تاریخ اسلام

12300965386_2a143d63b4_b

قتیبہ کے صرف بھائی اور بیٹے گیارہ شخص مارے گئے اس کے بھائیوں میں سے صرف ایک شخص عمر بن مسلم اس لئے بچ گیا کہ اس کی ماں قبیلہ بنو تمیم سے تھی۔ وکیع نے قتیبہ کا سر اور اس کی انگوٹھی خراسان سے سلیمان بن عبدالملک کے پاس بھجوا دی قتیبہ بن مسلم خاندان بنو امیہ کے سرداروں میں نہایت زبردست فتح مند اور نامور سردار تھا ایسے زبردست سردار کی ایسی موت نہایت افسوسناک حادثہ ہے لیکن چونکہ اس نے خلیفہ وقت کے خلاف کوشش کرنے میں نا عاقبت اندیشی سے کام لیا تھا لہذا سلیمان بن عبدالملک پر قتیبہ کے قتل کا کوئی الزام نہیں لگایا جا سکتا ہے۔سلیمان کو اگر حجاج سے عداوت و دشمنی تھی تو اس دشمنی کو حجاج کے رشتہ داروں تک بلاوجہ وسیع نہیں ہونا چاہئے تھا۔ لیکن افسوس ہے کہ سلیمان نے محمد بن قاسم کو بھی اسی طرح کشتی و گردن زدنی سمجھا جس طرح وہ حجاج کو سمجھتا تھا محمد بن قاسم نہایت سمجھدار، بہادر مستقل مزاج۔ نیک طینت اور جو ان صالح تھا۔ اس نوجوان نے سندھ وہند کی فتوحات میں ایک طرف اپنے آپ کو رستم و اسکندر سے بڑھ کر ثابت کیا تو دوسری طرف وہ نو شیر وان عادل سے بڑھ کر عادل و رعایا پر ور ظاہر ہوا تھا۔ اس نوجوان فتح مند سردار نے سلیمان کے خلاف قطعاً کوئی حرکت کبھی نہیں ی تھی۔
حجاج کی وفات کے بعد بھی وہ اسی طرح فتوحات و ملک داری میں مصروف رہا جیسا کہ حجاج کی زندگی میں تھا۔ اس کے پاس جس قدر فوج تھی وہ سب کی سب دل و جان سے اس پر فدا اور اس کے ہر ایک حکم کی تعمیل کو بسرو چشم موجود تھی اور یہ بھی سب سے بڑی دلیل اس بات کی تھی کہ محمد بن قاسم نہایت اعلیٰ درجہ کی قابلیت سپہ سالاری رکھتا تھا ایسے نوجوان کی جس کی ابتدا ایسی عظیم الشان تھی اگر تربیت کی جاتی اور اس سے کام لیا جان جاتا تو وہ سلیمان بن عبدالملک کے لئے تمام براعظم ایشیا کو چین وجاپان تک فتح کر دیتا ۔ لیکن سلیمان نے بن عبدالملک کے لئے تمام براِ عظم ایشیا کو چین و جاپان تک فتح کر دیتا۔ لیکن سلیمان سلیمان نے جذبہ عدوت سے مغلوب ہو کر یزید بن ابی کبشہ کو سندھ کا والی بنا کر بھیجا اور حکم دیا کہ محمد بن قاسم کو گرفتار کر کے بھیج دو۔ سلیمان کا یہ حکم درحقیقت تمام کار گذار اور فتح مند سپہ سالاروں کو بددل بنا دینے کا ایک زبردست اعلان تھا۔
(جاری ہے)

Scroll To Top