محرم الحرام میں فرقہ وارانہ تشدداخوت کے قرآنی نظریات کی روح کے خلاف ہے

  • افتخار حسین بٹ

محرم الحرام میں وطن عزیز میں فرقہ واریت کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت فروغ دیا جا تا ہے۔اسلام اور پاکستان کی دشمن قوتیں ملک میں فرقہ وارانہ جنگ اور مذہبی تشدد کی آگ بھڑکا رہی ہیں اور محرم الحرام میں ان کی شر پسندی ہر حد سے آگے بڑھ جاتی ہے تا کہ پاکستان کو کمزور اور غیر مستحکم کیا جاسکے۔حال ہی میں ہونے والےفرقہ وارانہ اور مذہبی دہشت گردی کے واقعات اسی گھناو¿نے منصوبے کا شاخصانہ ہیں۔یوں تو تخریب کاری کی اس مہم کی سرپرستی دشمن ممالک کے خفیہ ادارے کررہے ہیں تا ہم القاعدہ ، داعش ،تحریک طالبان ، لشکر ِ جھنگوی اور ان کے مختلف دھڑے ہی بنیادی طور پر اسے سرانجام دے رہے ہیں۔القاعدہ اور داعش پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے مسلم ممالک کو فرقہ واریت اور اندرونی خلفشار کا نشانہ بنا چکے ہیں۔اب یہ انتہا پسند گروہ پاکستان کو بھی اسی صورتِ حال سے دو چار کرنا چاہتے ہیں۔
اسلام میں فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کی کوئی گنجائش نہیں اور قرآن مجید کی متعدد آیا ت ایسی روش کی مذمت کرتی ہیں۔لہذا اس بات میں کوئی شک نہیں کہ القاعدہ، داعش اور طالبان کی جہالت ان کے فرقہ وارانہ اور مذہبی نفرت پر مبنی نظریات کا باعث ہیں۔یہاں ہم قرآنی آیات کی روشنی میں فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کی اسلام میں نا پسندیدگی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔سورہ البقرہ کی آیت ۲۵۶ میں اللہ کا ارشاد ہے کہ "دین میں کوئی جبر نہیں ہے اور ہدایت گمراہی سےواضح ہوچکی ہے۔"یہ آیت ہمیں بڑا واضح حکم دیتی ہے کہ اسلام میں دینی معاملات میں جبر اور زور زبردستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ سورہ البقرہ کی آیت ۲۵۵ کو ہم آیت الکرسی کے طور پر جانتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کی ذات ،صفات اور افعال کا عظیم الشان بیان ہےجو ہر مسلمان کو دل سے عزیز ہے۔اللہ کی عظمت اور جلال کے بیا ن کے ساتھ اس حکم کا آنا یقیناً اس بات کی دلیل ہے کہ جب وہ خود انسانوں پر دین کے معاملے میں جبر نہیں کرتا تو کسی انسان کو ہرگز یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ایسا طرزِ عمل اختیار کرے۔چنانچہ سورہیونس کی آیت ۹۹ میں ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے "اگر آپ کا پروردگار چاہتا توزمین پر جتنے لوگ ہیں سب ایمان لے آتے۔ تو کیا آپ لوگوں پر سختی کرناچاہیں گے یہاں تک وہ ایمان لے آئیں"۔اس آیت مبارکہ میں اللہ سبحان و تعالیٰ کا آپ کو اسلام کی تبلیغ میں سختی برتنے سے منع کرنا ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔
القاعدہ اور داعش نے مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے مراکز اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں پر بے دریغ حملے کر کے شدید فساد مچایا ہو ا ہے۔تخریب کاری کا یہ جنون بھی قرآن کے احکام سے متصادم ہے۔ سورہ حج کی آیت ۴۰ میں واضح کہا گیا ہے"اگر خدا انسانوں کو ایک کی طاقت کے ذریعے سے دوسرے سے نہ ہٹائے رکھے تو راہبو ں کی خانقاہیں،عیسائیوں کےگرجے، یہودیوں کےمعابد اور مسلمانوں کی مسجدیں جہاں اللہ کا بہت نام لیا جاتا ہے کب کی گرائی جاچکی ہوتیں"۔یہ آیت بہت واضح طور پر بیان کررہی ہے کہ اللہ کی یہ ہرگز منشا ءنہیں ہے کہ ان عبادت گاہوں اور مذہبی مراکز کو گرایا یا تباہ کیا جائے۔ لہذا،مسجدوں، امام بارگاہوں ، خانقاہوں اور مزارات پر حملے کرنا کسی بھی صورت میں جہاد نہیں ہو سکتا۔
