قائد حزب اختلاف بدل جائیگا ؟

zaheer-babar-logo


قومی سیاست میں ایک اور پیش رفت یہ ہوئی کہ پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی تبدیلی پر اتفاق کرلیا۔ یہ بات اس لحاظ سے بھی اہمیت کی حامل ہے دونوں جماعتیں ماضی میں ایک دوسرے کی قیادت کے خلاف سخت موقف اختیار کرتی چلی آئیں۔
تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی قیادت میں ایک وفد نے گذشتہ روز ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز کا دورہ کیا اور ایم کیو ایم کی قیادت سے قائد حزب اختلاف کی تبدیلی پر بات کی۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما امین الحق کے بعقول کہ ان کی جماعت نے قائد حزب اختلاف کی تبدیلی کا اصولی فیصلہ کر لیا جس کے لیے اور تحریک انصاف کی مکمل حمایت کی جائیگی۔
سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ ملک میں تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال میں قائد حزب اختلاف کا کردار یقینا بڑھ چکا۔ پاکستان تحریک انصاف سمیت اپویشن کی سب ہی جماعتیں اس سچائی سے باخوبی آگاہ ہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات سے لے کر اب تک کسی طور پر حقیقی اپوزیشن کا کردار نہیں نبھا رہی۔ دراصل یہ تاثر بڑی حد تک حقیقت پر مبنی ہے کہ اگر پی پی پی ملکی سیاست میں اپنا بھرپور آئینی اور قانونی کردار ادا کرتی تو ملکی مسائل آج اس شکل میں ہرگز موجود نہ ہوتے جو اس وقت نظر آرہے۔
اب صورت حال یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں نگران وزیر اعظم اور قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کی نامزدگی کا معاملہ سامنے ہے۔ ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں یہ وثوق سے کہا جاسکتا کہ پی پی پی اپنے مخصوص مفادات کے حصول کے لیے کسی طور پر ن لیگ سے سودے بازی کرنے میں تامل کا مظاہرہ نہیںکریگی۔ ایک خیال یہ ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پی پی پی ایسی سیاسی فہم وفراست کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی جس کے نتیجے میں ملک کوبالخصوص اور پارٹی کو بالعموم کوئی سیاسی فائدہ ہوتا۔پاکستان پیپلز پارٹی کا المیہ یہ ہے کہ وہ جاری روش سے باز آنے کو تیار نہیں۔ سابق صدر زرداری کو قومی سیاست میں پی ایچ ڈی کے خطاب سے نوازا گیا مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ متحرمہ کی حادثاتی کو سالوں گزرنے کے بعد پی پی پی کے شریک چیرمین کی ”خداداد صلاحتیں “ظاہر نہیں ہوسکیں۔
اب صورت حال یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی 47 جبکہ تحریک انصاف کی 32 نشستیں ہیں، ایم کیو ایم کی 24، جماعت اسلامی کی 4 ، مسلم لیگ ق اور عوامی نیشنل پارٹی کے پاس دو، دو نشتیں ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی تبدیلی کے لئے چھوٹی پارلیمانی جماعتیں اور آزاد اپوزیشن ارکان فیصلہ کن کردار ادا کرینگے ۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے قائد حزب اختلاف کی تبدیلی کے عمل سے اپوزیشن جماعتیں شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ہیں لہذا تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے لئے اپنا قائد حزب اختلاف لانا آسان نہیں۔ ایوان میں تحریک انصاف کے 32 اورایم کیو ایم کے 24ارکان ملا کر کل 56 بنتے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے ایوان میں 47 ارکان ہیں تاہم تحریک انصاف کے 4 ارکان پارٹی سے منحرف ہیں۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے دستیاب اعداد وشمار کے مطابق ایوان میں اس وقت اپوزیشن جماعتوں اور آزاد ارکان کی کل تعداد 125 ہے ان میں فاٹا کے 6 ارکان سمیت 10 آزاد رکن بھی شامل ہیں۔
ایوان میں پیپلز پارٹی کے سب سے زیادہ 47، تحریک انصاف کے 32، ایم کیو ایم کے 24 ، جماعت اسلامی کے 4، عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ کے 2، 2 ، عوامی مسلم لیگ ، قومی وطن پارٹی ، بی این پی مینگل، آل پاکستان مسلم لیگ کا ایوان میں ایک ایک رکن موجود ہے۔ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی اگر خورشید شاہ کے مقابلہ میں متفقہ اپوزیشن لیڈر لاتی ہیں تو انہیں چھوٹی جماعتوں کو بھی ساتھ ملانا پڑے گا ۔ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کو اگر جماعت اسلامی ، عوامی مسلم لیگ کی حمایت حاصل ہو تو اس کے ارکان کی تعداد 62 بنتی ہے تاہم اس کے 4 ارکان نفیسہ عنائت اللہ خان خٹک، عائشہ گلالئی، ناصر خٹک، سلیم الرحمن گزشتہ عرصہ سے پارٹی پالیسی سے منحرف ہیں وہ اگر کسی کو ووٹ نہیں ڈالتے تو پی ٹی آئی کے لئے اس صورت میں قائد حزب اختلاف کے لیے اپوزیشن لیڈر کا عہدہ حاصل ممکن نہیں ہو گا۔
سمجھ لینا چاہے کہ ملکی سیاست میں جہاں حکومت کے لیے مشکلات بڑھ گئی ہیںوہی اپوزیشن کے لیے بھی یہ آسان نہیں رہا کہ وہ عوام کی نظروں میں باآسانی سرخرو ہوسکے۔ پاکستان کا باشعور شہری یہ سوال تواتر کے ساتھ پوچھ رہا کہ اگر حکومت اپنے فرائض منصبی احسن انداز میں ادا نہیں کررہی تو حزب اختلاف اپنی بنیادی زمہ داریاں نبھانے میں کہاں تک کامیاب ہوئی ۔جان لینا چاہے کہ پی پی پی کی مقبولیت میںکمی جہاں حکمران جماعت کی صورت میں ہوئی وہی بطور اپوزیشن لیڈر بھی اس کی پذائری میں کمی واقعہ ہوچکی۔یہ پیشنگوئی بھی کی جارہی کہ اگر پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنا طرزعمل بہتر نہ کیا تو وہ وقت دور نہیں جب اندرون سندھ میں پی پی پی کے لیے اپنا وجود قائم رکھنا مشکل ہوجائیگا۔ اب نئے قائد حزب اختلاف کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا یا نہیں یہ کہنا تو مشکل ہے مگر سچ یہ کہ اس پیش رفت کے نتیجے میں پی پی پی کی مشکلات میں مذید اضافہ ہوچکا۔

Scroll To Top