واشنگٹن ` نئی دہلی اور جاتی امراء۔۔۔ تینوں کا ایک ہی مسئلہ ہے۔۔۔ پاک فوج

aaj-ki-bat-logo

جنرل پرویز مشرف کے بعد پاکستان کو جس قسم کی لیڈر شپ میسر ہوئی ہے ` اور جس کمال کے وزرائے اعظم ملے ہیں ` امریکی حکام بخوبی جانتے ہیں۔۔۔ اب امریکہ پر یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ پاکستان میں وزیر خارجہ بھی دستیاب ہوسکتاہے۔۔۔ امریکیوں کے لئے اصل مسئلہ پاک فوج ہے۔۔۔ بالکل اسی طرح جس طرح میاں نوازشریف کے لئے پاک فوج کا وجود سوہانِ روح ہے۔۔۔
خواجہ آصف نے جس معیار کی سفارت کاری کی ہے اس کا اندازہ امریکی وزیر خارجہ ٹیلر سن کے اِس بیان سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہیں پاکستان کی موجودہ حکومت کے مستقبل کے بارے میں تشویش ہے ۔۔۔ کم از کم مجھے ایسا لگا کہ خواجہ آصف امریکہ گئے ہی امریکی قیادت کو یہ پیغام دینے کے لئے تھے کہ” ہمارے مستقبل کو کسی طرح بچالیجئے۔۔۔“
اگرچہ خواجہ صاحب نے اپنے بیانات میں یہ بات بھی بار بار کہی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا ہے اس کی نظیر دنیا میں نہیں۔۔۔ جو قربانیاں پاکستان کو دینی پڑی ہیں وہ درحقیقت بے مثال ہیں۔۔۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے ” قربانی“ کی اصطلاح پر روشنی ڈال دی۔۔۔ ”میاں صاحب کو اپنا مستقبل قربان کرنا پڑا ہے ۔۔۔“
” ڈان لیک “ کا بیانیہ ہی یہی تھا کہ اگر پاک فوج رکاوٹ نہ بنے تو میاں نوازشریف دہشت گردوں کا تن تنہا قلع قمع کرسکتے ہیں۔۔۔
اس بیانیہ پر نئی دہلی اور واشنگٹن دونوں جگہ اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔۔۔
خبریں یہ آئی ہیں کہ ہماری وزارت خارجہ کے پالیسی ساز حکام میں ” اس بیانیہ “ پر خاصی تشویش پائی جاتی ہے ۔۔۔ آرمی چیف یہ اعلان کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان بہت کچھ کرچکا لاتعداد جانیں گنوا چکا اب ” ڈومور“ کرنے کی باری امریکہ کی ہے۔۔۔ اور خواجہ آصف کی طرف سے یہ بیان آتا ہے کہ ہمیں اپنا گھر بھی صاف کرنا ہوگا ۔۔۔ کیا خواجہ صاحب پاک فوج سے چھٹکارہ چاہتے ہیں۔۔۔ ؟ وہ اگر نہیں چاہتے تو میاں نوازشریف ضرور چاہتے ہیں ۔۔۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس صورتحال پر نہایت خیال افروز تبصرے کئے ہیں۔۔۔
” پاک فوج کو گالیاں دینے یا برا بھلا کہنے والوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان کے عوام پاک فوج سے محبت کرتے ہیں۔۔۔ وہ وقت دور نہیں جب دشمن کی زبان بولنے والوں کا محاسبہ ہوگا۔۔۔“

Scroll To Top