سسپنس کی سولی 28-03-2012

kal-ki-baat


بیرسٹر چوہدری اعتزاز احسن جس انداز میں عدلیہ کو یرغمال بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں اور جتنی کامیابی کے ساتھ توہینِ عدالت کے مقدمے کو طول دیتے چلے جارہے ہیں اس سے ہمارے پورے عدالتی نظام کے موثر ہونے کے بارے میں موجود شکوک و شہبات نے مزید تقویت پکڑ لی ہے۔
اگر حضرت عمر فاروق ؓ بقیدِ حیات ہوتے اور اس مقدمے کی کارروائی اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور کانوں سے سنتے تو یہ کہے بغیر نہ رہتے کہ ” اکیسویں صدی کے پاکستان میں بھی قانون اس قدربے بس کیوں ہے ` میں نے تو ساتویں صدی میں قانون اور انصاف کے نظام کو اس قدر موثر بنا دیا تھاکہ کسی مقدمے کے اس انداز میں طول پکڑنے کا کوئی آدمی تصور تک نہیں کرسکتا تھا۔“
شایدہی پاکستان کی تاریخ میں کوئی مقدمہ ایسا سامنے آیا ہو جس کے بارے میں ثبوتوں اور شواہد کے انباروں کے انبار اس کثرت کے ساتھ موجود پائے گئے ہوں۔ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ توہین عدالت ہوئی ہے اور مسلسل ہورہی ہے۔ پھر بھی چوہدری اعتزاز احسن کو یقین ہے کہ ملزم کا بال تک بیکا نہیں ہوگا۔ وہ اس لئے کہ ملزم ملک کا وزیراعظم ہے اور گدی نشین بھی ہے۔ چوہدری اعتزاز احسن کا اس قدر شدت کے ساتھ ”حاملِ یقین “ ہونا شاید فطری بات ہو کیوں کہ وہ ایک وکیل ہیں اوروکیل جب معاوضہ وصول کرلیتا ہے تو اپنے موکل کو الزام کے شکنجے سے آزاد کرانا اس کا فرض بن جاتا ہے۔ مگر جو سوال عام لوگوں کے ذہنوں میں چبھنے لگا ہے وہ یہ ہے کہ ” ہماری عدلیہ اس قدر بے بس کیوں ہے ؟“۔کیا ملک و قوم کا یوں سسپنس کی سولی پر لٹکے رہنا کسی بھی لحاظ سے ہمارے مستقبل کے لئے اچھی خبر ہے ؟

Scroll To Top