غداروں کا نشیمن

  • تحریر غلام اکبر

اس نے کار کا رخ اچانک مغرب کی طرف موڑ دیا اور کچھ دیر بعد آئینہ غور سے دیکھا ۔ شبے نے اب یقین کی صورت اختیار کر لی ۔ اس کا تعاقب ہو رہا تھا ۔ سیاہ رنگ کی امپالا شیورلیٹ کی رفتار آہستہ آہستہ تیز ہوتی جارہی تھی اور دونوں کاروں کے درمیان فاصلہ بتدریج کم ہو رہا تھا ۔ اسد نے ایکسلریٹر پر پاو¿ں دبایا ۔ سپیڈو میٹر پر سوئی ساٹھ سے ستر اور اسی تک پہنچ گئی ۔ یہ اس کی خوش قسمتی تھی کہ سڑک صاف تھی اور گڑھے وغیرہ نہیں تھے ورنہ عراق کی کسی سڑک پر آج تک اس نے اتنی رفتار کے ساتھ کار چلانے کی جرات نہیں کی تھی ۔ کوئی دس میل تک اسد کی کار اسی میل کی رفتار سے چلتی رہی ۔ تعاقب میں آنے والی سیاہ کار اب صرف چار یا پانچ فرلانگ کے فاصلے پر تھی ۔ آگے چل کر پہاڑی سلسلہ شروع ہوتا تھا ۔ راستہ بڑا خطرناک تھا ۔ ایک سال پہلے ایک مہم کے سلسلے میں وہ اس راستے سے گزرا تھا اور بیس فٹ چوڑی سڑک پر وہ تین بار کئی ہزار فٹ کی گہرائی میں گرنے سے بال بال بچا تھا ۔ اس وقت وہ محض تفریح طبع کیلئے گاڑی تیز چلا رہا تھا لیکن آج اس کے پیچھے ایک پر اسرار سیاہ امپالا شیورلیٹ تھی جس میں تین ایسے افراد تھے جن کے عزائم یقیناً نیک نہ تھے ۔ گاڑی سنہرے بالوں والی ایک خوبصورت لڑکی چلا رہی تھی ۔ ایک لمبا تڑنگا نوجوان اس کے ساتھ بیٹھا تھا اور عقبی سیٹ پر سیاہ گھنی مونچھوں اور لمبوترے چہرے والا ایک ادھیڑ عمر کا آدمی تھا ۔ ان تینوں پر اسد کی نظر اس وقت پڑی تھی جب وہ بغداد سے نکل کر چوراہے سے اپنی کار جنوب کی طرف موڑنا چاہتا تھا ۔ اس وقت اسے یہ سیاہ امپالا شیور لیٹ نظر آئی تھی ۔ سب سے پہلے اس کی نظر بند شیشے میں سے جھانکتے ہوئے لمبوترے چہرے پر پڑی تھی ۔ گھنی مونچھوں والا یہ مکروہ چہرہ دیکھ کر اس نے برا سا منہ بنایا تھا لیکن پھر اس کی نظر سنہرے بالوں پر پڑی تھی اور پھر اس چہرے پرجو ضرورت سے کچھ زیادہ ہی حسین تھا ۔ ایک لمحے کیلئے اس نے فراموش کر دیا تھا کہ دو آنکھیں اسے بڑے غضب ناک انداز سے گھور رہی ہیں ۔ اگر لڑکی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار نہ ہوتی تو وہ بھی اس لمبے تڑنگے نوجوان کو کھا جانے والی نظروں سے گھور کر دیکھتا ۔ لڑکی کی مسکراہٹ کے جواب میں وہ بھی مسکرا دیا تھا ۔ اس وقت ان کی کار سڑک سے چند گز کے فاصلے پر کھڑی تھی ۔ شاید وہ کسی کا انتظار کر رہے تھے ۔ ٹریفک سگنل پاتے ہی اسد نے اپنی کار کا رخ منزل مقصود کی طرف موڑ دیا تھا اور یہ شبہ اسے کوئی چالیس میل بعد ہوا تھا کہ اس کا تعاقب ہو رہا ہے ۔
