہے۔

Scroll To Top