خدا اپنے بندوں سے ہمیشہ کے لئے نہیں روٹھتا!

aaj-ki-bat-logoخدا اپنے بندوں سے ہمیشہ کے لئے نہیں روٹھتا `یہ بات میں نے اپنے ایک کالم میں ساڑھے پانچ برس قبل لکھی تھی تب ملک میں آصف علی زرداری کا سکہ چلتا تھا۔۔۔

آج میں وہ کالم دوبارہ دہرارہا ہوں کیونکہ وہ دورِ خرابی آج بھی موجود ہے۔۔۔ صرف چہرے بدل چکے ہیں ۔۔۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب امید کے چراغ جلانے والے ہاتھوں میں اضافہ ہوچکا ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
پاکستان کو کون سا یا کیسا نظام ترقی کے اس راستے پر ڈال سکتا ہے جس کی منزل ” ایک اسلامی فلاحی مملکت “ ہوگی ` اس کے بارے میں متعدد آراءہو سکتی ہیں مگر اس حقیقت پر مکمل اتفاقِ رائے ہونا چاہئے اور ناگزیر طور پر ہوگا کہ نادان ` بدعنوان ` خود غرض اور نا اہل حکمرانوں کے ہاتھوں میں دنیا کا بہترین نظام بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتا۔ یقینی طور پر ہمار ے حکمران متذکرہ حقیقت کو تسلیم کرنے کے لئے ہر گز تیار نہیں ہوں گے۔ اور اس کی وجہ ناقابلِ فہم نہیں۔ بدصورت سے بدصورت آدمی کو بھی آئینے میں اپنا چہرہ نہایت پُرکشش دکھائی دیتا ہے۔ ہمارے حکمران بھی یہ دعو یٰ کرنے کے عادی ہیں کہ انہوں نے ملک کو شاہراہ ترقی پر گامزن کردیا ہے اور اگر انہیں حکمرانی کے چند سال مزید مل گئے تو جیسا پاکستان سامنے آئے گا اس کا نقشہ دیکھ کر قائداعظمؒ کی روح بھی فرطِ مسرت سے جھوم اٹھے گی۔ مگر جہاں تک عوام کا تعلق ہے ان کے اندر یہ احساس بڑی شدت کے ساتھ پیدا ہورہا ہے اور جڑیں پکڑ رہا ہے کہ اگر یہی نظام چلتا رہا اور یہی ’ ’ فرزندان و دخترانِ تقدیر“ اسے چلاتے رہے تو وہ وقت دور نہیں جب ان کے بدترین اندیشے حقیقت کا روپ دھارتے نظر آئیں گے۔
عوام کے بدترین اندیشے کیا ہیں ` اس کی وضاحت کرنا ضروری نہیں۔ مگر ہم سب کو مل کر یہ دعا ضرور کرنی چاہئے کہ ان اندیشوں کے حقیقت کا روپ دھارنے سے بہت پہلے رحمتِ الٰہی جوش میں آجائے ` اور اقبال ؒ اور جناحؒ کے پاکستان کو ان عفریتوں کے چنگل سے آزاد کرا دے جنہوں نے اسے اپنی شکارگاہ بنا رکھا ہے۔
شکارگاہ کی اصطلاح پر میرے ذہن میں وہ نعرے گونج اٹھے ہیں جو 12مارچ کو نیئر بخاری اور صابر بلوچ کے حلف اٹھانے پر سینٹ میں گونجے۔
شیروں کا شکاری
خطروں کا کھلاڑی
آصف زرداری آصف زرداری
پاکستان نہ تو شکار گاہ ہے اور نہ ہی کھیل کا میدان ۔
یہ اُس خواب کا نام ہے جو اقبال ؒ اور جناحؒ نے دیکھا تھا۔ اور اُس خواب کی تکمیل کے راستے میں جو جو شکاری اور جو جو کھلاڑی بھی حائل ہیں انہیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ حتمی فیصلہ خدا کرتا ہے۔
اور خدا اپنے بندوں سے ہمیشہ کے لئے نہیں روٹھتا۔
(یہ کالم 14مارچ 2012ءکو بھی شائع ہوا تھا)

Scroll To Top