کشمیری پاکستان کی بقا کی جنگ لڑرہے

zaheer-babar-logo


مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے چار حریت پسندوںکو شہید کرنے کا دعوی کیا ہے۔ قابض بھارتی فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق حریت پسندوں کو مقبوضہ وادی میں مختلف مقامات پر شہید کیا گیا جن میں ایک مسجد بھی شامل ہے۔
تاریخی طور پر کشمیر کے بڑے حصہ پر بھارت نے طاقت کے بل بوتے پر 27اکتوبر 1947 کو غاصبانہ قبضہ کیا پھر اپنے ناجائز و غاصبانہ تسلط جمانے کے بعد حق آزادی کا نعرہ بلند کرنے والے کشمیریوں پر ظلم و جبر کی انتہا کر دی جو آج بھی جاری ہیں۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں کم وبیش سات لاکھ مسلح بھارتی افواج موجودہ ہیں ۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل کی تازہ رپورٹ میںانکشاف کیا گیاہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بد ترین تشدد کی مثال قائم کر رہا ہے ۔ ٹھوس شوائد کی روشنی میں یہ بھی بتایا گیا کہ نوجوان کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد اب تک سینکڑوں کشمیریوںکو شہید کیاجاچکا اور مزید یہ کہ بھارت مختلف ملکوں سے کم و بیش ایک ارب ڈالرسالانہ کے حساب سے مہلک ہتھیار حاصل کررہا جن سے عملا محکوم ومظلوم کشمیریوں کی نسل کشی کی جاری ہے ۔
دراصل بھارت ایک طرف مقبوضہ وادی کے اندر اندھی طاقت کے استمال سے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو دبانے کے لیے کوشاں ہے تو دوسری جانب کنٹرول لائن کے علاقوں نکیال ، چکوٹھی ، لیپا ، تیتری نوٹ ، عباس پور اور کھوئی رٹہ کے علاوہ سماہنی میں درجنوں بار فائرنگ اورگولہ باری کر کے نہتے سرحدی علاقوں میں رہنے والے نہتے عوام کو شہید کررہا۔
اس میں شبہ نہیں کہ تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے کشمیریوںکی تیسری نسل بھارتی مظالم کے سامنے پوری جرات مندی کے ساتھ کھڑی ہے ۔مقبوضہ وادی میں ہونے والے ہر ظلم کا جواب اہل کشمیر زیادہ جوش و جذبے سے دے رہے ۔ زیادہ عرصہ نہیں ہوا جب بھارتی فوجیوںکی طرف سے پیلٹ گنوں کے ذریعے کشمیریوں کو اپاہج اور معذور بنایا گیا لیکن عزم وہمت کا پیکر بنے کشمیر ی نوجوان تواتر کے ساتھ پاکستان کا پرچم بلند کرکے پیغام دے رہے کل کی طرح آج بھی وہ پاکستان کو ہی اپنی واحد منزل سمجھتے ہیں۔
بھارت میں کانگریس حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے کیلئے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جس نے اپنی رپورٹ میں تجویز دی تھی کہ تنازعہ کشمیر طاقت کے زور سے حل نہیں ہوگا بلکہ اس مسئلہ کا واحد حل مذاکرات ہیں ۔ مذکورہ کمیٹی نے بھارت کی طرف سے جارحانہ پالیسی کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے یہ تنبیہ کی تھی کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے نوجوانوں بھارت کے خلاف مزید مشتعل ہونگے ، واضح رہے کہ مذکورہ کمیٹی میں سابق وزیر داخلہ چدم بھرم ، ڈاکٹر کرن سنگھ ، غلام نبی آزاد، طارق حمید و دیگر شامل تھے ۔ آج بے جے پی کی حکومت حقائق پر پردہ ڈالنے کیلئے تحریک آزادی کشمیر کو دہشت گردی سے جوڑنے کا واویلا کر رہی حبکہ اقوام متحدہ کے چارٹر پر یہ بات موجود ہے کہ محکوم قوتوں کی طرف سے آزادی کا علم بلند کرنا ان کا پیدائشی حق ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی کم وبیش آٹھ لاکھ مسلح افواج سے برسرپیکار کشمیری تمام تر مظالم کے باوجود پاکستان پرچم بلند کر رہے ۔ ایک خیال یہ ہے کہ مملکت خداداد پاکستان کی یہ آئینی ، قانونی اور اخلاقی زمہ داری کہ وہ بین الاقوامی سطح پر ان کے حق آزادی کی ترجمانی کر ے۔ افسوسناک ہے کہ کشمیریوں کی قربانیوں سے آنکھیں بند کر کے ملک کی سیاسی اشرافیہ ایسے مشاغل میںمصروف ہے جسے کسی طور پر مناسب نہیں کہا جاسکتا۔
آج بھارت پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کشمیریوں کی جائز جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کا نام دے رہا۔ عالمی سطح پر اس پاکستان کو انتہاپسندوں کا معاون سمجھا جارہا جو نائن الیون سے لے کر اب تک جانی ومالی قربانیاں دے رہا۔ دراصل دنیا کی بڑی اقتصادی منڈی ہونے کے سبب بھارت کے تمام جرائم پر طاقت ور ممالک خاموش تماشائی بنے ہیں۔ اس سچائی کو عملا نظر انداز کرنے میں کسی قسم کی ہچکاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا جارہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دیں مگر امریکہ کو یہ دکھائی نہیں دیتا ۔ بھارت نے افغانستان میں 65نام نہاد قونصل خانے کھول رکھے ہیں جو دہشت گردوں کی تربیت گاہ کا کام کر رہے ہیں جہاں سے داعش ، طالبان اور حزب الاحرار کے خود کش تیار کر کے پاکستان میں داخل کیے جاتے ہیں ۔
یقینا یہ نریندر مودی کی سفارتی کامیابی ہے اور ہماری ناکامی کہ بھارت کشمیر میں جاری ظلم وستم کے بارے میں حواب دہ نہیں۔ اس کے برعکس پاکستان پر امریکہ حتی کے چین بھی انتہاپسند گروہوں کے خلاف اقدمات اٹھانے کے لیے دباو بڑھا رہا۔ دوسری طرف حکومت کی مسلہ کشمیر سے سنجیدگی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن ہیں جو درحقیقت اس تنازعہ پر خاموش رہ کر بھارت کی مدد کررہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر کشمیریوں کا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑے ۔ دنیا بھر میں قائم پاکستانی سفارت خانے اپنے مظلوم کشمیری بہن بھائیوں کی حمایت میں آگے بڑھ کر اس سنگین مسئلہ سے عالمی برادری کو آگاہ کرنے میں اپنا حصہ ڈالیں۔یاد رکھنا ہوگا کہ کشمیری دراصل پاکستان کی بقا جنگ لڑرہے ہیں جن کی اخلاقی ، قانونی اور مذہبی بنیادوںپر حمایت کرنا بطور قوم ہماری اولین زمہ داری ہے۔

Scroll To Top