چوہدری اعتزاز احسن کے ذہن کے دو فیوز! 22-03-2012

kal-ki-baatچوہدری اعتزاز احسن نے اپنے موکل وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کی صفائی میں جو دلائل دیئے ہیںوہ آپ ٹی وی پرسُن بھی چکے ہوں گے اور اخبارات میں پڑھ بھی چکے ہوں گے۔ یہ دلائل مجھے نجانے کیوں اپنے لڑکپن کے زمانے کی طرف لے گئے۔ یہ 1950ءکے زمانے کی بات ہوگی۔ تب میں گیارہ برس کا ہوں گا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ بجلی اس زمانے میں بھی ہوا کرتی تھی مگر اس تواتر کے ساتھ آیا جایا نہیں کرتی تھی جس تواتر کے ساتھ آج کل آتی جاتی ہے۔ اگر جاتی بھی تھی تو لوڈشیڈنگ کی وجہ سے نہیں لوڈ کے گھٹنے بڑھنے سے پیدا ہونے والے تکنیکی نقص کی وجہ سے جاتی تھی۔
مجھے پہلی بار فیوز اُڑنے کا مطلب اسی زمانے میں سمجھ میں آیا جس کی میں بات کررہا ہوں۔ جب بجلی جاتی تھی میں جاکر فیو ز چیک کیا کرتا تھا۔ جو فیوز اُڑا ہوتا تھا اسے دوبارہ لگا لیا کرتا تھا۔
انسان کا ذہن بھی ایک طرح کا کنٹرول میٹرہے جو پورے انسانی وجود میں برقی روتقسیم کرتا ہے۔ کوئی بھی فیوز اُڑ جائے تو اس سے منسلک نظام اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے۔
چوہدری اعتزاز احسن کے دلائل سُن کر مجھے یوں لگا کہ جیسے اُن کے دماغ کے دو فیوز بیک وقت اُڑے ہوں۔ ایک کامن سنس کا فیوز اور دوسرا ضمیر کو کنٹرول کرنے والا فیوز۔۔۔

Scroll To Top