روہنگیا مسلمانوں کی پکار۔ عالمی ضمیر ہوبیدار

oسعدیہ انور


میانمار کی ریاست رخائن مےں5ستمبر2017سے شروع ہونےوالے فوجی آپرےشن کے دوران ہزاروں مسلمان بے گھر اور سےنکڑوں قتل کئے جا چکے ہےں۔ الےکٹرانک اور سوشل میڈیاپر روہنگیا بچوں اور خواتین کےساتھ ہونےوالے لرزہ خےزمظالم کی تصاویر اور ویڈیوز کے منظرِ عام پر آنے کے بعدعالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے میانمار حکومت اور فوج پر سخت تنقید کی ہے اور میانمار کی امن نوبل انعام ےافتہ وزیراعظم آن سان سوچی پر ان مظالم کو بند کرنے پر دباو¿ ڈالا ہے۔ میانمار کی فوج اور بدھ قوم پرست روہنگےا مسلمانوں کےساتھ انسانیت سوزاوربہیمانہ سلوک کررہے ہےں۔ اس پر مستزاد یہ کہ وہاں نہ تو کسی انسانی حقوق کی تنظیم کو اور نہ ہی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو جانے کی اجازت دیجارہی ہے۔ میانمار حکومت ان پسماندہ، کمزور اور پسے ہوئے لوگوں کی حفاظت کرنے مےں قطعی ناکام ہو چکی ہے۔ اسکی مجرمانہ خاموشی اور منافقانہ پالیسی کا اندازہ اس بات سے لگاےا جاسکتا ہے کہ19ستمبر2017کو آن سان سوچی نے اپنی قوم سے خطاب کیا اور روہنگےا کےساتھ ہونےوالی زیادتیوں کا ذکرکئے بغےر صرف یہ کہنے پر اکتفا کیاکہ میانمار مےں بسنے والی تمام اقلیتوںکا خیال رکھا جاتا ہے اور آئندہ بھی رکھا جائےگا۔حقیقت یہ ہے کہ سترکی دہائی سے شروع ہونےوالی میانمار حکومت کی امتیازی پالیسیوں کے باعث لاکھوں روہنگےا مسلمان اپنا گھر بار چھوڑ کر جہاں قوم پرست بدھ متوں کی اکثریت ہے، بنگلہ دےش ، انڈونےشیا ، ملائیشیا اورتھائی لےنڈ ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہےں۔2016 اور2017کے دوران روہنگےا مسلمانوںکے قتل، تشدد،تاوان، خواتین کی آبرورےزی حتّٰی کہ معصوم بچوں پر تشدداور بے رحمانہ قتل کے متعدد واقعات رونماہوئے جسکی وجہ سے روہنگےا مسلمانوں کی اےک بڑی تعدادمغربی میانمار مےں پناہ گزین ہو گئی ۔میانمار کے ہمسایہ ممالک کی سرد مہری اور ٹھوس اقدامات کے فقدان کے باعث پناہ گزینوں کے مسائل مےں کئی گنا اضافہ ہو گےا۔
روہنگےا مسلمان کون ہےں اور ان کےخلاف اےسی کارروائیاں کیوں کی جارہی ہےں؟ روہنگےا نسل کے مسلمان صوفی تعلیمات سے متاثرہ سنّی مذہب کے پےروکارہےں اور اےک اندازے کےمطابق10لاکھ روہنگےا مسلمانوں کی اکثریت میانمار کے رخائن صوبے مےں آباد ہے جو اپنی نسل، زبان، ثقافت اور مذہب کے اعتبار سے میانمار کے بدھ متوں سے مختلف ہےں جنکی وہاںاکثریت ہے۔ ہزاروں روہنگےا مسلمان پندرھویں صدی مےں جب یہاں آراگان بادشاہت قائم تھی اور یہ علاقہ بھارت کا حصہ تھا اور برما کہلاتا تھا، ےہاں آکر آباد ہوئے۔ انیسویں صدی ا ور پھربیسویں صدی کے اوائل مےں بھی سےنکڑوں مسلمان خاندان اس علاقے مےںآباد ہوئے اور یہ علاقہ اس وقت تاجِ برطانیہ کے زےرِ نگین تھا۔ 1948 مےں برما نے الگ ملک کی حےثیت سے آزادی حاصل کرلی ۔ ےکے بعد دیگرے کئی حکومتےں آئیں جنہوںنے 1989مےں ملک کا نام تبدیل کر کے میانمار رکھ دیا، روہنگیا مسلمانوںکو شہریت دےنے سے انکار کردیا اور انہےں بنگلہ دےش سے آئے ہوئے غےر قانونی مہاجرین کی حےثیت سے شمار کیا۔ نہ تو میانمار کی مرکزی حکومت اورنہ ہی رخائن ریاست کے بدھ قوم پرست "روہنگےا" کی اصطلاح کو ماننے پر تےار ہےں جو یہاںکے مسلمان 1950سے اپنی شناخت کےلئے استعمال کرتے آئے ہےں۔ روہنگےا کے ان مسلمانوںکےمطابق "روہنگ"کا لفظ روہنگےا زبان مےں " آراگان" کا مترادف ہے اور "گا"ےا "گےا"کا مطلب ہے "سے"۔ گوےا روہنگےا کا مطلب ہے "آراگان سے تعلق رکھنے والے" خود کو روہنگےا قرار دےکر روہنگےا مسلمان اس سرزمین کےساتھ اپنا رشتہ اور تعلق جوڑتے ہےں جو کبھی آراگان بادشاہت کا حصہ تھی۔پہلے1948اورپھر1962مےںان روہنگےا مسلمانوں کو مکمل شہریت سے قانونی طورپر محروم کر دیاگےا۔تاہم انہےں "White Cards"کے تحت میانمار کے عارضی رہائشی کے طور پر رجسٹر کرلیا گےا۔ 1990کی دہائی مےں روہنگےا اور غےر روہنگےا مسلمانوںنے وائٹ کارڈز حاصل کرلئے جو مکمل شہریت تونہیں دےتے تھے البتّہ اس سے انہیں کچھ حقوق کا تحفظ حاصل ہو جاتا تھا۔ 2014مےں جب اقوامِ متحدہ کی نگرانی مےں 30سال بعد مردم شماری کی گئی توابتداءمےں تو روہنگےا مسلمان اقلیت کو بطور روہنگےا اپنی شناخت کی اجازت دی گئی لےکن بدھ قوم پرستوںنے دھمکی دی کہ اگر اےسا کیا گےا تو وہ اس مردم شماری کا بائیکاٹ کر دےنگے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ میانمار کی حکومت نے روہنگےامسلمانوں کو کہا کہ انہیں صرف اس صورت رجسٹر کیا جائےگا جب وہ اپنے آپ کو روہنگےا کی بجائے بنگالی نسل کے طور پر رجسٹر کروائینگے۔2008مےں روہنگےا مسلمانوں کو وائٹ کارڈز کی بنیاد پر ووٹ کا حق دیا گےا لےکن فروری 2015مےں بدھ قوم پرستوں کے شدیداحتجاج کے باعث دباو¿ مےں آکر وائٹ کارڈزکے حامل روہنگےا مسلمانوں کو ووٹ دےنے کے حق سے محروم کردیا گےا اور انکے وائٹ کارڈز بھی منسوخ کر دئےے گئے۔
2015کے انتخابات مےں جسے تمام عالمی اداروںنے صاف شفاف قرار دیا کسی اےک مسلمان امیدوارنے بھی حصہ نہیں لیا۔ میانمار مےں شدید مسلمان مخالف جذبات کی وجہ سے حکومت کےلئے مسلمانوں کو سہولت دےنے ےا انکے حقوق کا تحفظ کرنےوالا کوئی اقدام کرنا سیاسی طور پر ناممکن ہو چکا ہے۔
میانمار حکومت نے مختلف پابندیاں لگاکرمسلمانوں کےساتھ امتیازی سلوک روا رکھا ہوا ہے ۔ شادی، خاندانی منصوبہ بندی، روزگار، تعلیم، مذہب اورآزادانہ آمدورفت پر شرائط اور پابندیاںعائدہےں۔ روہنگےا مسلمان جوڑوں کو صرف دو بچوں کی اجازت ہے۔ اسی طرح روہنگےا مسلمانوں کو شادی سے پہلے حکومت سے اجازت لےنا لازمی ہے جس کےلئے انہیں اکثر و بےشتر حکام کو رشوت دےنا پڑتی ہے اور دلہن کی تصویر بغےر سر ڈھانپے اور دولہے کی تصویر بغےر داڑھی دےنا پڑتی ہے۔ اسی طرح کسی نئے گھر مےں منتقل ہونے ےا اپنے علاقے سے باہر سفر کرنے سے پہلے روہنگےا مسلمانوں کو حکومت سے اجازت لےنا پڑتی ہے۔
رخائن ، میانمار کی سب سے پسماندہ اور غریب ریاست ہے جہاں غربت کی شرح 78 فیصد ہے جبکہ غربت کی قومی شرح37.5فیصد ہے۔رخائن مےں غربت کی انتہا، روزگار کے مواقعوں کی کمی ، انفراسٹرکچر کے فقدان اور مذہبی اختلافات نے بد ھ مت کے پےروکاروں اور روہنگےا مسلمانوں کے مابےن اےک خلیج حائل کر دی ہے۔2012 مےں مبےّنہ طور پراےک مسلمان مرد کے اےک بدھ عورت کی آبرورےزی اور قتل کے واقعے کے بعد مسلمانوں کےخلاف شدید تشدد کا آغاز ہوا جس مےں 280کے قریب مسلمان قتل کردئےے گئے، مسلمان بستیوں کو جلا کر خاکستر کر دیا گےا اور ہزاروں روہنگےا مسلمان اپنی جان بچانے کےلئے پنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔2017مےں بھی عسکریت پسند گروہ کے سرحدی چوکیوں اورسکیوریٹی اہلکاروں پر حملوںکے بعدمسلمانوں کی بستیوں کو آگ لگادی گئی اور سےنکڑوں معصوم لوگوں کو سنگدلانہ طریقوں سے تشدد کر کے قتل کر دیا گےا۔
