آج کی بانسریاں اور آج کے نیرو 08-03-2012

kal-ki-baatروم جل رہا تھا اورنیرو بانسری بجارہا تھا۔
یہ محاورہ آج مجھے اس لئے یاد نہیں آرہا کہ پاکستان کومیں روم جیسا سمجھتا ہوں اور کسی ایک شخص کو نیرو جیسا۔
جل پاکستان ضرور رہا ہے۔ مہنگائی کی آگ میں بڑھتی ہوئی غربت کی آگ میں ۔ اور افلاس و یاس کے مارے ہوئے ان لوگوں کی آہوں کی آگ میں جن سے ان کی آخری امید بھی چھنتی نظر آرہی ہے۔
شایدکچھ لوگ یہ سمجھیں کہ ” آخری امید “ سے میری مراد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سپریم کورٹ ہے۔
مگر میری نظروں کے سامنے پاکستان کا ہر وہ ادارہ ہے جو فائرفائٹنگ کا کردار ادا کرسکتا ہے اور اس آگ کو بجھانا جس کے اختیار سے باہر نہیں۔
مگر آگ مسلسل بھڑکتی چلی جارہی ہے۔ پاکستان مسلسل جل رہا ہے۔ اور اوپر یہ کہ کوئی سمت ایسی نہیں جس سے بانسریوں کی آواز نہیں آرہی۔ گویایہاں نیرو بھی بہت ہیں ۔ اور بانسریاں بھی بہت۔
روم جب جلا تھا تو سچ مچ کی آگ سے جلا تھا۔ مگر جس آگ میں پاکستان جل رہا ہے اس کے شعلے ایسے طالع آزماﺅں کے ذہنوں میں ` دلوں میں اور ضمیروں میں پروان چڑھنے والی ” ہوس اقتدار “ سے اٹھ رہے ہیں جن کے لئے یہ ملک اٹھارہ کروڑ عوام کا بسیرا نہیں ` ان کے” شوقِ شکار “ کی تکمیل کے لئے بنائی جانے والی شکار گاہ ہے۔
اپنے وقت کے یہ ” نیرو “ یہ بھی نہیں سوچتے کہ اگر شکار گاہ پوری جل جائے گی تو پھر وہ اپنے” شوق ِ شکار“ کی تکمیل کیسے اور کہاں کریں گے۔ ایسا شاید وہ اس لئے نہیں سوچتے کہ انہیں معلوم ہے کہ باقی زندگی وہ سمندر پار موجود عشرت کدوں میں بسر کرسکتے ہیں۔
لیکن اوپر خدا بھی تو ہے۔۔۔
وہ خدا جس نے وقت مقررہ پر ہر نیرو `ہر نمرود` ہر شداد` ہر فرعون ` ہر قارون اور ہر ابوجہل کو اپنے انجام تک پہنچایا۔

Scroll To Top