عمران خان نے فوری عام انتخابات کامطالبہ کر دیا

  • نا اہل آدمی کو پارٹی سربراہ بنانے کی قانون سازی کا دنیا میں کوئی نہیں سوچ سکتا ،وزیر اعظم پر ایل این جی کا کیس ہے، ، اپنے آپ کو احتساب کےلئے پیش کریں
  • ہائیکورٹ نے توہین عدالت معاملے پربلایاتوپیش ہوجاﺅں ، ، داعش کے جھنڈے اسلام آباد میں لگ رہے ہیں، حکومت کیا کر رہی ہے؟ چیئر مین پی ٹی آئی
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں، جہانگیر ترین و شاہ محمود قریشی بھی ان کے ہمراہ ہیں

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں، جہانگیر ترین و شاہ محمود قریشی بھی ان کے ہمراہ ہیں

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم شاہدخاقان عباسی نیا الیکشن کرانے کااعلان کریں اور نیا مینڈیٹ لیں ، نا اہل آدمی کو پارٹی سربراہ بنانے کی قانون سازی کا دنیا میں کوئی نہیں سوچ سکتا ،وزیر اعظم پر ایل این جی کا کیس ہے ، اپنے آپ کو احتساب کےلئے پیش کریں ، ہائیکورٹ نے توہین عدالت معاملے پربلایاتوپیش ہوجاﺅں گا ،الیکشن کمیشن پر اعتماد نہیں ، یہ ایک ایڈمنسٹریشن ادارہ ہے ، فاٹا کا خیبر پختونخوا میں فوری انضمام ہونا چاہیے۔ اتوار کو یہاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ ملک کے حالات گھمبیر ہیں اور اس وقت ملک میں بڑے کمزور وزیراعظم ہیں اور ان کی حیثیت نہیں ہے عمران خان نے کہاکہ نیا وزیراعظم کو آنا چاہیے جس کی حیثیت ہو کیونکہ شاہد خاقان عباسی تو اب بھی کہتے ہیں کہ نواز شریف ہی میرے وزیراعظم ہیں اور پھر سپریم کورٹ پر عدم اعتماد ظاہر کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں تھریسامے نے ڈیوڈ کیمرون کے بعد نئے انتخابات کرائے کیونکہ جمہوری ممالک میں ایسے طریقے اپنائے جاتے ہیں اس لیے جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے نیا مینڈیٹ لینے کی ضرورت ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ خدشہ ہے کہ شاہد خاقان عباسی اسی طرح شریف خاندان کو تحفظ دیں گے جس طرح پہلے سارے ادارے ان کو تحفظ دےرہے تھے۔عمران خان نے کہاکہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نیا الیکشن کرانے کا اعلان کریں اور نیا مینڈیٹ لیں کیونکہ جمہوریت کی مضبوطی کےلئے یہ ضروری ہے۔انھوں نے کہا کہ وزیراعظم کے غیرملکی اخبار کے انٹرویو میں وزیرخارجہ کی بات کو دہرایا گیا جبکہ وزیرخارجہ خواجہ آصف اور وزیرداخلہ احسن اقبال نے ہاو¿س ان آرڈرکرنے کوکہا ہے اور بھارت بھی یہی کہہ رہاہے۔انھوں نے کہا کہ وزارت خارجہ نے ٹرمپ کے بیان کے بعد کوئی لائحہ عمل تیار نہیں کیا جب امریکا میں یہ پالیسی بن رہی تھی تو ہمارا وزیرخارجہ کہاں تھے۔عمران خان نے کہاکہ اسحاق ڈار نے معیشت کو تباہ کردیا ہے ،قرضے بڑھتے جارہے ہیں اور ان کو اداکرنے کےلئے مزید قرضے لینے پڑرہے ہیں، پرویزمشرف سے کم پیپلز پارٹی کے دور میں ملک میں سرمایا کاری ہوئی اور اس سے کم مسلم لیگ(ن) کے دورمیں ہوئی۔ انہوںنے کہاکہ جب افغان پالیسی بن رہی تھی تو ہمارا وزیر خارجہ نہیں تھا کیوں کہ نواز شریف پاناماکیس میں لگے تھے اور اس کی فکر کسی کو نہیں تھی۔