قرآن مجید میں مسلمانوں کو بار بار جتایا گیا ہے کہ وہ ایک امت ہیں اور انھیں فروہی مسائل میں الجھ کر فرقہ واریت کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔سورہ المومنین کی آیت ۵۲،۵۳،۵۴، میں ارشاد ہے کہ "اور تم ایک ا±مت ہو اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو مجھ سے ڈرتے رہو۔مگرلوگ پھر بھی بٹ جاتے ہیں اور ہرفرقہ اس پرخوش رہتا ہے جو اس کے پا س ہے تو انھیں اِسی کشمکش میں چھوڑدو۔"یقیناً ہر مسلمان آپ کے قرب کا متمنی رہتا ہے۔ اس لیے ہمیں یہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ فرقہ واریت ہمیں اس سعادت سے محروم کرسکتی ہے۔سورہ انعام کی آیت ۱۶۰ میں ارشاد ہے" جن لوگوں نے اپنے مذہب کو بانٹ دیا اور فرقہ ،فرقہ ہو گئے آپ کا ا± ن سے کوئی تعلق نہیں۔ا±ن کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اور وہ انھیں جتا دے گا جووہ کرتے رہتے ہیں"۔یہ آیت بہت واضح طور پر بتاتی ہے کہ فرقوں میں بٹ جانے والے مسلمان آپ کی شفقت سے محروم رہ جائیں گے"۔
اسی طرح قرآن کی بہت سی آیتوں میں مسلمانوں کو اتحاد کا درس دیا گیا ہے اور فرقہ واریت کو مسلمانوں کی قوت میں کمزوری کا باعث بتایا گیا ہے۔
سورة العمران کی آیت ۱۰۳ میں فرمانِ الہی ہے" اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور فرقہ فرقہ مت ہونا"۔ سورہ العمران کی آیت ۲۰۰ میں اللہ کا حکم ہے" اے ایمان والو،ثابت قدم اور مضبوط رہو، اور ایک جماعت کی صورت اکھٹے رہو او رخدا سے ڈرتے رہو تا کہ تم فلاح پا جاو¿"۔سورہ انفال کی آیت ۴۶ میں اللہ فرماتے ہیں" اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو مت ایسا نہ ہو کہ تمہارے دل کمزور پڑ جائیں اور تمہاری طاقت جاتی رہے"۔
ان آیات کی روشنی میں اچھی طرح سے واضح ہو جاتا ہے کہ اسلا م میں فرقہ واریت ،مذہبی انتہا پسندی اور منافرت کی ہرگز گنجائش نہیں۔لہذا عوام کو ہر قسم کے گروہ سے اجتناب کرنا چاہیے جوا سلام کے نام میں جبر اور تشددکرنے کے مرتکب ہوں۔ القاعدہ ،داعش اور طالبان اپنی جہالت کے سبب سے قرآن کی محض جہاد سے متعلق آیت کی غلط تشریح پیش کرتے ہیں اور یہ گروہ قرآن کی مکمل تعلیمات سے آگاہی نہیں رکھتے۔سورہ الحجرات کی آیت ۹۱،۹۲ میں اللہ کا فرمان ہے۔"اور جنھوں نے قرآن کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا آپ کے پروردگار کی قسم ، ہم ان سب کاضرور مواخذہ کریں گے"۔
یقیناً یہ دہشت گرد اور انتہا پسند گروہ ایسے ہی انجام کے مستحق ٹھہریں گے۔ ہمیں اس انجام سے بچنے کے لیے ان گروہوں کو مکمل طور پر رد کردینا چاہیے۔
سورہ الکافرون سے بڑھ کر فرقہ وارنہ ہم آہنگی اور مذہبی رواداری پر کوئی سبق نہیں ہو سکتا۔سورہ الکافرون میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے "آپ فرما دیجیے کہ" اے کافرو! میں اس کی عبادت نہیں کرتا تم جس کی عبادت کرتے ہو۔میں جس کی عبادت کرتا ہوں تم اس کی عبادت نہیں کرتے۔میں اس کی ہرگز عبادت نہیں کروں گا جس کی عبادت تم کرتے ہو۔تم اس کی عبادت نہیں کرو گےجس کی عبادت میں کرتا ہوں۔تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین"۔اس سورہ مبارکہ کا پیغام بڑا واضح اور پر زور ہے۔ مسلمانوں کو دیگر فرقوں یا مذاہب کی عبادت اور ان کی عبادت گاہوں میں ہرگز مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
یہی ہمارے دین کا درس ہے اور یہی انسانیت کی معراج ہے۔لہذامساجد کے اماموں اور خطیبوں کو چاہیے کہ وہ آمدہ محرم الحرام میں قرآنِ مجید کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے پیغام کو عام کریں۔عوام الناس خود بھی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے نفرت انگیز تقریریں کرنے والے انتہا پسند رہنماو¿ں اور ان کے کارندوں کی منفی سرگرمیوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری طور پر مطلع کریں تا کہ دہشت گردی کے واقعا ت کو ہونے سے روکا جاسکے۔ ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن کریم کے اخوت کے نظریات اور امن پسندی کو معاشرے میں عام کرے۔

Scroll To Top