ڈیل کا فائدہ صرف شریف خاندان کو ہوگا

zaheer-babar-logoشریف خاندان کی مشکلات جوں بڑھ بڑھ رہی ہیں قومی میڈیا یہ خبریں تواتر کے ساتھ نمایاں طور پر شائع ہورہی کہ موجودہ حالات کا رخ موڈنے کے لیے کہیں نہ کہیں کسی نہ شکل میں ڈیل کی کوشش کی جارہی ۔ اس ضمن میں ماضی کے واقعات کی بنیاد پر کہا جارہا ہے کہ ایسا ناممکنات میں سے نہیں کہ مسلم لیگ ن کی قیادت کسی ایسے بندوبست کی خواہشمند ہو جو انھیں عارضی طور پر ہی سہی مسائل کی گرداب سے نکال باہر کریں۔ اس پس منظر میں ایک خبر یہ سامنے آئی کہ شریف خاندان نے خود کو بحران سے نکالنے کے لیے پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مبینہ منصوبہ کو آگے بڑھانے کے لیے برطرف وزیراعظم نواز شریف نے معروف رئیل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض سے ملاقات بھی کی۔ سابق وزیراعظم کی رہائش گاہ جاتی عمرا پر نواز شریف اور ملک ریاض کے درمیان ہونے والی ملاقات میں وزیراعلی پنجاب شہباز شریف بھی شریک تھے۔کم وبیش تقریبا 2 گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات کی خبریں سامنے آنے کے بعد صحافتی حلقوں میں اس بحث کا آغاز ہوگیا کہ کیا شریف خاندان اپنے لیے ریلیف حاصل کرنے کے لیے بیک چینل کوششوں میں مصروف ہے ، پاکستان مسلم لیگ ن کے ذرائع اس بات کی تصدیق نہیںکررہے۔
بیشتر قانونی و سیاسی حلقوں کے مطابق شریف خاندان کے خلاف جاری مقدمات اگر منطقی انجام تک نہ پہنچے تو اس سے عام آدمی کا قانون پر رہا سہا اعتماد بھی ختم ہوجائیگا۔ پاکستان کا باشعور طبقہ یہ کہنے میں حق بجانب ہوگا کہ قوائد وضوابط محض کمزروں کے لیے ہے بااثر افراد ہر طرح کی پابندی سے آزاد ہیں۔
سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے جب اقتدار سنبھالا تو میاں نوازشریف اور ان کا خاندان اقتدار سے محروم کردیا گیا۔ پھر چشم فلک نے دیکھا کہ ایک طرف شریف خاندان کے خلاف ملک کی مختلف عدالتوں میں مقدمات کا سلسلہ جاری تھا تو دوسری جانب انھیں قیدوبند سے نجات دلانے کے لیے علاقائی اور عالمی طاقتیں بھی متحرک ہوئیں۔ پھر یوں ہوا کہ قسمت کی دیوی شریف خاندان پر مہربانی ہوئی اور وہ شاہی مہمان بن کر عرصہ دس تک سعودی شاہی خاندان کے مہمان رہنے کے پابند بنا دئیے گے۔ مذکورہ معاملے کا اہم پہلو یہ رہا کہ میاں نوازشریف اور ان کا خاندان سختی کے ساتھ سابق صدر سے ڈیل کی تردید کرتا رہا۔ جلاوطنی کے دوران میاں نوازشریف اور ان کے بھائی شہباز شریف نے پاکستان آنے کی کوشش بھی کی مگر سعودی عرب اور ڈیل کی ضمانت دینے والے دیگر ممالک نے شریف فیملی کی یہ کاوش ناکام بنا دی۔
اس میں شک نہیں کہ اگر ماضی کی طرح اس بار بھی کوئی انتظام سامنے آتا ہے تو وہ خالصتا شریف خاندان کو فائدہ دیگا۔ میاں نوازشریف ایک بار پھر یہ کہہ سکتے ہیں کہ پانامہ لیکس ، وزرات عظمی سے محرومی سب کچھ ایک ہی منصوبہ کا حصہ تھا جس کی بنیاد پر انھیں قومی سیاست سے الگ کردیا گیا۔
تاحال یہ واضح نہیںکہ اس منصوبہ کو عملی شکل دینے کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی کس حد تک اپنا کردار ادا کرنے پر رضامند ہے۔ ایسے وقت میں جب میاں نوازشریف تیزی سے غیر مقبول ہورہے پی پی پی کا ن لیگ کا ساتھ دینا اس کے لیے سیاسی طور پر تباہ کن نتائج کا حامل ہوسکتا ہے۔ الیکشن 2018 زیادہ دور نہیں رہ گے لہذا احتساب عدالتوں میں شریف خاندان کے خلاف ہونے والی کاروائی جہاں ان کے مالی معاملات میں مبینہ طور پر بدعنوانی کا ثبوت فراہم کرسکتی ہے وہاں پی ایم ایل این کا ووٹر بھی ان سے مذید بیزار ہوسکتا ہے۔ حال ہی میں لاہور کے این اے 120 میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کو تمام تر کوشش کے باوجود قابل زکر حمایت میسر نہیںآسکی۔
شائد پاکستان اب بدل چکا۔ متحرک پرنٹ و الیکڑانک کے علاوہ سوشل میڈیا جس طرح متحرک ہے اس کی موجودگی میں معاملات زیادہ دیر چھپے نہیں رہ سکتے۔ ملکی عدالیتں بھی اپنی ساکھ بارے خاصی حساس ہوچکیں۔ سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کے پانچ رکنی بینچ نے جس طرح متفقہ طور پر میاں نوازشریف کی نااہلی کا فیصلہ دیا وہ مختلف عدلیہ کی موجودگی کا پتہ دے رہا۔ پی پی پی رہنما اعتزاز احسن کا یہ دعوی غلط نہیں کہ کم وبیش 35سال سے قومی سیاست میں فعال رہنے والی مسلم لیگ ن کی قیادت کے خلاف عدالتی فیصلے کم ہی سامنے آئے ۔
درپیش حالات دراصل اس لحاظ سے مایوس کن ہیں کہ شریف فیملی خود کو بدلنے کے لیے تیار نظر نہیں آتی ، وہ ایک بار پھر ماضی کے ان ہی ہتکھنڈوں کو آزمانے کے لیے کوشاں ہے جو کسی طور پر قابل تعریف نہیں۔ بادی النظر میں یہ کہنا غلط نہیں کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے ڈیل کی کوشش کسی طور پر کامیابی سے ہمکنار نہیںہونگی۔ یہ سمجھنے کے لیے افلاطون ہونا ضروری نہیں کہ آنے والے دنوں میں کسی بھی شکل میں کوئی بھی ڈیل ہوجاتی ہے تو اس کا فائدہ صرف اور صرف شریف خاندان کے حصہ میں آئیگا۔
ملک خارجہ اور داخلہ محاذ پر پچیدہ اور بڑے مسائل سے دوچار ہے لہذا قومی اداروں کو اپنا کردار اس انداز میں ادا کرنا ہوگا جس سے ان کا قد کاٹھ بڑھے۔ انفرادی اور گروہی مفادات کے لیے قومی تقاضوں کو پس پشت ڈالنے کی روایت کا پھر احیاءکیا گیا تو وہ یقینا ملک وملت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔

Scroll To Top