وزیراعظم۔۔۔ چوہدری نثار علی خان ! 20-03-2012

kal-ki-baat


اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پی ایم ایل )این(کی میڈیا برگیڈ بڑی تندہی کے ساتھ مصروفِ عمل ہے اور اپنے وہ فرائض نہایت ذمہ داری اور وفاداری کے ساتھ انجام دے رہی ہے جن کا معاوضہ اسے باقاعدگی کے ساتھ ماہانہ تنخواہ کی صورت میں بھی ملتا ہے اور دوسرے غیر رسمی طریقوں سے بھی۔ مگر اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ پروپیگنڈے کا ہتھیار اب اس قدر موثر اور مہلک ثابت نہیں ہو پا رہا جتنا کسی زمانے میں تھا۔یہی وجہ ہے کہ متذکرہ میڈیا برگیڈ قوم کو یہ باور کرانے میں خاطر خواہ طور پر کامیاب نہیں ہوسکی کہ تحریک انصاف کا جو گراف اکتوبر2011ءکے بعد ایک دم اوپر جانا شروع ہوگیاتھا اس میں آئی ایس آئی کا بڑا عمل دخل تھا۔ چوہدری نثار علی اس میڈیا برگیڈ کا حصہ تو نہیں مگر ان کے لئے بھی یہ خیال سوہانِ روح ہے کہ اگر آنے والے وقتوں میں کوئی ایسا سیاسی خلاءپیدا ہوا جسے پُر کرنے کے لئے ایک نئے وزیراعظم کی ضرورت پیش آئے گی تو سب سے آگے عمران خان ہوں گے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ چوہدری صاحب میاں برادران کے بعد اپنے آپ کو مسلم لیگ نون کے پلیٹ فارم سے وزارتِ عظمیٰ کا سب سے مضبوط امیدوار سمجھتے ہیں ` اور اندر ہی اندر وہ یہ بھی سوچتے ہیں کہ میاں نوازشریف نے جس ” جوش وولولے “ کے ساتھ فوج کو اپنے آپ سے متنّفر کیا ہے اس کے بعد میاں برادران کا اسلام آباد میں قدم جمانا بہت مشکل نظر آتا ہے۔ چنانچہ اگر حالات سید یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم بنا سکتے ہیں تو چوہدری نثار علی خان کو کیوں نہیں؟
خواب دیکھنے اور خواہشات پالنے پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔مگر ان کی تکمیل کے لئے آئی ایس آئی پر حملے کرنا ناگزیر نہ سمجھا جائے۔
جنرل (ر)احمد شجاع پاشا تو گئے۔ ان کی جگہ جنرل ظہیر الاسلام آگئے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ پی ایم ایل (این)کی میڈیا برگیڈ ان کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے۔ اور چوہدری نثار علی خان پھر کسی رات کے اندھیرے کو اپنی سیاسی پیش رفت کے لئے استعمال کرنے کی کامیاب کوشش کر پاتے ہیں یا نہیں۔

Scroll To Top