نواز شریف کی وطن واپسی کل احتساب عدالت میں طلبی

  • نواز شریف پی آئی اے کی پرواز 786 کے ذریعے پیر کی صبح 7 بجے وطن پہنچیں گے، وطن واپسی کے بعد ن لیگ سیاسی لائحہ عمل کا اعلان کرےگی ،مریم نواز کا مؤقف یکسر مسترد، ،حتساب عدالت میں پیش ہونے کا امکان ہے، نوازشریف کو دوبارہ مسلم لیگ ن کا صدربنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے
  • نواز شریف جارحانہ موڈ میں، نواز شریف کی واپسی میں شہباز شریف کا اہم کردار،حسن اورحسین نوازوالدہ کےساتھ لندن میں ہی رہیں گے، حسن، حسین ، مریم نواز اور کیپٹن صفدرکو بھی عدالت نے طلب کر رکھا ہے‘ عدم پیشی پر ناقابل ضمانت وارنٹ متوقع ہیں
  • ہمارے خلاف جن ججوں نے فیصلہ دیا، انہوں نے ہماری اپیل سنی اور اب وہی نگران بن گئے ہیں‘ نواز شریف، شہباز شریف کی لندن جانے سے قبل سیاسی قیادتوں سے صلاح مشورے، ایک غیر سیاسی شخصیت سے بھی ان کی اہم ملاقات ہوئی تھی

