مگر بُت شکن کون بنے گا؟

aaj-ki-bat-logoپاکستان کو درحقیقت ایک حقیقی انقلاب کی ضرورت ہے۔ اور کوئی انقلاب تاریخ میں کسی انتخابی مہم یا انتخابی عمل کے ذریعے عمل میں نہیں آیا۔ انقلاب نے ہمیشہ معاشروں سے خون کا خراج مانگا ہے۔ ایسے معاشرے جو بدی کی ہر بلندی سے بھی اوپر چلے گئے انہیں قادرِ مطلق نے کسی انقلاب کے بھی قابل نہ سمجھا اور ان کے مقدر میں ہلاکت خیز طوفان ' خوفناک زلزلے اور تباہ کن سیلاب لکھ دیئے۔ اگر ہم قرآنِ حکیم پر ایمان رکھتے ہیں تو طوفانِ نوح سے واقف ہوں گے۔ ہمیں ان ہلاکت آفرین تباہیوں کا بھی علم ہوگا جو قومِ صدوم ' قومِ عاد اور قومِ ثمود کے مقدر میں لکھی گئیں۔ اس نوعیت کی آخری تباہی کا سامنا غالباً قوم ِثمود نے کیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے بعد بدی کی قوتوں نے انسانی تہذیب پرحملہ آور ہونے سے اجتناب کیا۔ بدی انسانی تاریخ کے ہر دور میں ابنِ آدم کے قائم کردہ معاشرے پر حملہ آور ہوتی رہی ہے۔ لیکن دینِ ابراہیم ؑ کے قیام کے بعد اصلاح کا عمل آفاتِ آسمانی کے نزول کے ذریعے نہیں انسانی معاشروں میں اٹھنے والی انقلابی تحریکوں کے ذریعے جاری رہا ہے۔

سب سے بڑا انقلاب تاریخ میں اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر اور بنی نوع انسان کے ہادیءاعظم حضرت محمد نے بپا کیا۔
اور آپ کی امت اس انقلاب کا تسلسل ہے۔ آپ کے حقیقی پیروکار وہ ہیں جو تاقیامت آپ کے قائم کردہ انقلاب کا پرچم بلند کرنے کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتے ہیں۔
میرا ایمان ہے کہ قیامِ پاکستان اسی انقلاب کی تجدید کے لئے عمل میں آیا تھا۔ اور یہ صرف میرا نہیں میرے ہر اس ہم وطن کا ایمان ہے جو فضا میں اللہ اکبر کی صدا بلند ہونے کے ساتھ ہی بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز ہونے کی تیاری کرتا ہے۔
آج پاکستان جس نظام کے شکنجے میں بے بس شکار کی طرح پھڑ پھڑا رہا ہے اسے ختم کئے بغیر انقلابِ محمدی کی تجدید نہیں ہوگی۔ اگر ہم اسی فاسد نظام کے ستونوں سے فلاح کی امیدیں وابستہ کئے نئی صبح کا انتظار کررہے ہیں تو یہ انتظار کبھی ختم نہیںہوگا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس ” نظامِ خرابی “ کے شکنجے سے نکلنے کا کوئی راستہ ہمارے سامنے نہیں۔
راستے کی نشاندہی تو چودہ سو برس قبل ہوگئی تھی جب آنحضرت نے ایک فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلا کام یہ کیا تھا کہ تمام بُت خدا کے گھر سے نکال باہر پھینکے تھے۔
اگر ہم واقعی انقلاب چاہتے ہیں تو ہمیں تقلید رسول کرنا ہوگی۔
بُت شکنی کے بغیر انقلاب کیسے آسکتا ہے۔؟
مگر بُت شکن کون بنے گا؟
(یہ کالم 29فروری 2012ءکو شائع ہوا تھا دوبارہ شائع کیا جارہا ہے)

Scroll To Top