اس نظام میں عمران خان وزیراعظم بن بھی گئے تو وہ پاکستان کو عہدِ حاضر کی ریاستِ مدینہ کیسے بنا پائیں گے ؟

aaj-ki-bat-logo


ساہی وال کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے اپنی پارٹی کی مردہ رگوں میں کرنٹ دوڑا کر جان ڈالنے کی بے سود کوشش کی ہے۔۔۔ اس امر میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ پی پی پی کا ایک وفادار بنیادی ووٹ بنک آج بھی موجود ہے۔۔۔ اگرچہ یہ ووٹ بنک اپنی پارٹی کی قیادت سے مایوس اور ناراض ہے پھر بھی جب بھی اِن ووٹروں کو امید کی کرن نظر آتی ہے وہ باہر نکلتے ہیں۔۔۔ بلاول بھٹو زرداری اگر اپنے نام میں ” زرداری “ کی جگہ بے نظیر کو دے سکتے تو امید کی جس کرن کا ذکر میں کررہا ہوں اس میں ذرا زیادہ جان ہوتی ۔۔۔لیکن آدمی کو ورثے میں باپ کا نام ہی ملتا ہے۔۔۔ اور بلاول کے بس کی بات نہیں کہ وہ اپنے باپ کا نام بدل دیں۔۔۔ یا پھر اپنے باپ سے کہہ سکیں کہ اگر آپ مجھے چند برس کے لئے یہاں اکیلا چھوڑ دیں تو میں شاید اپنے نانا اور اپنی ماں کے سیاسی ورثے کو اپنے لئے ایک سیڑھی کے طور پر استعمال کرسکوں۔۔۔ لیکن ہو یہ رہا ہے کہ پی پی پی کی سیاست سانپ اور سیڑھی کا کھیل بن گئی ہے۔۔۔ بلاول دو قدم آگے چلتے ہیں اور زرداری نمودار ہو کر انہیں چار قدم پیچھے کھینچ لیتے ہیں۔۔۔

جب تک بلاول بھٹو کے نام کے ساتھ زرداری بھی چسپاں ہے کون مانے گا کہ پی پی پی ایک نظریاتی جماعت ہے ۔۔۔؟ زرداری صاحب کا پس منظر اگرچہ فیوڈل ہے لیکن اُن کی اور میاں صاحب کی نظریاتی پہچان ایک ہی ہے۔۔۔ مال۔۔۔ مال۔۔۔ مال۔۔۔ اور مال ہی مال۔۔۔
” جئے بھٹو “ کا نعرہ اب خود بھٹو مرحوم کی روح کو بھی سخت ناگوار گزرتا ہوگا ۔۔۔ میرے خیال میں تو بھٹو مرحوم کی ” روح “ بھی اس روز وفات پا گئی ہوگی جس روز چشم فلک نے ان کی صاحبزادی کو زرداری صاحب کے ساتھ رشتہ ءازدواج میں بندھتے دیکھا ہوگا۔۔۔
بات نظریاتی پہچان کی ہورہی ہے تو وقت آگیا ہے کہ عمران خان کرپشن کے خلاف جنگ سے ذرا آگے نکلیں اور قوم کو بتائیں کہ جس نظام کے ساتھ وہ برسرپیکار ہیں اُس نظام کی جگہ وہ کس نظام کو دینا چاہتے ہیں۔۔۔
لفظ ” تبدیلی “ میں اب بس اتنی ہی کشش رہ گئی ہے جتنی کشش ” روٹی کپڑا اور مکان “ کے نعرے میں ہے۔۔۔
یہ درست ہے کہ بہتر حکمرانی کے ذریعے ایک فرد دوسرے فرد سے بہترہونے کا تاثر پیدا کرسکتا ہے لیکن انقلاب بہتر حکمرانی سے نہیں بہتر نظام سے آئے گا۔۔۔
1973ءکے آئین کی کوکھ جس نظام کو جنم دے سکتی تھی دے چکی۔۔۔ اِسی نظام نے ہمیں یکے بعد دیگرے ایس حکمرانیوں کے ادوار تحفے میں دیئے جیسی حکمرانیوں کے جواب میں ” تبدیلی “ کا نعرہ بلند ہوا کرتا ہے۔۔۔
عمران خان ایک بڑے لیڈر ہیں۔۔۔ ایک کرشمہ ساز شخصیت ہیں۔۔۔ بڑے فیصلے کرسکتے ہیں بڑے کارنامے انجام دے سکتے ہیں۔۔۔ اورمیرے خیال ” نتائج آفرین“ بھی بن سکتے ہیں۔۔۔ لیکن اس نظام میں اگر وہ وزیراعظم بھی بن گئے تو وہ پاکستان کو عہدِ حاضر کی ریاستِ مدینہ کیسے بنا سکیں گے۔۔۔؟
جب ” اسلامی فلاحی مملکت“ کی بات ہوتی ہے تو ریاست کا صرف معاشی ڈھانچہ سامنے نہیں آتا` ریاست کی اخلاقی اور معاشرتی پہچان بھی سامنے آتی ہے۔۔۔
میں نہیں سمجھتا کہ ” قرآن“ کو ” روحِ حکمرانی “ بنائے بغیر اسلامی فلاحی ریاست قائم کی جاسکتی ہے۔۔۔ فلاحی بننے سے پہلے ریاست کا اسلامی ہونا لازمی ہے۔۔۔
عمران خان کو تبدیلی کا مفہوم کھل کر بیان کرنا ہوگا۔۔۔

Scroll To Top