اسد کیلئے یہ کوئی نئی بات نہ تھی ۔ وہ جیمز بانڈ تو نہ تھا لیکن مصر کی سیکرٹ سروس میں پانچ سالہ ملازمت کے دوران اسے کئی بار اپنے مشن کی تکمیل کیلئے جان کی بازی لگانی پڑی تھی ۔ بعض اوقات وہ سوچا کرتا تھا کہ اگر اس نے سیکرٹ سروس میں شمولیت اختیار نہ کی ہوتی تو آج اس کا شمار قاہرہ کے ا میر ترین تاجروں میں ہوتا ۔ اس کے باپ نے اچھی خاصی جائیداد چھوڑی تھی ۔ اس جائیداد میں تین لاکھ پونڈ کی وہ رقم شامل نہ تھی جو اس کے باپ نے بیروت کے بینکوں میں اس وقت منتقل کی تھی جب صدر ناصر نے اپنے انقلابی پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کی طرف ابتدائی قدم اٹھائے تھے ۔
اسد اگر چاہتا تو بڑے آرام کی زندگی گزار سکتا تھا لیکن اتفاقات نے اسے سیکرٹ سروس کے دفتر پہنچا دیا اور جب وہ انٹرویو دے کر نکلا تو اس کے کانوں میں کرنل عاصم کے یہ الفاظ گونج رہے تھے ۔ ” مصر کو تم جیسے نوجوانوں کی ضرورت ہے ۔ اسرائیلی جاسوسوں نے پورے مشرق وسطیٰ میں اپنے جال پھیلا رکھے ہیں اور ان کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیں ایسے جوانوں کی ضرورت ہے جو بہادر ہونے کے ساتھ ساتھ ذہین بھی ہوں “ ۔
اسد نے ایک طویل سانس لی اور آئینہ میں جھانک کر دیکھا ۔ سیاہ شیورلیٹ پوری رفتار کے ساتھ بڑھ رہی تھی۔ پہاڑی سلسلہ شروع ہونے والا تھا ۔ اسد نے ایک ہاتھ سے سٹیئرنگ تھامتے ہوئے دوسرا ہاتھ جیب میں ڈالا ۔ پستول پکڑ کر اسے سکون سا محسوس ہوا ۔
وہ موڑ قریب آگیا جہاں سے چڑھائی شروع ہوتی تھی ۔ اسد نے رفتار کم کئے بغیر پوری مہارت سے کار موڑی ۔ آگے چل کر دوسرا موڑ تھا یہاں بھی اس نے رفتار کم نہ کی ۔ کوئی دس منٹ تک وہ اس خطرناک راستے کے نشیب و فراز طے کرتا رہا ۔ پھر سامنے سے وہ چشمہ نظر آیا جہاں رک کر پچھلے سال اس نے پانی پیا تھا ۔ اسد کے ذہن نے اچانک فیصلہ کیا ۔ اگلے موڑ سے ذرا آگے جا کر اس نے کار کی رفتار کم کر دیا اور اسے ایک چٹان کے عقب میں جا کھڑا کیا ۔ وہ بڑی پھرتی کے ساتھ دروازہ کھول کر باہر نکلا اور لمبی لمبی چھلانگیں لگاتا ہوا دو چٹانوں کے درمیان پہنچا جہاں سے سڑک کا فاصلہ بمشکل بیس گز تھا ۔ پستول جیب سے نکال کر اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ سڑک کی طرف دیکھا ۔ دور سے اسے وہ سیاہ کار آتی دکھائی دی ۔