عمران خان نے کہا کہ کیا انہیں اب پتہ چلا کہ ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنا چاہیے ، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد یہ خود نہیں کررہے اور کہہ رہے ہیں کہ گھر ٹھیک کرنا ہے ، یہ اپنی فوج کو گندا کررہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم اب بھی کہہ رہے ہیں کہ میرا وزیراعظم نواز شریف ہے جبکہ 5 محترم ججز نے انہیں نااہل کیا، جیلوں میں جولوگ ہیں وہ بھی کہیں گے ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کو نہیں مانتے، تب یہ کیا کہیں گے ،اس کا مطلب یہ ہے کہ نواز شریف جو مرضی کریں کوئی انہیں ہاتھ نہیں لگا سکتا۔عمران خان نے کہا کہ کسی ملک کی جمہوریت میں ایسا بل کبھی پاس نہیں ہوا جو سینیٹ میں ہوا، یہ جمہوریت کو نقصان پہنچارہے ہیں، جمہوریت کا تقاضا ہے کہ وزیراعظم اپنے آپ کو احتساب کےلئے پیش کریں، وزیراعظم پر ایل این جی کا کیس ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں مطالبہ کرتاہوں کہ وزیراعظم کو نئے الیکشن کا اعلان کرکے نیا مینڈیٹ لینا چاہیے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو جمہوریت کی مضبوطی کے لیے نیا الیکشن کرانا چاہیے کیونکہ یہ جمہوریت کے لیے ضروری ہے، یہ جمہوریت کو کمزور کررہے ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے نہیں مان رہے۔ایک سوال پر عمران خان نے کہا کہ ہائیکورٹ نے توہین عدالت معاملے پربلایاتوپیش ہوجاﺅں گا۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن پر اعتماد نہیں، الیکشن کمیشن میں میرا وکیل پیش ہو رہا ہے، یہ ایک ایڈمنسٹریشن ادارہ ہے، اسے اختیار نہیں ہے کہ وہ توہین کا نوٹس دے۔چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ فاٹا کا خیبر پختونخوا میں فوری انضمام ہونا چاہیے ، اتفاق رائے ہے توحکومت فاٹاکوکے پی میں ضم کیوں نہیں کرتی۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ داعش کے جھنڈے اسلام آباد میں لگ رہے ہیں، حکومت کیا کر رہی ہے؟ اس طرح کے واقعات سے دنیا میں مزید سوالات اٹھیں گے۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ اشتہار وں میں خوشحالی بھی آرہی تھی تاہم اب پتہ چلا ہے کہ تاریخی قرضے لیے گئے اور قرضے بڑھتےجارہے ہیں اور قرضے ادا کرنے کے لیے قرضے لیے جارہے ہیں جبکہ سرمایہ کاری نہیں آرہی ہے اور برآمدات گر رہی ہیں۔بجلی کی پیداوار کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ دنیا کی سب سے مہنگی بجلی پاکستان میں بن رہی ہے، برصغیر میں سب سے مہنگی بجلی پاکستان میں بن رہی ہے۔

موجودہ حکومت خارجہ داخلہ اور معیشت اوردیگر محاذوں پر ناکام ،وزیراعظم شاہد خاقان عباسی قبل از وقت انتخابات کا اعلان کریں،عمران خان
وزیراعظم شاہد خاقان کی کوئی حیثیت نہیں ہے وہ نوازشریف کو وزیراعظم قرار دے کر عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کررہے ہیں
ہمیں خدشہ ہے کہ نااہل وزیراعظم نوازشریف اور ان کے خاندان کو نیب مقدمات میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ذریعے تحفظ دلانے کی کوشش کی جائے گی
وفاقی دارالحکومت میں داعش کے جھنڈے لگنے کاذمہ دار کون ہے؟موجودہ حکومت فوج کو گندا کرنے کوشش کررہی ہے