تشدد کی ان کارروائیوں مےں بدھ قوم پرست پےش پےش رہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے بدھ قوم پرستوں کے اس تشدد کو انسانیت دشمن جرائم اور مسلمانوں کی نسل کشی سے تعبیر کیا۔
اےمنسٹی انٹرنےشنل کی 2015کی رپورٹ کے مطابق روہنگےا پناہ گزینوں کی اےک بڑی تعداد ےاتو بدحال کےمپوں مےں پناہ گزیں ہے ےا انسانی اسمگلنگ کرنےوالوں کے ہتھے چڑھ چکی ہے جو انہیں میانمار سے باہر نکالنے کےلئے بھاری معاوضہ طلب کرتے ہےں۔یہ حقیقت کہ ہزاروں روہنگےاپناہ گزیں میانمار مےں رہنے کی بجائے اےسی خطرناک کشتی مےں سمندری سفر کو ترجیح دے رہے ہےں جسکے ذریعے بحفاظت منزل تک پہنچنے کے امکانات کم ہی ہےں، یہ باور کرانے کےلئے کافی ہے کہ ان کےساتھ کےسا سلوک کیا جارہا ہے اور وہ کس بدحالی کا شکار ہےں۔
میانمار کے روہنگےا مسلمانوں کی اےک بدقسمتی یہ بھی رہی ہے کہ انکا کوئی ہمسایہ انہیں قبول کرنے ےا انکی مدد کرنے کےلئے تےار نہیںبلکہاس مسئلے مےں کئی کا طرزعمل قابل مذمت ہے جن مےں بھارت سرفہرست ہے اور جو مسلمانوں کےساتھ اپنی ازلی د شمنی نبھانے پر تےار بےٹھا ہے ۔2015مےں بھارت نے عسکریت پسندوں پر سرجیکل اسٹرئیکس کے بہانے روہنگےا بستیوںمےں کارروائیاں کیں جن مےں ان کا جانی و مالی نقصان ہوا۔ اےسی اطلاعات بھی مل رہی ہےں کہ بھارتی انتہا پسند اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بدھ قوم پرستوں کو مسلمانوں کےخلاف اُکسا رہے ہےںجو پہلے ہی اپنی معاشی بدحالی اور ابترصورتِ حال مےں مسلمانوںکے جانی دشمن بنے ہوئے ہےں اور بدھ قوم پرستوں کی کئی پرتشدد کارروائیاں 2002کے گجرات کے مسلم کش فسادات کی گہری چھاپ رکھتی ہےں۔
میانمار حکومت لاکھوں افراد کے گھر بار چھوڑنے اور ہزاروں افراد پر تشدد اور انکے قتل کے بعد بھی اےسے ٹھوس اقدامات کرنے مےں ناکام ہو چکی ہے جو روہنگےامسلمانوں کو امن و امان سے زندہ رہنے مےں ممد و معاون ثابت ہو۔
عالمی برادری بھی اب تک زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں کر پائی اور روہنگےا مسلمانوں کی داد رسی کےلئے کوئی اہم پےش رفت نہیں کی جاسکی ۔ اقوامِ متحدہ ، انسانی حق±وق کی عالمی تنظیموں اور بالخصوص اسلامی ممالک کی تنظیم کی یہ بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اےک طرف تو روہنگےا مسلمانوں پر ڈھائے جانےوالے مظالم کو فوری طور پر بند کروائیںاور ہنگامی بنیادوں پر انکی آبادکاری اور بحالی ممکن بنائےں اور دوسری طرف ان بےرونی قوتوں کی سرگرمیوں کو بھی روکےں جو جلتی پر تےل ڈال کر مزید خونرےزی کررہے ہےں۔
سب سے اہم یہ کہ روہنگےا مسلمانوں کے مسائل کو ہمےشہ کےلئے حل کرنے کی طرف بھی توجہ دےں اور مل بےٹھ کر کوئی اےسا حل تلاش کرےں جو انکے ساتھ ہونےوالی زیادتیوں اور ظلم و ستم کے سلسلے کو ہمےشہ کےلئے ختم کردے۔

Scroll To Top