نواز شریفلندن(الاخبار نیوز) نوازشریف نے لندن سے فوری طور پر وطن واپسی کا فیصلہ کرلیا، احتساب عدالت میں پیش ہونے کا امکان ہے، نوازشریف کو دوبارہ مسلم لیگ ن کا صدربنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق نااہل سابق وزیر اعظم نوازشریف نے لندن سے فوری طور پر وطن واپسی کا فیصلہ کیا ہے، ذرائع کے مطابق نواز شریف نے یہ فیصلہ شہبازشریف سے ملاقات میں کیا، نوازشریف پیر کی صبح وطن واپس پہنچیں گے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ نواز شریف احتساب عدالت میں پیش ہونے کو تیار ہیں، شریف برادران کا مشترکہ مو¿قف ہے کہ ہم نے کچھ غلط نہیں کیا تو راہ فرارکیوں اختیار کریں؟ یاد رہے کہ نواز شریف کو احتساب عدالت نے26 ستمبرکو طلب کر رکھا ہے۔علاوہ ازیں نوازشریف کو دوبارہ مسلم لیگ ن کا صدر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی سے پولیٹیکل پارٹیزایکٹ میں ترامیم منظور ہونے تک مشاورت ہوگی۔مشاورت کے بعد نوازشریف کون لیگ کا صدر دوبارہ منتخب کیا جائے گا، مسلم لیگ نون کے رہنما مشاہداللہ خان نے بتایا ہے کہ نوازشریف کل صبح وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔نواز شریف پروازپی کے786سےاسلام آبادپہنچیں گے، مشاہداللہ خان نے مزید بتایا کہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار بھی پاکستان واپس آرہے ہیں، وزیرخزانہ اسحاق ڈار، وزیراعظم شاہد خاقان کے ہمراہ وطن واپس پہنچیں گے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ لندن میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کے دوران کیا گیا۔نجی ٹی وی کے مطابق کچھ پارٹی رہنماو¿ں نے نواز شریف کو نیب عدالت میں پیش نہ ہونے کا مشورہ دیا تاہم اس کے باوجود انہوں نے پیش ہونے کا فیصلہ کیا سابق وزیراعظم نوازشریف (کل) منگل کو احتساب عدالت میں پیش ہونگے ذرائع کے مطابق وطن واپسی کے بعد نواز شریف اعلیٰ سطح کا سیاسی اجلاس بھی طلب کریں گے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ وطن واپسی کے بعد ن لیگ سیاسی لائحہ عمل کا اعلان کرے گی اور بھرپور انداز میں سامنے آئےگی ،اس حوالے سے جب مسلم ن نواز کے ترجمان سینیٹر مشاہد اللہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس خبر کی تصدیق کی۔مشاہد اللہ نے کہا کہ نواز شریف پاکستانی رہنما ہیں اور پاکستان کے سب سے مقبول ترین رہنما ہیں جن کے ساتھ ناانصافی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف پاکستانی میں اپنا کردار ادا کرنے آرہے ہیں ،وہ ن لیگ اور پاکستانی عوام کے قائد ہیں۔انہوںنے کہاکہ ان کی واپسی کے ساتھ ہی لندن سے بیٹھ کر پارٹی چلانے کی باتیں غلط ثابت ہوگئیں۔اس سے قبل نواز شریف اور شہباز شریف کی ون آن ون ملاقات ہوئی جس میں مسلم لیگ (ن) کے سیاسی مستقبل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی نواز شریف کو پاکستان کے سیاسی حالات اور زمینی حقائق سے آگاہ کیا۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے لندن جانے سے قبل مولانا فضل الرحمان، چوہدری نثار علی خان، خواجہ سعد رفیق اور خواجہ حارث سمیت دیگر اہم رہنماو¿ں سے سیاسی امور اور ملکی سیاسی حالات پر صلاح مشورہ کیا تھا جبکہ ایک غیر سیاسی شخصیت سے بھی ان کی اہم ملاقات ہوئی تھی۔سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم پر کرپشن یا کمیشن کا کوئی کیس نہیں ہے ، ہم نے قوم کا کوئی پیسہ نہیں کھایا ، ہمارے خلاف 1972ءکے کاروبار کے معاملات پر ریفرنس بنائے جا رہے ہیں، ہمارے خلاف بات پانامہ سے شروع ہوئی مگر سزا اقامہ پر کیوں دی گئی، ہمارے خلاف ایک جج نے فیصلہ دیا ، اپیل بھی انہوں نے سنی اور نگران بھی اب وہ خود ہی بن گئے ہیں، یہ انصاف کا کون سا طریقہ ہے کہ ہمیں ناکردہ گناہوں کی سزا دی جا رہی ہے۔تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف وطن واپسی کے لئے ہیتھرو ائرپورٹ روانہ ہوگئے ہیں، روانگی سے قبل میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میرا ایساارادہ نہیں تھاکہ لندن بیٹھارہوں گااورواپس نہیں جاوں گا ، میں تو یہاں اہلیہ کی تیماردار ی اور علاج کے لئے آیا تھا اور اب میں واپس جا رہاہوں۔ ہم نے قوم کا پیسہ کھایا ہے اور نہ ہی ٹھیکوں میں کبھی پیسے کمائے ہیں، ہمارے خلاف کوئی بھی بات ثابت نہیں ہوسکی۔یہ کس قسم کا احتساب ہے کس قسم کا انصاف ہے ؟ ہمارے خلاف دائر کیے گئے ریفرنس کس قسم کے ریفرنس ہیں؟ پیسے کھانے کے یا کمیشن کے ریفرنس ہوتے یاتو ٹھیکے میں پیسا کمایاہوتا، کچھ نہیں ہے۔ہمارے 1972ءکے کاروبار کے معاملات کے گرد چیزیں گھمائی جا رہی ہیں۔ :بات پاناما کی تھی تو نا اہلی کی سزا بھی پاناماپر ہونی چاہیے تھی۔سزا پاناما کے بجائے اقامہ پر کیوں ہوئی ، سوچنے کی بات ہے۔ہم نے عدالت میں بار بار کہا کرپشن ،کک بیک یا کمیشن کا کیس نہیں ،ہم نے کوئی کرپشن نہیں کی ،سرکاری پیسا نہیں کھایامگر پھر بھی سزا دے دی گئی۔ عجیب طریقہ کار ہے کہ جن ججوں نے ہمارے خلاف فیصلہ دیا وہی ہماری اپیل سننے کے لئے موجود تھے اسی طرح جہاں بھی یہ یہ معاملہ جائے گا تو آگے بھی خود ہی موجو د ہوں گے۔

Scroll To Top