دھمال کے موقعہ پر پھر دہشت گردی

zaheer-babar-logoبلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں واقع درگاہ فتح پور شریف میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں پولیس اہلکار سمیت 15 سے افراد کی شہادت اور 20 سے زائد افراد کا زخمی ہونا بتا رہا کہ دہشت گرد اب بھی کسی نہ کسی شکل میں متحرک ہیں بلکہ اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں۔ کہا جاسکتا کہ کالعدم جماعتوں کا نیٹ ورک کمزور ضرور ہوا مگر ختم نہیں ہوا جن کے خلاف پوری قوت سے حکومتی مشنیری کو بروئے لانے کی ضرور ت ہے۔
بتایا جارہا کہ دھماکا درگاہ فتح پور شریف کے اندر ہوا جس میں زخمی ہونے والے افراد کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال گنداوہ منتقل کیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکا اس قدر زوردار تھا کہ آواز میلوں دور تک سنائی دی۔یاد رہے کہ جھل مگسی، جیکب آباد اور لاڑکانہ سے 3 گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ یقینا دہشت گردی کی یہ کاروائی پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کی گی کہ کیونکہ درگاہ میں جمعرات کا روز ہونے کی وجہ سے معمول سے زیادہ لوگ موجود تھے جبکہ دھماکا درگاہ فتح پور شریف کے مرکزی دروازے پر دھمال کے وقت ہوا۔ حکام کے مطابق دھماکے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے امکان ہے کہ شدید زخمیوں میں سے کئی کی زندگیوں کو شائد نہ بچایا جاسکے۔
یاد رہے کہ رواں سال فروری میں سہون میں درگاہ لعل شہباز قلندر کے احاطے میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں خواتین و بچوں سمیت 70 افراد شہید اور 150 سے زائد زخمی ہوئے۔یہ دھماکہ بھی اس وقت ہوا جب دھمال ڈالی جارہی تھی، اس دھماکے کے بعد لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی اور درگاہ کے احاطے میں آگ لگ گئی۔ بلوچستان میں ہی نومبر 2016 میں ضلع خضدار میں درگاہ شاہ نورانی میں زور دار بم دھماکے کے نتیجے میں 52 افراد شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔مذکورہ دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی تھی۔وطن عزیز میں بزرگان دین کی مزارت پر دہشت گردی کی کاروائیاں نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی دہشت گردوں نے درگاہوں کو نشانہ بنایا ۔ کراچی کے عبداللہ شاہ غازی، لاہور کے داتا دربار اور ڈیرہ غازی خان کے دربار سخی سرور میں بھی معصوم اور نہتے مرد وخواتین کو شہید کیا گیا ۔ اعداد وشمار کے مطابق یکم جولائی 2010میں داتا دربار پر تین دھماکوں میں 35 سے زائد افراد جان بحق جبکہ 170زخمی ہوئے۔کراچی میں عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر اکتوبر 2010 میں ہونے والے دھماکوں میں 8 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ڈیرہ غازی خان میں 2011 میں صوفی سخی سرور کے مزار پر خود کش حملے میں 50 افرادجاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہوئے اس سے قبل مئی 2005 میں اسلام آباد میں بری امام کے مزار پر خود کش بم حملے میں 18 افراد جاں بحق اور 86 زخمی ہوئے تھے۔ اسی طرح فروری 2013 کو شکارپور کی درگاہ غازی غلام شاہ میں ہونے والے دھماکے میں 3 افراد شہید اور 24 زخمی ہوئے۔
اس میں کسی طور پر دو آراءنہیں کہ پورا ملک ہی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے تاہم یہ کہا جاسکتا ہے کہ علاقائی اور عالمی قوتوں کا خاص ہدف بلوچستان ہے۔ سی پیک کے اعلان کے بعد جس تیزی سے بلوچستان کو عالمی سطح پر اہمیت ملی اس سے صوبے کو درپیش خطرات میں اضافہ ہوا ۔ بلوچستان میں ایک طرف لسانی قوتیں اپنا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں تو دوسری جانب کالعدم جماعتیں بھی کسی سے پچھے نہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دراصل کئی محاذ پر لڑنا پڑ رہا ہے۔ بلوچستان میں مختلف کالعدم تنظیمیں، سیکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں پر حملوں میں ملوث رہی ہیں جبکہ گذشتہ ایک دہائی سے صوبے میں فرقہ وارانہ قتل و غارت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔بلوچستان میں دہشت گردی کی کاروائیاں اب تک کئی نمایاں کاروائیاں سامنے آچکیں۔ مثلا اکتوبر 2016 کو بھاری ہتھیاروں اور خود کش جیکٹس سے لیس دہشت گردوں نے کوئٹہ کے پولیس ٹریننگ کالج پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 61 اہلکار شہید اور 117 افراد زخمی ہوگئے ۔ بلوچستان ہی کے صوبائی درالحکومت کوئٹہ سول ہسپتال کے باہر دھماکے کے نتیجے میں 70 افراد شہید اور 112 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ شہید ہونے والوں میں اکثریت وکلا کی تھی جو بلوچستان بارکونسل کے صدر انور بلال کاسی کے قتل کی خبر سن کرہسپتال پہنچے تھے۔
سوال یہ ہے کہ بلوچستان میں حقیقی امن وامان بحال ہونے کا خواب کب شرمندہ تعبیر ہوگا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیںبلندوبانگ دعوے کرنے کی بجائے اپنے شہریوںکی جان ومال کو تحفظ دینے کے لیے کس دن میدان عمل میں نکلیں گی۔ ارباب اختیار کو یہ کسی بھی صورت فراموش نہیںکرنا چاہے کہ ریاست کا بینادی فرض اپنے شہریوں کی جان ومال کا تحفظ کرنا ہے۔اگر مگر اور چونکہ چنانچہ کے زریعہ اس بنیادی زمہ داری سے راہ فرار اختیار نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارے ہاں ایک خرابی جو کئی دہائیوں سے چلی آرہی وہ یہ کہ بااختیار لوگوں سے بازپرس کا نظام پورے طور پر فعال نہیں ہوسکا۔ مثلا دہشت گردی کی تازہ کاروائی میں کہیں نہ کہیں تو کوئی ایسی کوتاہی ضرور ہوئی جو ملک دشمن عناصر کو وارکرنے کا موقعہ فراہم کرگی لہذا اس کی بازپرس ہونی چاہے۔ دراصل ہمیں دہشت گردی کی کاروائیوں میں بیرونی ہاتھ کی تکرار سے اجتناب کرنا ہوگا۔بھارت ہو یا کوئی بھی اور دشمن خیر کی توقع نہیں رکھنی چاہے بلکہ اول وآخر اپنی کمزوریوں یا خامیوں پر قابو پانا ہے۔

Scroll To Top