اس نے اپنا سر نیچے جھکا لیا ۔ کار دائیں طرف مڑی اور پھر اسے ٹائروں کے سڑک پر گھسیٹے جانے کی آواز سنائی دی ۔ انہوں نے بریک اچانک اور پورے زور سے لگائی تھی ۔ اسد دم بخود ہو کر چٹان کی آڑ سے جھانکنے لگا ۔ پہلے لمبا تڑنگا نوجوان نکلا اور اس کے فوراً بعد سیاہ گھنی مونچھوں اور لمبوترے چہرے والا آدمی جس کے ہاتھ میں مشین گن تھی ۔ دونوں کی نظریں چاروں طرف دوڑیں اور پھر اوپر کی طرف اٹھیں ۔ ٹھیک اسی لمحے نشانہ باندھ کر اسد نے فائر کیا ۔ گولی لمبوترے چہرے والے آدمی کے سینے میں لگی ۔اس کی چیخ بھی نہ نکل سکی اوروہ کٹے ہوئے درخت کی طرح نیچے آرہا ۔ لمبا تڑنگا نوجوان مشین گن کیلئے لپکا ۔ اسد نے یکے بعد دیگرے دو فائر کئے ۔ وہ گھبرا کر نیچے کی طرف بھاگا ۔ اسد نے دو فائر اور کئے ۔ ایک گولی بھاگتے ہوئے نوجوان کی ٹانگ میں لگی اور دوسرا نشانہ خطا گیا ۔
اب پستول میں صرف ایک گولی تھی ۔ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اسد اچھل کر بائیں طرف لپکا ۔ اس کا شکار زخمی ٹانگ کی پروا کئے بغیر سامنے چٹان کے پیچھے سے ہو کر ان چٹانوں کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں اسے پناہ مل سکتی تھی ۔ اچانک اس نے پلٹ کر اسد کی طرف گولی چلائی ۔ اس نے ایک دم ایک بڑے سے پتھر کی آڑ لے لی اور جلدی سے پستول میں گولیاں بھریں ۔ نشانہ باندھنے کیلئے اس نے اپنا ہاتھ باہر نکالا ہی تھا کہ یکے بعد دیگرے دو فائر ہوئے ۔ اس نے فورا ” اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا ۔ گولیاں پتھر کے سامنے والے حصے سے ٹکرائیں ۔ چند لمحوں تک خاموشی طاری رہی ۔ پھر اسد اچھل کر سامنے والے پتھر کی آڑ میں آگیا ۔ ایک اور فائر ہوا لیکن گولی اسد کے بازو کے قریب سے گزر گئی ۔ اس نے اپنا کوٹ اتارا اور ایک ہاتھ میں پکڑ کر پستول سے ٹھیک اس جگہ کا نشانہ باندھا جہاں سے فائر ہو رہے تھے ۔ پھر اس نے بڑی پھرتی سے کوٹ باہر کی طرف لہرا کر واپس کھینچ لیا ۔ چٹان کی اوٹ سے باہر نکلا ۔ فائر ہوا اور اس سے پہلے کہ وہ ہاتھ پیچھے ہٹاتا اسد کی گولی اس کی کلائی کو چیر چکی تھی ۔ ریوالور اچھل کر دور جا گرا ۔ اسی لمحے اسد نے ایک لمبی جست لگائی اور بجلی کی سی تیزی کے ساتھ لپک کر اسے اپنے پستول کی زد میں لے لیا ۔
” ٹانگ اور کلائی کے بعد صرف دل باقی رہ گیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ تم اس کی دھڑکن بند کرانا پسند نہیں کرو گے “ اس نے اپنی فاتحانہ مسکراہٹ کو زیادہ سے زیادہ نمایاں کرتے ہوئے کہا ۔ بھاری بھرکم جسم والا یہ لمبا تڑنگا نوجوان خاصا سخت جان معلوم ہوتا تھا ۔ اس کی پتلون خون سے لت پت ہو چکی تھی ۔ کلائی سے بھی خون بری طرح بہہ رہا تھا لیکن اس کی آنکھوں سے خوف کے بجائے غصہ ٹپک رہا تھا ۔ وہ بڑے غضب ناک انداز سے اسد کو گھور رہا تھا ۔
