اس کارِ ثواب کے لئے کون آگے بڑھے گا ؟

الیکشن 2017ء بل میں جو ترمیم سینٹ نے نہایت پراسرار مگر شرمناک انداز میں منظور کی اگر وہ قومی اسمبلی میں بھی منظور ہو کر صدر ممنون حسین کے دستخطوں کے ذریعے قانون کا درجہ اختیار کرلیتی ہے اور اس کے نتیجے میں ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ سے غیر صادق اور غیر امین قرار دیا جانے والا نا اہل وزیراعظم اپنی سیاسی پارٹی کی صدارت پر دوبارہ فائز کردیا جاتا ہے تو پھر یہ پوری پارلیمنٹ ایسے ” دودھ“ کی مانند سمجھی جائے گی جس میں کسی نجس جانور نے اپنی غلاظت انڈیل دی ہو۔۔۔
کیا ایسا ” دودھ“ اس قابل سمجھا جائے گا جسے پیا جائے ۔۔۔؟ کیا ایسا دودھ سمندر میں بہا نہیں دیا جائے گا۔۔۔؟
کیا ایسی پارلیمنٹ کو مملکت خدادادِ پاکستان یا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام کا نمائندہ ادارہ سمجھا جاسکتاہے جس نے کذب بیانی اور ضیانت کو قانونی تحفظ دیا ہو۔۔۔؟
اگرنہیں تو کیا ایسی قومی اسمبلی کو ایک خطرناک حد تک شکستہ عمارت قرار دے کر گرانا اور اس کے مکینوں کے لئے نئی عمارت تعمیر کرنا کارِ ثواب نہیں ہوگا۔۔۔؟

Scroll To Top