دہشت گرد غیر مسلم بھی ہوسکتے ہیں

zaheer-babar-logo

عصر حاضر میں دہشت گردی عالمی سطح پر بڑے مسلہ کی شکل میںموجود ہے مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ طاقتور مغربی ممالک نے دانستہ طور پر اسے مسلمانوں کے ساتھ منسلک کردیا ۔ دراصل بعض مسلم ریاستوں میں انتہاپسند تنظیموں کے نظریات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ روس کی افغانستان پر جارحیت کے نتیجہ میں تشکیل پانے والی امریکہ پالیسی کا باغور جائزہ لیا جائے۔ امریکہ نے اپنی حریف ریاست کو نشان عبرت بنانے کے لیے جو کھیل کھیلا اس کا پہلا نشانہ روس بنا تو دوسرا مسلم دنیا قرار پائی۔ اسے مسلمان حکمرانوں کی کوتاہ اندیشی ہی قرار دیا جاسکتا ہے کہ وہ اس حقیقت کا ادراک کرنے میں ناکام رہے کہ امریکہ کے ہاتھوں استمال ہونے کے بعد آنے والے ماہ وسال میں وہ کہاں کھڑے ہونگے۔
نائن الیون کا واقعہ کسی طور پر غیر متوقع نہ تھا۔ امریکی اسحلہ اور پیسے کے بل بوتے پر روس کو تباہ کرنے والے مسلم گروہ نالاں تھے کہ دراصل روس افغانستان جنگ میں امریکہ محض انھیں استمال کرتا رہا۔آج کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی عالمی سطح پر یہ موقف کسی صورت پذائری حاصل نہیں کررہا کہ انتہاپسندی محض مسلمانوں تک محدود نہیں۔ مثلا امریکی شہر لاس ویگس میں ہونے والی تازہ کاروائی اس کا پتہ دے رہی کہ خود گوروں میں بھی ایسے لوگ ہوسکتے ہیں جو بعض وجوہات کی بنا پر قتل وغارت گری کی کاروائی کرڈالیں ۔ بتایا گیا کہ تادم تحریر میوزک کنسرٹ میں نہتے شہریوں پر ہونے والی فائرنگ میں کم از کم 50 افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہوئے ۔اطلاعات کے مطابق چونسٹھ سالہ مسلح شخص سٹیفن پیڈک نے مینڈیلے بے ہوٹل کی 32ویں منزل سے باہر منعقد ہونے والے میوزک فیسٹیول میں شریک افراد پر فائرنگ کی۔پولیس نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ کرنے والا شخص مارا گیا جبکہ پولیس اب میریلو ڈینلے نامی اس خاتون کی تلاش ہے جو حملہ آور کے ساتھ سفر کر رہی تھی۔فائرنگ کے حالیہ واقعہ کو امریکہ کی حالیہ تاریخ میںدہشت گردی کے بڑے واقعات میں سے ایک قرار دیا جارہا ۔ امریکن میڈیا پر جاری ہونے جانے والےی ویڈیوز اور تصاویر میں سینکڑوں افراد کو جائے وقوعہ سے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا ۔ بعض مناظر میں بظاہر خودکار اسلحے سے فائرنگ کی آواز بھی سنی گئیں ۔
مقامی پولیس کے سربراہ کے مطابق شہریوں پر حملے میں صرف ایک شخص ملوث ہے۔حکام کے مطابق مرنے والوں میں ایسے پولیس افسران بھی شامل ہیں جو ڈیوٹی پر نہیں تھے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی سائٹ پر جاری بیان میں واقعے میں متاثر ہونے والے افراد سے اظہارِ ہمدردی کیا۔فائرنگ کا واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے ہوا ۔ واقعے کے بعد علاقے میں فضائی آمد ورفت کے متاثر ہونے کی بھی اطلاعات ملیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس کے دوران یورپ میں دہشت گردی کے واقعات میں 130 افراد ہلاک اور پانچ سو سے زائد زخمی ہوئے۔ دہشت گردی کی پے در پے کارروائیوں نے یورپ کو ہلا کر رکھ دیا ہے، 22 مارچ 2016 کو بلجیم کے دارالحکومت برسلز کے ہوائی اڈے اور میٹرو ٹرین اسٹیشن میں دھماکے ہوئے، ان دھماکوں میں 18 افراد ہلاک اور 300 زخمی ہوئے۔ 14 جولائی 2016 فرانس کے شہر ونیس میں قومی دن کی تقریبات کے دوران دہشت گرد نے ہجوم پر ٹرک چڑھا دیا جس کے نتیجے میں 84 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ 18 جولائی 2016 جرمن شہر فورٹسبرگ میں ٹرین میں سوارحملہ آور نے چھریوں کے وار کر کے چارمسافروں کو زخمی کر دیا۔ 25 جولائی 2016 کو جرمنی میں ہونیوالی موسیقی کی تقریب میں دھماکے میں پندرہ افراد زخمی ہوئے۔ پولیس کی کارروائی میں حملہ آور مارا گیا۔ 19دسمبر 2016 میں جرمن دارالحکومت برلن میں ڈرائیور نے ٹرک شہریوں پر چڑھا دیا جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک اور 48 افراد زخمی ہو گئے۔ 22 مارچ 2017 میں لندن میں ایک حملہ آور نے برطانوی پارلیمان کے باہر ویسٹ منسٹر پل پر لوگوں کے اوپر گاڑی چڑھا دی۔ حملے میں چار افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوئے۔ پولیس کی کارروائی میں حملہ آورہلاک ہو گیا یہ حملہ اس وقت ہوا جب برطانوی وزیراعظم تھریسا مے پارلیمنٹ میں موجود تھیں ۔
مغرب کے پالیسی سازوں کو سمجھ لینا چاہے کہ دراصل دہشت گرد کسی خاص مذہب یا نسل سے تعلق نہیں رکھتے ۔ آج روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم وستم خود اس سچائی کی گواہی دے رہا کہ بدھ مت کے پیروکار بھی معصوم اور نہتے افراد کے قتل عام میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ بھارت میں بے جے پی کا دومرتبہ برسر اقتدار آنا بتا رہا کہ پڑوسی ملک کی سیاست اور میڈیا میں ہندو انتہاپسند غیر معمولی حثیثت حاصل کرچکے۔ بابری مسجد کی شہادت اور گجرات میں ہونے والا مسلمانوں کا قتل عام اس حقیقت کو بیان کررہا کہ ہندو دہشت گرد بھارت میں نہ صرف موجود ہیںبلکہ مسلمانوں سمیت اقلتیوں کے ساتھ ظلم وزیادتی کی کئی کاروائیوں میں بھی پیش پیش ہیں۔
افسوس کہ اس بات کا امکان کم ہے کہ امریکہ میں دہشت گردی کا تازہ واقعہ دنیا کی اکلوتی سپرپاور ہونے کی دعویدار ریاست کو اپنے طرزعمل پر سوچنے پر مجبور کردے۔ ٹھیک کہا جاتا ہے کہ طاقت اندھی ہوا کرتی ہے۔غالب امکان ہے کہ امریکہ کسی طور پر اپنی ان خامیوں کو اعلانیہ تسلیم نہیں کریگا جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر اسے خفت کا سامنا کرنا پڑے لہذا یہ کہنا مشکل ہے کہ کہ آخر کب تک دہشت گردی کا الزام محض مسلمانوں تک محدود رہیگا۔

Scroll To Top