” تمہیں میرے نشانے کی داد ضرور دینی چاہیے “ اسد مسکرا کر بولا ” لیکن اس سے پہلے ہمارا باقاعدہ تعارف ہو جانا چاہیے تاکہ ہم ایک دوسرے کیلئے اجنبی نہ رہیں “
وہ خاموشی سے اسد کو گھورتا رہا ۔ چند لمحوں کے بعد اسد نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے کہا ” شکل و صورت سے تم خالص عرب لگتے ہو لیکن تم عرب ہوتے تو اپنا تعارف کرانے میں شرم محسوس نہ کرتے “ ۔
وہ اچانک غرایا ” مسٹر اسد ! تم نے میرے ایک دوست کو قتل کیا ہے ۔ میرا یہ دوست بغداد کے کئی با اثر لوگوں کا دوست بھی تھا ۔ اگر تمہیں یہ خوش فہمی ہے کہ مصری سیکرٹ سروس تمہیں قانون کے پھندے سے بچا لے گی تو میں تمہیں قابل رحم سمجھتا ہوں “ ۔
” میرے رحم دل دوست مجھے خوشی ہے کہ میں تمہارے لئے اجنبی نہیں ۔ شاید تم میرے بارے میں اتنا کچھ جانتے ہو کہ …. “
اسد ا پنا جملہ پورا نہ کر سکا ۔
” مسٹر اسد ! ہماری گفتگو بڑے خوشگوار ماحول میں ہونی چاہیے ۔ اس سے پہلے کہ آپ پستول پھینکیں ۔ میں آپ کو یہ بتا دینا ضروری سمجھتی ہوں کہ میرے لئے مشین گن کا استعمال نئی بات نہیں “ ۔
آواز میں جس قدر مٹھاس تھی لہجہ اتنا ہی کرخت تھا ۔ ایک لمحہ کیلئے پستول پر اسد کی گرفت سخت ہوئی ، پھر اس نے ٹھنڈی سانس لی اور پستول پھینک دیا ۔ لمبا تڑنگا نوجوان لنگڑاتا ہوا آگے بڑھا اور اپنے ریوالور کے ساتھ اسد کا پستول بھی اٹھا لیا ۔
عقب سے وہی میٹھی آواز بلند ہوئی ۔ اس دفعہ لہجے میں کرختگی کے بجائے طنز تھی ۔
” مسٹر اسد ! تمہارا نشانہ یقینا بہت اچھا ہے لیکن خوش فہمی کے معاملے میں تم دوسرے عربوں سے مختلف نہیں ۔ “
اسد نے پلٹ کر دیکھا وہ مشین گن تانے کچھ اس خود اعتمادی کے ساتھ کھڑی تھی کہ اسد دل ہی دل میں داد دیئے بغیر نہ رہ سکا ۔ اس کے سنہرے بال ہوا میں اڑ رہے تھے ۔ وہ واقعی بہت خوبصورت تھی ۔ اسد نے ایسا متناسب جسم بیروت کے نائٹ کلبوں میں بھی نہیں دیکھا تھا ۔
” اگر میرے کانوں نے دھوکا نہیں دیا تو غالباً آپ کہہ رہی تھیں کہ ہماری گفتگو بڑے خوشگوار ماحول میں ہونی چاہیے ۔ مشین گن کی نالی یقیناً خوشگوار نہیں ہو سکتی “ ۔
لڑکی نے قہقہہ لگایا اور مشین گن کا رخ نیچے کی طرف موڑ دیا ۔ ٹھیک اسی لمحے اس کے سر پر بڑی شدید ضرب پڑی ۔ وہ لڑکھڑایا ۔ آنکھوں کے سامنے ایک دم اندھیرا چھا گیا اور پھر اسے محسوس ہوا کہ تاریکیوں میں ڈوب رہا ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
(جاری ہے)

Scroll To Top