سینیٹر اسحاق ڈار جیسے ہی وطن واپس آئیں ان کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا جائے
نیو دہلی کی بولی بولتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی وزیر خارجہ خواجہ آصف اور وزیر داخلہ احسن اقبال نے ہاﺅس ان آرڈر کے بیانات دیئے ہیں
پی ٹی آئی چیرمین کا اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب
#/H
آئٹم نمبر….114
اسلام آباد(صباح نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے موجودہ حکومت کو خارجہ داخلہ اور معیشت اوردیگر محاذوں پر ناکام قرار دیتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے قبل از وقت انتخابات کے اعلان کا مطالبہ کردیا ۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی کوئی حیثیت نہیں ہے وہ نوازشریف کو وزیراعظم قرار دے کر عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کررہے ہیں ۔ ہمیں خدشہ ہے کہ نااہل وزیراعظم نوازشریف اور ان کے خاندان کو نیب مقدمات میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ذریعے تحفظ دلانے کی کوشش کی جائے گی ۔وفاقی دارالحکومت میں داعش کے جھنڈے لگنے کاذمہ دار کون ہے؟موجودہ حکومت فوج کو گندا کرنے کوشش کررہی ہے، سینیٹر اسحاق ڈار جیسے ہی وطن واپس آئیں ان کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا جائے ۔ نیو دہلی کی بولی بولتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی وزیر خارجہ خواجہ آصف اور وزیر داخلہ احسن اقبال نے ہاﺅس ان آرڈر کے بیانات دیئے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے اتوار کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی معیشت شدید بحران سے دوچار ہوچکی ہے ۔ ملکی و غیر ملکی قرضے غیر معمولی طور پر بڑھ چکے ہیں خارجہ پالیسی کا پتہ نہیں ہے امریکہ کی جانب سے پاکستان کو بدنام کرنے کے خلاف کوئی بولنے والا نہیں ہے اور جب یہ الزامات عائد کئے گئے اس وقت وزیراعظم کو پاناما کی پڑی ہوئی تھی ۔ انہوںنے کہا کہ ہاﺅس ان آرڈر کرنے کے بارے میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا فنانشل ٹائمز کو دیا گیا بیان انتہائی حساس معاملہ ہے ۔ وزیرخارجہ اور وزیرداخلہ نے بھی یہی بیان دیا یہ نیو دہلی کی بولی بول رہے ہیں اور یہ کچھ ڈان لیکس میں تھا ۔ انہوںنے کہا کہ یہ بیانات ان الزامات کا تسلسل ہیں اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے اس بیان نے پاکستان کو خطرے میں ڈال دیا ہے یہ کابینہ میں کیا کرتے رہے ان کو کس نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے روکا تھا ۔ انہوںنے کہا کہ اسلام آباد میں داعش کے جھنڈے لگ گئے ہیں کون اس کا ذمہ دار ہے ۔ باہر سے بھی پاکستان کو بدنام کیا جارہا ہے اور موجودہ حکمران بھی اپنے فوج کو گندا کررہے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ شاہد خاقان عباسی نوازشریف کو اب بھی اپنا وزیراعظم قرار دے رہے ہیں جوکہ پانچ رکنی عدالتی بینچ کے متفقہ فیصلے سے رو گردانی ہیں نوازشریف کو منی لانڈرنگ ، ٹیکس چوری ، غلط بیانی جیسے مقدمات کا سامنا ہے وہ جھوٹ بول رہے ہیں اور ان الزامات کے خلاف وہ کوئی ثبوت ہی پیش نہ کرسکے ۔ ایسی صورتحال میں وزیراعظم کی طرف سے نوازشریف کو اپنا وزیراعظم تسلیم کرنا جمہوریت کو کمزور کرنے کے مترادف ہے اگر وہ ایک نااہل شخص کو اپنا وزیراعظم مانتے ہیں تو جیلوں میں پڑے ہوئے قیدی اپنی سزاﺅں کو تسلیم کرنے سے انکار نہیں کردیں گے ۔ یعنی کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کہہ رہے ہیں کہ ان کا آقا جو چوری ڈاکہ ڈالے اسے کچھ نہ کہا جائے انہوںنے کہا کہ اس تو عام آدمی کا انصاف کے نظام پر اعتماد مجروح ہوگایعنی عام آدمی چوری کرے تو اسے کوئی انصاف حاصل نہیں ہوتا ۔ نوازشریف کو تین سو ارب روپے کا حساب کتاب دینا ہے انتخابی بل جمہوریت کے ساتھ مذاق ہے دنیا کا کوئی ایسا ملک بتائیں جہاں نااہل شخص کو سیاسی جماعت کا سربراہ بنانے کی قانون سازی کی جائے ۔ وزیراعظم شریف خاندان کو بچانا چاہتے ہیں شریف خاندان نے الزامات کو عدالتوں میں غلط ثابت کرنا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ وزیراعظم خود ایل این جی کیس سیکینڈل کے حوالے سے جواب دے ہیں ہیں اربوں ڈالر کے اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں بار بار طلبی کے باوجود منظر عام پر کیوں نہیں لایا جاتا ۔ شاہد خاقان عباسی کو اس حوالے سے جواب دینا ہے ان پر بہت بڑا دھبہ ہے 15سال کیلئے پاکستان کے ٹیکس گزاروں کے پیسوں سے ایل این جی کا اربوں ڈالر کا ٹھیکہ کرلیا گیا مگر قوم اس سے لاعلم ہے ۔ اورنج لائن منصوبے میں دو ارب روپے کی ڈیل ہے اور اس کو بھی خفیہ رکھا جارہا ہے ۔ چین کی سیکیورٹی ایکچینج کمیشن نے تسلیم کیا ہے کہ ملتان میٹرو کے منصوبے میں پونے دو ارب روپے کا کمیشن لیا گیا ہے جبکہ ہماری سیکیورٹی کمیشن اسے دبانے کی کوشش کررہی ہے ۔ پاکستان کو ہر طرف سے دبانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔بھارت اور امریکہ مل کر پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں ان حالات میں وزیراعظم عدالتی فیصلوں کو بھی نہیں مان رہے جمہوریت کو کمزور نہ کیا جائے قومی اسمبلی میں حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام ہوچکی ہے اور قومی اسمبلی کی کارروائی پر ہر ایک منٹ پر 60ہزار کا خرچہ آتا ہے جبکہ حکومت اسمبلی چلانے میں ناکام ہوچکی ہے یہ سارے منظر نامہ پر فوری طورپر فریش مینڈیٹ کی طرف جانا چاہیے ۔ وزیراعظم عام انتخابات کا اعلان کریں برطانیہ میں ایسا ہوچکا ہے وہاں یہ نہیں کہا گیا کہ مجھے کیوں نکالا بلکہ برطانوی وزیراعظم نے فریش مینڈیٹ لینے کا اعلان کیا ۔ اگر ہم نے جمہوریت مضبوط کرنی ہے تو صاف شفاف عام انتخابات کا اعلان کیا جائے ۔ اسحاق ڈار نے جھوٹ بول بول کر معیشت کا بیڑا غرق کردیا وہ وطن واپس آئیں تو ان کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا جائے جب عام آدمی کے کرپشن مقدمات کے حوالے سے کوئی حقوق نہیں ہیں تو اسے باہرجانے نہیں دیا جاسکتا ، اسحاق ڈار ،نوازشریف اور شریف خاندان کو یہ سہولت کیوں دستیاب ہے ہمیں خدشہ ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نئے مقدمات میں شریف خاندان کو تحفظ دینے کی کوشش کریں گے ۔

Scroll To Top