جمہوریت زندہ باد !  جمہور زندہ درگور!!

aaj-ki-bat-logo

میاں نوازشریف صاحب نے فرمایا ہے :

” ہم دوسروں کو انقلاب کے نعرے لگانے اور عوام کو بے وقوف بنانے کا حق نہیں دے سکتے۔“
اگرساتھ ہی میاں صاحب اس جملے کا اضافہ کردیتے تو بات مکمل ہوجاتی۔” یہ حق صرف ہمیں حاصل ہے ۔“
دوسری طرف وزیراعظم صاحب نے فرمایا ہے:
” ہم جمہوریت کو مضبوط بنا کر اس کا مستقبل روشن کررہے ہیں۔“
جمہوریت کو مضبوط تر بنانے کے لئے وزیراعظم صاحب اپنے باقی خاندان کو بھی پارلیمنٹ میں بھیجنے کا پروگرام رکھتے ہیں۔ یوں جمہوریت کا مستقبل روشن تر ہوجائے گا۔ (اور” جمہور “ کے بھٹکتے رہنے اور ٹھوکریں کھانے کے لئے اندھیرے مزید گہرے ہوجائیں گے۔ )
جہاں تک صدر زرداری صاحب کا تعلق ہے ان کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ جمہوریت کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے لئے آئندہ کی قیادت کس کے سپرد کریں۔۔۔ بلاول بھٹو زرداری کے ۔۔۔آصفہ بھٹو زرداری کے ۔۔۔ یا بختاور بھٹو زرداری کے۔؟
استحقاق تینوں کا ہے۔ کیوں کہ تینوں کے ناموں کے ساتھ بھٹو بھی لگا ہوا ہے اور زرداری بھی۔
زرداری صاحب کبھی ایک کو ` تو کبھی دوسرے (یا دوسری ( کو سامنے لا رہے ہیں۔ امکان اس بات کا ہے کہ وہ آئین میں یہ ترمیم کرائیں گے کہ پریزیڈنسی کو پریزیڈیم (Presidium)میں تبدیل کردیا جائے تاکہ صدارت کے لئے تین کرسیاں رکھی جاسکیں۔
جمہوریت زندہ باد۔۔۔
جمہور۔۔۔ زندہ درگور
(یہ کالم اس سے پہلے 28فروری 2012ءکو بھی شائع ہوا تھا)

Scroll To Top