شر سے شر کی مفاہمت 29-03-2012

kal-ki-baatاس مفاہمتی جمہوریت نے ہمیں کہاں لاکھڑا کیا ہے اس کا جواب 27مارچ 2012ءکو رونما ہونے والے ملک گیر واقعات دیتے ہیں۔ ایک طرف کراچی میں آگ لگی رہی اور موت کے سائے منڈلاتے رہے ` اور دوسری طرف پنجاب کے شہروں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے ستائے ہوئے لوگوں نے اپنا غصہ ان املاک پر نکالا جو بجلی کا بحران پیدا کرنے والے اصحاب کی ہرگز نہیں تھیں۔
جب دیوانگی اس انداز میں رقص کرنے لگے جس انداز میں پورے ملک کے اندر 27مارچ 2012ءکو رقص کرتی نظر آئی تو ہم پر اپنے گناہوں کی معافی مانگنا اور اللہ تعالیٰ سے نزول ِرحمت کی دُعا کرنا واجب ہوجاتا ہے۔
ہمارا سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والے پاکستان کو خیر اور شر کے درمیان مفاہمت کی تجربہ گاہ بنا لیا ہے۔ میری اس بات پر آپ احتجاجاً یہ کہے بغیر نہیں رہیں گے کہ یہ مفاہمت خیر اور شر کے درمیان نہیں شر اور شر کے درمیان ہے۔ دوسرے الفاظ میں بدی کی قوتوں نے ” مفاہمتی جمہوریت “ کے پرچم تلے جمع ہو کر ” خیر“ کے راستے بند رکھنے کی ٹھان رکھی ہے۔ میں آپ کے اس احتجاج سے اتفاق کروں گا۔ مگر ساتھ ہی ساتھ یہ سوال بھی اٹھاﺅں گا کہ ” خیر “ ہے کہاں کہ اسے آواز دی جائے۔ ” خیر “ تو اسی روز سے ہم سے روٹھا ہوا ہے جب بانی ءپاکستان نے کراچی کی ایک سڑک پر تپتی دھوپ تلے بے بسی کے عالم میں اپنی جان جاں آفریں کے سپرد کی تھی۔!
ایک آواز البتہ ضرور ہے جو دور سے مجھے یہ کہتی سنائی دیتی ہے کہ ” اگر خیر سے رشتہ جوڑنا ہے تو اس مفاہمتی جمہوریت سے رشتہ توڑ دو “ ۔
اگر آپ کو بھی یہ آواز سنائی دے رہی ہے تو مجھے ضرور بتائیں۔۔۔

Scroll To Top